Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

بلوچستان: ریاست مخالف سرگرمیوں پر 95 اساتذہ سمیت 100 سرکاری ملازمین برطرف

بلوچستان حکومت نے صوبے بھر میں 100 سرکاری ملازمین کو ریاست مخالف بیانیہ چلانے کے الزام میں ملازمت سے برطرف کر دیا ہے۔
حکام کے مطابق بر طرف کیے گئے ملازمین میں سے 95 مختلف سرکاری جامعات کے اساتذہ ہیں۔ 
محکمہ داخلہ بلوچستان کے میڈیا معاون بابر یوسفزئی نے اتوار کو جاری بیان میں بتایا کہ ’برطرف کیے جانے والے ملازمین نے اپنے حلف کی سنگین خلاف ورزی کی اور سرکاری مراعات حاصل کرنے کے باوجود پاکستان مخالف بیانیے کو فروغ دیا۔‘ 
ان کا کہنا تھا کہ ’ریاست کے خلاف بیانیے پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہو سکتا اور سرکاری مراعات لینے کے باوجود پاکستان کے خلاف زہر اگلنے کو نہیں چھوڑا جائے گا۔‘
ان کے مطابق ’95 اساتذہ کی برطرفی کے علاوہ دو مزید اساتذہ کے خلاف کارروائی کے کیسز زیرِ التوا ہیں جبکہ محکمہ صحت کے تین اور دیگر محکموں کے دو ملازمین بھی برطرف کیے گئے، اس طرح مجموعی تعداد 100 ہو گئی۔‘ تاہم محکمہ داخلہ نے یہ تفصیل نہیں بتائی کہ برطرف اساتذہ کا تعلق صوبے کی کن یونیورسٹیوں سے تھا اور نہ ہی برطرف کیے گئے افراد کے نام، عہدے یا ان کے خلاف عائد الزامات کی نوعیت واضح کی گئی۔
اس سے قبل اساتذہ کی برطرفی کا انکشاف بلوچستان کے ایڈیشنل چیف سیکریٹری داخلہ حمزہ شفقت نے سنیچر کے روز وزیراعلیٰ سیکریٹریٹ کوئٹہ میں اسلام آباد سے آئے صحافیوں اور ٹی وی اینکرز کو ایک بریفنگ میں کیا تھا۔
بریفنگ میں شریک ایک صحافی نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ صوبے میں امن و امان اور انٹی سب ورژن سیل کے اقدامات سے آگاہ کرتے ہوئے محکمہ داخلہ کے حکام نے بتایا تھا کہ ’حکومتِ بلوچستان نے ریاست مخالف بیانیے اور آن لائن مواد پر نظر رکھنے کے لیے محکمہ داخلہ میں ایک مخصوص سیل قائم کر رکھا ہے۔‘ 
انٹی سب ورژن سیل کی جانب سے بریفنگ میں بتائے گئے اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ 12 ماہ میں 20 ہزار 117 لنکس اور مواد کی نشاندہی کی گئی جن میں سے 16ہزار 376 بند یا ہٹائے گئے۔ بلاک کیے گئے مواد میں فیس بک کا حصہ آٹھ ہزار 123، انسٹاگرام کا حصہ پانچ ہزار 351 اور ٹک ٹاک کا حصہ دو ہزار 576 رہا جبکہ مجموعی بلاکنگ کی شرح 81 فیصد بتائی گئی۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ ’اس کارروائی کا مقصد آن لائن پلیٹ فارمز پر مبینہ ریاست مخالف پروپیگنڈے کو روکنا اور ایسے سرکاری ملازمین کا احتساب کرنا ہے جو اس میں ملوث پائے گئے۔‘
واضح رہے کہ گزشتہ برس اگست میں وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز احمد بگٹی نے ایک پریس کانفرنس میں بتایا تھا کہ ’کوئٹہ کی سرکاری یونیورسٹی بیوٹمز کے گریڈ 18 کے لیکچرار ڈاکٹر محمد عثمان قاضی کو کالعدم تنظیم بلوچ لبریشن آرمی کے خودکش سکواڈ ’مجید بریگیڈ‘ کے لیے مبینہ سہولت کاری اور خودکش حملہ آوروں کو پناہ دینے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔‘
اس موقعے پر وزیراعلیٰ نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’بعض اساتذہ کی جانب سے طلبہ کی مبینہ ذہن سازی کا عمل عسکریت پسندی سے بھی زیادہ خطرناک ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’اگر اساتذہ یا پروفیسر دہشت گردی یا ریاست مخالف سرگرمیوں میں ملوث پائے گئے تو انہیں ہار نہیں پہنائے جائیں گے بلکہ قانون کے مطابق سزا دی جائے گی۔‘
وزیراعلیٰ کا مؤقف تھا کہ ’عسکریت پسند تنظیمیں تعلیمی اداروں کا رخ کر کے نوجوانوں کو گمراہ کر رہی ہیں جس کے پیش نظر محکمہ داخلہ میں مشکوک افراد کی نگرانی کا نظام سخت کیا گیا۔‘
وزیراعلیٰ کے مطابق ’محکمہ داخلہ میں ایڈیشنل سیکریٹری کی سربراہی میں ایک علیحدہ سیل قائم کیا گیا ہے جو دہشت گردی میں ملوث ہونے کے شبہے میں مشکوک افراد کی نگرانی کرتا ہے۔ ایسے افراد کو انسدادِ دہشت گردی ایکٹ کے تحت ’فورتھ شیڈول‘ میں شامل کیا جاتا ہے جو ان افراد کی فہرست ہے جن کی نقل و حرکت اور سرگرمیاں قانون کے تحت باقاعدہ نگرانی میں رکھی جاتی ہیں۔‘
وزیراعلیٰ نے بتایا تھا کہ ’حکومت نے تقریباً دو سے آڑھائی ہزار افراد خصوصاً سرکاری ملازمین کی تحقیقات کیں۔ ان میں سے کچھ کے نام بے گناہ ثابت ہونے پر فہرست سے نکال دیے گئے، کچھ سے وضاحت طلب کی گئی، جبکہ کچھ کو معطل یا برطرف کر دیا گیا۔‘

شیئر: