سعودی عرب اور اٹلی کا آبنائے ہرمز اور بحیرۂ احمر میں میری ٹائم سکیورٹی پر زور
سعودی اور اطالوی وزرائے خارجہ کی ملاقات کے بعد اعلامیہ جاری کیا گیا ( فوٹو ایس پی اے)
سعودی عرب اور اٹلی نے بدھ کو آبنائے ہرمز، باب المندب اور بحیرۂ احمر کے ذریعے کمرشل شپنگ کے تحفظ پر زور دیا ہے۔
سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان اور اٹلی کے نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ انتونیو تاجانی کے درمیان روم میں ہونے والی بات چیت میں غزہ جنگ بندی کو برقرار رکھنے، شہریوں تک بلا تعطل امداد کی فراہمی اور دو ریاستی حل کے نفاذ کے لیے عالمی کوششوں کی حمایت پر بھی زور دیا گیا۔
ایس پی اے کے مطابق دونوں وزرائے خارجہ کی ملاقات کے بعد جاری مشترکہ اعلامیہ میں عالمی اتحاد کے اجلاسوں کے نتائج کا خیر مقدم کرتے ہوئے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرار داد نمبر 2803 اور غزہ تنازع کے خاتمے کے لیے جامع منصوبے پر عمل درآمد کی حمایت کی۔
اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ بین المذاہب ہم آہنگی اور مکالمے، دو ریاستی حل کی بنیاد پر منصفانہ اور پائیدار امن کے قیام میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔
اعلامیے میں غزہ میں جنگ بندی برقرار رکھنے، غزہ پٹی کو غیر مسلح کرنے، انسانی امداد کی مستقل بنیادوں پر فراہمی اور بحالی کے ابتدائی اقدامات شروع کرنے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔ دونوں ممالک نے فلسطینی اتھارٹی کے اصلاحاتی کوششوں کی حمایت کا اعادہ کیا، مغربی کنارے میں آباد کاروں کے بڑھتے ہوئے تشدد کی مذمت کی اور فلسطینی شہریوں کے تحفظ کو ناگزیر قرار دیا گیا۔

دونوں ممالک نے مغربی کنارے کے کسی بھی حصے کے جزوی، مکمل یا عملی الحاق اور فلسطینیوں کی جبری دے دخلی کی بھی مخالفت کی۔
بین الاقوامی قانون، خاص طور پر بین الاقوامی انسانی قانون کے احترام پر زور دیتے ہوئے آبنائے ہرمز، بحیرۂ احمر، باب المندب، خلیج عدن اور دیگر بین الاقوامی آبی گزر گاہوں میں جہاز رانی کی آزادی اور سمندری تحفظ کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا۔
یمن کے حوالے سے تمام فریقوں پر زور دیا گیا کہ وہ جامع اور دیر پا سیاسی حل کے لیے تعمیری انداز میں مذاکراتی عمل میں شریک ہوں۔ مملکت پر حوثیوں کے حملوں کی مذمت کی اور بحیرۂ احمر اور باب المندب میں جہاز رانی کی آزادی کو لاحق خطرات پر تشویش کا اظہار کیا گیا۔

سعودی عرب اور اٹلی نے آبنائے ہرمز کی سٹریٹیجک اہمیت پر زور دیتے ہوئے سمندری آمد و رفت محدود کرنے والے کسی بھی یکطرفہ اقدام کو مسترد کیا۔
کھاد کی فراہمی اور غذائی تحفظ کے لیے قائم روم اتحاد سے اپنی وابستگی کا اعادہ کیا تاکہ سپلائی چین کو مضبوط بنایا جاسکے۔
مشترکہ اعلامیے میں سعودی عرب اور اٹلی نے دو طرفہ تعلقات میں جاری پیش رفت کا خیر مقدم کیا اور تمام اہم شعبوں میں تعاون کو مزید فروغ دینے پر اتفاق کیا گیا۔
