Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

خضدار میں پی پی رہنما شفیق مینگل کی رہائش گاہ کے قریب فائرنگ، پانچ افراد ہلاک

میر شفیق الرحمان مینگل کی رہائش گاہ پر پہلے بھی حملے کیے جا چکے ہیں (ڈی جی پی آر کوئٹہ)
بلوچستان کے ضلع خضدار میں پیپلز پارٹی کے رہنما میر شفیق الرحمان مینگل کی رہائش گاہ کے قریب فائرنگ سے پولیس اہلکار سمیت کم سے کم پانچ افراد ہلاک جبکہ ایک زخمی ہو گیا ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ واقعہ بدھ کو علی الصبح تھانہ آڑینجی کی حدود میں آنے ڈیڑھ سو کلومیٹر کے فاصلے پر واقع اواک کے مقام پر پیش آیا جو ایک دشوار گزار پہاڑی علاقہ ہے۔
بتایا گیا ہے کہ مسلح افراد نے پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما میر شفیق الرحمان مینگل کی رہائش گاہ کے قریب لیویز کی ایک پرانی چوکی کو نشانہ بنایا، جہاں ان کا ایک محافظ اور ایک پولیس اہلکار تعینات تھا۔
مسلح افراد نے شفیق مینگل کے چار محافظوں کو موقع پر ہی ہلاک کیا، جن کی شناخت عبدالحئی، نعمت اللہ، یحییٰ اور نصیر احمد کے نام سے ہوئی ہے جبکہ ایک پولیس اہلکار نور محمد کو مسلح افراد اپنے ساتھ اغوا کر کے لے گئے اور کچھ فاصلے پر لے جا کر اسے بھی قتل کر دیا۔
پولیس کے مطابق حملے میں عبید اللہ نامی شخص زخمی بھی ہوا جبکہ حملے کے بعد مسلح افراد فرار ہو گئے۔
واضح رہے کہ یہ وہی مقام ہے جہاں گزشتہ سال جون میں میر عطا الرحمان کو ان کی رہائش گاہ پر فائرنگ کر کے قتل کر دیا گیا تھا جبکہ اس واقعے میں ان کا بیٹا مطیع الرحمان زخمی ہوا تھا۔
شفیق الرحمان حکومت کے حمایت یافتہ اور اسٹیبلشمنٹ کے قریب سمجھے جاتے ہیں جبکہ وہ کالعدم تنظیموں کے ہٹ لسٹ پر رہے ہیں۔
رواں سال جولائی میں خضدار کے علاقے  شہزاد ٹاؤن میں ان کی رہائش گاہ پر بھی کالعدم بلوچ لبریشن آرمی کی جانب سے منظم حملہ کیا گیا تھا جس میں خودکش حملہ آوروں اور بارود سے بھری گاڑی کا استعمال بھی کیا گیا  میر شفیق مینگل اس حملے میں بال بال بچ گئے تھے اور 20 سے زائد افراد ہلاک جبکہ 10 سے زائد زخمی ہوئے تھے۔
اسی طرح اگست میں خضدار کے علاقے توتک میں بھی ان کی رہائش گاہ پر حملہ کیا گیا تھا تاہم اس میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی تھی۔

شیئر: