سہیل آفریدی کا دورۂ پنجاب، سیالکوٹ میں مشتبہ شخص پولیس کے حوالے
سہیل آفریدی نے دعویٰ کیا کہ وہ انہیں قتل کرنے کے لیے آیا تھا (فوٹو: سہیل آفریدی ایکس)
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کے پنجاب کے دورے کے دوران سیالکوٹ میں ان کی سکیورٹی ٹیم نے ایک مشتبہ شخص پکڑ کر مبینہ طور پر پولیس کے حوالے کیا جس کے بارے میں سہیل آفریدی نے دعویٰ کیا کہ وہ انہیں قتل کرنے کے لیے آئے تھے، تاہم گوجرانوالہ پولیس نے اس کی تردید کی ہے۔
وزیراعلیٰ سہیل آفریدی گذشتہ دو روز سے پنجاب کے دورے پر ہیں جہاں انہوں نے ابتدائی دو روز لاہور میں گزارے اور کل رات کو وہ سیالکوٹ پہنچے۔
سیالکوٹ کے مختلف علاقوں سے گزرتے ہوئے کارکنان نے ان کا استقبال کیا تاہم صبح ہوتے ہی وزیراعلیٰ کی ڈیجیٹل میڈیا ٹیم نے ان کی ایک ویڈیوز جاری کی جس میں وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے دعویٰ کیا کہ ’ایک داڑھی والے شخص نے انہیں قتل کرنے کی کوشش کی جسے پولیس کے حوالے کر دیا گیا ہے۔‘
اس ویڈیو کے بعد وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے ایکس پر بھی متعلقہ شخص کی تصویر شئیر کرتے ہوئے یہی دعویٰ دہرایا۔
سہیل آفریدی کے مطابق ایک داڑھی والے شخص کو ان کی سکیورٹی ٹیم نے اس وقت پکڑا جب وہ انہیں قتل کرنے کے لیے وہاں پہنچا تھا۔ وزیراعلیٰ نے دعویٰ کیا کہ مشتبہ شخص کے قبضے سے پستول بھی برآمد ہوئی اور اسے پولیس کے حوالے کر دیا گیا۔
تاہم گوجرانوالہ پولیس نے اس واقعے کے بارے میں جاری کیے گئے بیان میں اس شخص کی شناخت مختلف انداز میں بیان کی ہے۔ پولیس کے مطابق وہ شخص گوجرانوالہ پولیس کا کانسٹیبل مقدس علی تھا جو وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کی سکیورٹی ڈیوٹی پر مامور تھا۔ یاد رہے کہ متعلقہ مشتبہ شخص سادہ لباس میں ملبوس تھا۔
گوجرانوالہ پولیس کا کہنا ہے کہ مقدس علی نے موقع پر اپنی شناخت ظاہر کی اور اپنا محکمانہ شناختی کارڈ بھی پیش کیا۔ پولیس کے مطابق کانسٹیبل مقدس علی نے یہ بھی واضح کیا کہ وہ وزیراعلیٰ کی سکیورٹی ڈیوٹی پر تعینات ہے، اس کے باوجود وزیراعلیٰ کی پروٹیکشن ٹیم کے اہلکاروں نے اسے مبینہ طور پر تشدد کا نشانہ بنایا۔
پولیس کے بیان کے مطابق کانسٹیبل مقدس علی کو مبینہ طور پر ایس ایچ او سٹی وزیرآباد کی موجودگی میں تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ پولیس کے مطابق ایس ایچ او نے مداخلت کرکے کانسٹیبل کو اہلکاروں سے چھڑایا۔ گوجرانوالہ پولیس نے کانسٹیبل مقدس علی کا سروس کارڈ اور پولیس وردی میں ملبوس تصویریں بھی جاری کیں ہیں۔
واقعے کے بعد پنجاب کی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری نے بھی وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے بیان پر تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ مقدس علی ڈیوٹی پر موجود کانسٹیبل تھا اور اس کے پاس پولیس کا ڈیوٹی کارڈ موجود تھا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ واقعے کی تصویر میں ایس ایچ او کو موجود دیکھا جا سکتا ہے۔ عظمیٰ بخاری نے وزیراعلیٰ پر طنز کرتے ہوئے وزیرآباد میں ان کے مبینہ رویے کو ’پاگل پن‘ سے تعبیر کیا اور پیناڈول کا حوالہ بھی دیا۔
