Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

چار سعودی شہروں کے لیے جاری الرٹس واپس، حوثی حملوں نے سکیورٹی خدشات بڑھا دیے

سعودی عرب نے پیر کو چار جنوبی شہروں میں ممکنہ خطرے کے حوالے سے جاری کیے گئے انتباہات واپس لے لیے ہیں۔
یمن میں ایران نواز حوثیوں کے حملوں کے بعد سرحد سے ملحقہ سعودی علاقوں میں سکیورٹی سے متعلق خدشات بڑھ گئے ہیں۔
عرب نیوز کے مطابق محکمہ سول ڈیفنس کی جانب سے نجران، خمیس مشیط، جازان اور ابھا کے لیے الرٹس جاری کیے گئے تھے تاہم بعدازاں علاقوں کو محفوظ قرار دیا گیا جس کے تھوڑی دیر بعد خمیش مشیط اور ابھا کے لیے دوبارہ وارننگز جاری کی گئیں جن کو بعدازاں واپس لے لیا گیا۔
حوثیوں کے حملوں کی خلیجی اور مسلم تنظیموں کے ساتھ ساتھ کئی ممالک نے شدید مذمت کی اور سعودی عرب کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔
خلیج تعاون کونسل ( جی سی سی) اور اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کی جانب سے بھی سعودی عرب کی حمایت اور حملوں کی شدید مذمت کی گئی ہے۔
سول ڈیفنس نے یہ وارننگز سعودی عرب کے جنوبی علاقوں میں حوثیوں کی جانب سے کئی روز سے جاری میزائل اور ڈرون حملوں کے بعد جاری کیں جن میں شہری اور اقتصادی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔
سنیچر کو حوثیوں کی جانب سے داغا گیا ایک میزائل جازان کی الطوال گورنریٹ میں گرا جس کے نتیجے میں دو افراد زخمی ہوئے۔
سعودی سول ڈیفنس کا کہنا ہے کہ اس حملے میں ایک مسجد، کئی عمارتوں اور گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچا۔
اس سے چند روز قبل بھی ابھا،خمیس مشیط، جازان اور نجران میں مختلف مقامات پر حملے کیے گئے تھے جن کے نتیجے میں 73 افراد زخمی ہوئے اور ان میں خواتین اور بچے بھی شامل تھے۔
حوثی یمن کے شمالی اور سب سے زیادہ آبادی رکھنے والے علاقوں کے زیادہ تر حصے پر قابض ہیں، جولائی میں ان کی جانب سے سعودی عرب کی بحری ناکہ بندی کا اعلان کیا گیا اور اس کے بعد انہوں نے مملکت کی طرف حملوں کا سلسلہ تیز کیا ہے۔

بحیرۂ احمر میں بھی سعودی عرب سے تعلق رکھنے والے بحری جہازوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
توانائی کا انفراسٹرکچر خطے میں
ملک کے جنوبی علاقوں پر حوثیوں کے حملوں کے ساتھ ہی تیل کی تجارت کے حوالے سے اہم ترین چینلز میں سے ایک پر بھی حملہ کیا گیا ہے۔
پچھلے ہفتے عراق سے ڈرونز کے ذریعے حملوں میں سعودی عرب کی ایسٹ ویسٹ آئل پائپ لائن کو نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں ریاض اور مدینہ کے علاقوں میں چند افراد کے زخمی ہونے اور املاک کو نقصان پہچنے کی اطلاعات بھی سامنے آئیں۔
سعودی وزارت توانائی نے احتیاطی قدم کے طور پر پائپ لائن کو عارضی طور پر بند کیا جبکہ ہنگامی طور پر تکنیکی ماہرین نے اس کو محفوظ بنانے کے لیے اقدامات کیے اور نقصان کا جائزہ لیا گیا۔
عراق کے وزیراعظم علی الزیدی کی درخواست پر سعودی عرب نے فوری جوابی کارروائی نہ کرنے کا فیصلہ کیا اور بغداد کو یہ موقع دیا کہ وہ اپنی سرزمین کو سعودی عرب اور پڑوسی ممالک کے خلاف استعمال ہونے سے روکے۔
عراق نے ان حملوں کی مذمت کرتے ہوے تحقیقات کا حکم دیا اور کہا کہ اس کی سرزمین اور فضائی حدود دوسرے ممالک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دی جائے گی۔
یہ پائپ لائن سعودی عرب کے لیے خصوصی اہمیت کی حامل ہے کیونکہ اس کے ذریعے آبنائے ہرمز پر انحصار کیے بغیر خام تیل عالمی منڈیوں تک پہنچایا جا سکتا ہے۔
قریباً ایک ہزار 200 کلومیٹر طویل یہ پائپ لائن سعودی عرب کے مشرقی علاقوں میں موجود تیل کے ذخائر سے خام تیل بحیرۂ احمر کی بندرگاہ ینبع تک پہنچاتی ہے اور اس کے ذریعے آبنائے ہرمز سے گزرے بغیر ہی تیل برآمد کیا جا سکتا ہے۔

12 ستمبر کو حوثیوں کی جانب سے داغا گیا ایک میزائل جازان کی الطوال گورنریٹ میں گرا (فوٹو: عرب نیوز)

ایک ایسے وقت میں جب خطے میں جاری وسیع تر تنازع پہلے ہی تیل کی پیداوار، بحری نقل و حمل اور برآمدی راستوں کو متاثر کر چکا ہے، اس پائپ لائن پر حملے نے خطے میں توانائی کے وسائل کی فراہمی کو درپیش خطرات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔
باب المندب کے لیے مزید خطرات
اہم آبی گزرگاہ باب المندب کی سکیورٹی کے حوالے سے بھی خدشات بڑھ رہے ہیں جو بحیرۂ احمر کو خلیج عدن اور بحر ہند سے ملاتی ہے۔
یمن کے مغربی ساحل پر حوثیوں کی موجودگی اور باب المندب کے علاقے کی جانب ان کی مسلسل پیش قدمتی نے یہ خدشات پیدا کر دیے ہیں کہ مزید کشیدگی دنیا کے اہم ترین سمندری راستوں میں سے ایک کو خطرے میں ڈال سکتی ہے۔
حوثی اس سے قبل بحیرۂ احمر میں تجارتی جہازوں پر بھی حملے کر چکے ہیں جس کے باعث کئی بحری جہازوں کو لمبے چکر کاٹ کر جانا پڑ رہا ہے جس سے سامان کی فراہمی کے وقت میں اضافہ ہوا ہے۔

شیئر: