Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

ہیومن رائٹس واچ کا طالبان سے اقوام متحدہ اور این جی او کے عملے کی رہائی کا مطالبہ

اقوامِ متحدہ نے اس ہفتے کے اوائل میں اپنے دو اہلکاروں کی گرفتاری کی تصدیق کی (فوٹو: ایچ آر ڈبلیو)
ہیومن رائٹس واچ نے حالیہ ہفتوں میں طالبان کی جانب سے متعدد گرفتاریوں کے بعد افغانستان میں اقوامِ متحدہ کے دو اہلکاروں اور چھ این جی او کارکنوں کی رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔
برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطاب ایچ آر ڈبلیو نے بدھ کو کہا کہ خواتین اور بچوں کی قانونی تحقیقاتی فاؤنڈیشن کے ساتھ کام کرنے والے چھ مرد عملے کو گذشتہ ماہ کابل دفتر سے ’زبردستی غائب‘ کر دیا گیا۔ اس این جی او نے خواتین اور بچوں کے حقوق پر امدادی پروگرام اور وکالت میں حصہ لیا ہے۔
ایک الگ واقعے میں ہیومن رائٹس واچ نے اقوامِ متحدہ کے افغانستان امدادی مشن کے دو افغان عملے کی رہائی کا بھی مطالبہ کیا، جنہیں اتوار کو طالبان انٹیلیجنس اہلکاروں نے مغربی شہر ہرات میں گرفتار کیا۔
طالبان حکومت کے چیف ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ وہ حالیہ گرفتاریوں کے بارے میں ’تفصیلات جمع کرنے کی کوشش کر رہے ہیں‘، لیکن انہیں ’حتمی وضاحت‘ موصول نہیں ہوئی۔
اقوامِ متحدہ نے اس ہفتے کے اوائل میں اپنے دو اہلکاروں کی گرفتاری کی تصدیق کی۔ اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے نائب ترجمان فرحان حق نے بدھ کے روز ایک بریفنگ میں کہا کہ ’یوناما کو ان کے خلاف الزامات سے آگاہ نہیں کیا گیا اور نہ ہی انہیں ملاقات کی اجازت دی گئی ہے۔‘
یہ گرفتاریاں صرف چند دن پہلے منظرِ عام پر آئیں، جب طالبان اس ہفتے کے روز اپنی اقتدار میں واپسی کی پانچویں سالگرہ منانے والے ہیں۔
افغانستان اب بھی بین الاقوامی امداد پر انحصار کرتا ہے، جو گذشتہ چند سالوں میں غیر ملکی امداد میں کٹوتیوں کے باعث کم ہو گئی ہے، لیکن امدادی گروپ اکثر طالبان پر اپنے کام میں رکاوٹ ڈالنے اور افغانستان کے لیے ڈونرز کی وابستگی کو نقصان پہنچانے کا الزام لگاتے ہیں۔
ہیومن رائٹس واچ نے کہا کہ طالبان سکیورٹی فورسز نے 21 جون کو کابل میں دفتر پر چھاپہ مارا، ملازمین کی اشیاء ضبط کیں اور دفتر کو سیل کر دیا، اس سے پہلے کہ عملے سے ان کی سرگرمیوں کے بارے میں پوچھ گچھ کی جاتی۔

 

شیئر: