Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

ٹک ٹاک ویڈیو اور صرف ایک کمنٹ، جس پر دو نوجوان قتل ہو گئے

ویڈیو پر ہونے والا صرف ایک کمنٹ واقعے کی وجہ بنا (فوٹو: ٹک ٹاک)
دو دوست جن کی عمریں بمشکل 15 سے 17 سال کے درمیان تھیں، اپنے کام کاج سے فارغ ہو کر محلے کی آئس کریم کی دکان میں گئے اور اپنی من پسند آئس کریم کھانا شروع کی تو باہر سے ایک آواز آئی ہے۔
چند لمحوں میں یہ آواز گالی گلوچ میں تبدیل ہو گئی۔ باہر سے آواز دینے والا بھی اسی عمر کا ایک نوجوان تھا۔ دیکھتے ہی دیکھتے یہ گالی گلوچ تھپڑوں اور مکوں میں تبدیل ہو گئی۔ باہر سے جو نوجوان آئے تھے ان کے پاس خنجر اور چھریاں بھی تھیں۔
اوکاڑہ کے علاقے حویلی لکھا کے محلہ فریدیہ میں یہ واقعہ یکم اگست کی رات قریباً 10 بجے پیش آیا۔
تھانے میں درج ایف آئی آر کے مطابق مرکزی حملہ آور حمید اللہ خان نے آئس کریم کی دکان میں کھڑے بلال اور شرجیل کو چھریوں کے پے درپے وار کر کے شدید زخمی کر دیا۔ جس کے بعد زخمیوں کو ہسپتال منتقل کیا گیا تو دونوں ہی دم توڑ چکے تھے۔
اسی علاقے کے رہائشی سیف اللہ امین نے بتایا کہ ’جب بلال اور شرجیل آئس کریم کھا رہے تھے تو حمید اور اس کے ایک دوست نے گالی گلوچ شروع کی۔ یہ لڑائی کافی دیر جاری رہی اور پھر لوگوں نے ان کو چھڑوا دیا۔
پھر صورت حال اس وقت بدلی جب حمید نے خنجر نکالا اور پہلے بلال پر پیچھے سے حملہ کیا جب وہ گرا تو شرجیل اس کو بچانے کے لیے بھاگا تو اس پر بھی خنجر سے حملہ کر دیا۔
اس کے بعد گالی میں بھاگنے کی کوشش کرنے والے حمید اللہ کو لوگوں نے پکڑ لیا۔‘

پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے میں ملوث تینوں ملزموں کو گرفتار کر لیا گیا ہے (فوٹو: پنجاب پولیس)

بلال کے والد ندیم احمد کی مدعیت میں درج کی گئی ایف آئی آر میں حمید اللہ خان، طارق اور شکیل کو قتل کا ملزم قرار دیا گیا ہے، جن کے پاس خنجر اور چھریاں تھیں۔

واقعے کی وجہ کیا تھی؟

انچارج انویسٹی گیشن تھانہ حویلی نولکھا محمد عبدالرزاق نے اردو نیوز کو بتایا کہ  بات کرتے ہوئے بتایا کہ ’انتہائی معمولی بات سے یہ نوبت یہاں تک پہنچی، اب تک کی تفتیش میں جو بات سامنے آئی ہے اس میں یہ دو تین گروپ تھے دوستوں کے جو سوشل میڈیا پر اور واٹس ایپ پر متحرک تھے۔ اس واقعے سے تقریبا دو ہفتے قبل حمید گروپ کے کسی لڑکے کی ویڈیو پر مقتولین میں سے کسی نے کمنٹ کیا۔ جس کا برا منایا گیا اور ان کے پاس آئے تو اس دوران بھی ان کے درمیان کسی حد تک ایسی بات چیت ہوئی کہ معاملہ گالی گلوچ تک چلا گیا۔‘
انہوں نے بتایا کہ ’اس دوران سوشل میڈیا کے گروپس میں دونوں متحرک رہے۔ اگر دیکھا جائے یہ بات مذاق سے شروع ہوئی اور پھر انتہائی سنجیدہ رخ اختیار کر گئی۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ایف آئی آر میں نامزد تمام ملزمان کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔

واقعہ حویلی لکھا کے محلہ فریدیہ میں یکم اگست کو پیش آیا (فوٹو: فیس بک، حویلی لکھا مائی سٹی)

سیف اللہ بتاتے ہیں کہ ’جب ان دونوں گروپوں کی پہلی نوک جھوک ہوئی تو اس کے بعد حمید نے کچھ ویڈیوز اپنے ٹک ٹاک پر نشر کیں جن میں دیکھا جا سکتا ہے کہ اس کے ہاتھ میں خنجر ہے اور ایسے گانے کی ڈبنگ تھی جس میں بدلے کی بات کی جا رہی تھی اور بتایا جا رہا تھا کہ ہم لوفر ہوتے ہیں۔
یکم اگست کو حویلی لکھا میں دو نوجوان دوستوں کے قتل کے بعد خنجر والی ویڈیو اب ٹک ٹاک پر وائرل ہے۔
تاہم ملزمان اس وقت پولیس کی تحویل میں ہیں اور پولیس نے آلہ قتل برآمد کرنے کے لئے ملزمان کا جسمانی ریمانڈ لے رکھا ہے۔

شیئر: