Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

پمز ہسپتال واقعے میں ذمہ دار ٹھہرائے گئے افسران کے خلاف فوری مقدمہ درج کرنے کی ہدایت

چیئرپرسن کمیٹی نے سوال اٹھایا کہ سابق ای ڈی پمز کو بچانے کی کوشش کیوں کی جا رہی ہے؟ (فوٹو: اے ایف پی)
سینیٹ کی فنکشنل کمیٹی برائے انسانی حقوق نے پمز ہسپتال کے واقعے کی انکوائری رپورٹ میں ذمہ دار ٹھہرائے گئے افسران کے خلاف فوری مقدمہ درج کرنے کی ہدایت کی ہے۔
بدھ کو سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری کی زیرِ صدارت ہونے والے اجلاس کے دوران اس بات پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا کہ انکوائری رپورٹ کی واضح سفارشات کے باوجود ملوث افسران کے خلاف مقدمہ درج کیوں نہیں کیا گیا۔
فنکشنل کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے ایڈیشنل سیکریٹری وزارتِ صحت کا کہنا تھا کہ ’ہمارے پاس پمز کو چلانے کا باقاعدہ منصوبہ موجود ہے اور واقعے کے ذمہ داران کے خلاف بلا تفریق کارروائی کی جائے گی۔‘
اس پر قائمہ کمیٹی کی چیئرپرسن نے استفسار کیا کہ ’آپ صرف یہ بتائیں کہ کیا اب تک واقعے کی ایف آئی آر درج کی گئی ہے یا نہیں؟‘
چیئرپرسن نے سوال اٹھایا کہ ’تحقیقاتی کمیٹی کے چاروں ارکان کون ہیں اور ان کے عہدے کیا ہیں؟ مزید یہ بتایا جائے کہ جن افسران کو قصوروار ٹھہرایا گیا، کیا ان پر ایف آئی آر درج کی گئی؟
چیئرپرسن کمیٹی نے سوال اٹھایا کہ سابق ای ڈی پمز کو بچانے کی کوشش کیوں کی جا رہی ہے؟ ان کا کہنا تھا کہ ’ممکن ہے وزیراعظم اس رپورٹ سے مطمئن ہوں، مگر میں ہرگز نہیں ہوں۔‘
قائمہ کمیٹی نے اجلاس میں موجود اسلام آباد پولیس کے ایس پی ذیشان علی کو ہدایت کی کہ وہ سانحہ پمز میں نامزد افراد پر  فوری  ایف آئی آر  کا اندراج کریں۔
ہدایت ملتے ہی متعلقہ پولیس افسر اجلاس سے روانہ ہوئے اور کچھ دیر بعد واپس آ کر کمیٹی کو بتایا کہ انہوں نے ایف آئی آر کے اندراج کے لیے احکامات دے دیے ہیں اور اگلے 10 منٹ میں مقدمہ درج کر لیا جائے گا۔
تاہم جب کمیٹی نے کچھ دیر بعد دوبارہ پیشرفت کے بارے میں دریافت کیا تو انہوں نے بتایا کہ ایف آئی آر کا اندراج ہو رہا ہے۔

چیئرپرسن کمیٹی نے کہا کہ ’معلوم نہیں اب کس کے کہنے پر ایف آئی آر درج کی جائے گی۔‘ (فوٹو: اے ایف پی)

پولیس افسر نے جب بتایا کہ روزنامچے کی رپورٹ جمع کروا دی گئی ہے تو کمیٹی ممبران نے سخت ردِعمل دیتے ہوئے کہا کہ روزنامچے کی کوئی قانونی حیثیت نہیں، اصل سوال یہ ہے کہ ایف آئی آر درج ہوئی یا نہیں؟
کمیٹی کی واضح ہدایات کے باوجود مقدمہ درج نہ ہونے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے چیئرپرسن کمیٹی نے کہا کہ ’معلوم نہیں اب کس کے کہنے پر ایف آئی آر درج کی جائے گی۔‘
حنا ظریف قتل کیس پر بریفنگ
قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں اسلام آباد کے تھانہ کرپا کی حدود میں غیرت کے نام پر قتل ہونے والی حنا ظریف کے کیس کے حوالے سے بھی بریفنگ لی گئی۔
ایس پی اسلام آباد پولیس نے بریفنگ میں آگاہ کیا کہ کیس میں مقتولہ کے والد، بھائی، شوہر اور کزن نامزد ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ’چوتھے ملزم کزن کو گرفتار کرنے کے لیے گذشتہ روز بھی چھاپے مارے گئے ہیں جس  کے ملوث ہونے  کے  ثبوت ملے ہیں۔‘
پولیس حکام کے مطابق اب تک کی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ حنا ظریف پر فائرنگ ان کے بھائی نے کی تھی، جبکہ قتل کے بعد مقتولہ کے والد اور شوہر خود انہیں پولی کلینک ہسپتال لے کر آئے تھے۔


پولیس حکام نے آگاہ کیا کہ ’ملزمان کے استعمال میں رہنے والے تمام موبائل فونز کی فارنزک رپورٹ حاصل کی جا رہی ہے (فوٹو: اے ایف پی)

پولیس افسر نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ ’ابتدائی ایف آئی آر میں مقتولہ کے شوہر کی جانب سے یہ موقف اپنایا گیا تھا کہ اس کی اہلیہ کو اغوا کیا گیا ہے۔‘
تحقیقات کے مطابق مقتولہ مبینہ طور پر ہنی ٹریپ کا شکار ہو کر لاہور گئی جہاں وہ ایک شیلٹر ہوم میں مقیم رہی، تاہم اس کے والد اور شوہر اسے وہاں سے واپس اسلام آباد لائے جہاں اسے قتل کر دیا گیا۔
پولیس حکام نے آگاہ کیا کہ ’ملزمان کے استعمال میں رہنے والے تمام موبائل فونز کی فارنزک رپورٹ حاصل کی جا رہی ہے اور کیس میں قانونی کارروائی تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے۔‘

 

شیئر: