بنگلہ دیش میں خواتین کو سرکاری ملازمت حاصل کرنے میں اب کس نئے چیلنج کا سامنا؟
بنگلہ دیش میں خواتین کو سرکاری ملازمت حاصل کرنے میں اب کس نئے چیلنج کا سامنا؟
بدھ 30 ستمبر 2026 7:21
سرکاری افسران کو خدشہ ہے کہ سرکاری سروس میں خواتین کی نمائندگی مزید کم ہوسکتی ہے: فوٹو اے ایف پی
بنگلہ دیش میں کوٹہ نظام ختم ہونے کے بعد سرکاری ملازمتوں میں خواتین کی تعداد میں نمایاں کمی سامنے آئی ہے۔
سرکاری ملازمتوں کے لیے ہونے والے حالیہ امتحان میں کامیاب امیدواروں میں خواتین کا تناسب 35 فیصد سے کم ہو کر 19 فیصد رہ گیا۔
فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق یہ تبدیلی 2024 کی طلبہ تحریک کے بعد سامنے آئی ہے، جس کی ایک بڑی وجہ سرکاری ملازمتوں میں کوٹے کے بجائے میرٹ کی بنیاد پر بھرتیوں کا مطالبہ تھا۔
تحریک کے نتیجے میں حکومت کا خاتمہ ہوا اور اب کوٹہ نظام بڑی حد تک ختم کر دیا گیا اور اب اس نئے سسٹم سے خواتین کو ملازمت حاصل کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔
17 کروڑ آبادی والے ملک میں اب 93 فیصد سرکاری ملازمتیں میرٹ پر دی جاتی ہیں، جبکہ سات فیصد نشستیں جنگ آزادی میں حصہ لینے والوں کے رشتہ داروں اور دیگر مخصوص گروہوں کے لیے مختص ہیں جبکہ خواتین کے لیے کوئی الگ کوٹہ نہیں ہے۔
ڈھاکہ یونیورسٹی سے فارغ التحصیل 25 سالہ توتھاپی آزاد نے کوٹہ ختم کرنے کے مطالبے کی حمایت کی تھی لیکن اب ان کا کہنا ہے کہ انہیں خواتین کے لیے کوٹہ برقرار رکھنے کی حمایت کرنی چاہیے تھی۔
انہوں نے بتایا کہ ’میرے جیسے شخص کے لیے، جسے خاندان کی حمایت حاصل تھی، شاید کوٹہ ضروری نہیں تھا، لیکن ایک عام عورت کے لیے یہ ضروری تھا۔‘
انھوں نے کہا کہ ’ملازمت خواتین کو بااختیار بنانے کا ذریعہ ہے۔ دیہی خواتین کے لیے یہ بقا کی حکمت عملی اور گھریلو تشدد کے خلاف مزاحمت کی ڈھال بھی ہے۔‘
خواتین کی ملازمتوں میں کمی
کوٹپ سسٹم ختم ہونے کے اثرات پولیس میں بھی نظر آ رہے ہیں: فائل فوٹو اے ایف پی
2018 تک گریڈ ون کی سرکاری ملازمتوں میں 56 فیصد نشستیں مختلف کوٹوں کے تحت مختص تھیں۔ ان میں خواتین کے لیے 10 فیصد، 1971 کی جنگ آزادی میں حصہ لینے والوں کی اولاد کے لیے 30 فیصد، جبکہ پسماندہ علاقوں اور معذور افراد کے لیے 16 فیصد نشستیں شامل تھیں۔
2018 میں طلبہ کے احتجاج کے بعد اس وقت کی وزی اعظم شیخ حسینہ نے کوٹہ نظام ختم کردیا تھا۔
2024 میں کوٹہ بحال کرنے کی تجویز سامنے آنے کے بعد دوبارہ طلبہ احتجاج شروع ہوا، جو بڑے پیمانے پر عوامی تحریک میں تبدیل ہوگیا اور بالآخر حسینہ حکومت کا خاتمہ ہوگیا۔
بنگلہ دیش پبلک سروس کمیشن (بی پی ایس سی) کے مطابق ہر سال تقریباً تین لاکھ امیدوار گریڈ ون کی صرف 2500 سے 3000 ملازمتوں کے لیے مقابلہ کرتے ہیں۔
2018 سے پہلے بھرتی ہونے والوں میں خواتین کا تناسب 35 فیصد تک تھا، تاہم گذشتہ امتحانی مرحلے میں یہ شرح 19 فیصد رہی۔
بی پی ایس سی کے ایک عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اے ایف پی کو بتایا کہ ادارہ اس نتیجے کو ’تشویش کے ساتھ دیکھتا ہے‘ تاہم اس کا کردار صرف امتحان منعقد کرنے تک محدود ہے۔
سابق سرکاری افسر اے کے ایم عبدل اول مجمدار میرٹ پر بھرتیوں کے حامی ہیں تاہم ان کا کہنا ہے کہ خواتین کو مقابلے کے لیے بہتر کوچنگ اور تیاری کی سہولت فراہم کی جانی چاہیے۔
حکومت بھی میرٹ کی بنیاد پر بھرتیوں کی حمایت کرتی ہے۔ پبلک ایڈمنسٹریشن کے وزیر محمد عبدالباری نے پارلیمان میں اسے ’ایک منطقی اصلاح‘ قرار دیا۔
تاہم بعض سرکاری افسران کو خدشہ ہے کہ سرکاری سروس میں خواتین کی نمائندگی مزید کم ہوسکتی ہے۔
20 سالہ تجربہ رکھنے والی ایک خاتون بیوروکریٹ نے اے ایف پی کو بتایا کہ ’اس وقت کم از کم 21 خواتین 21 اضلاع کی سربراہی کر رہی ہیں۔ 10 سال بعد سرکاری سروس میں اتنی خواتین نہیں ہوں گی۔‘
پولیس میں بھی خواتین کی کم نمائندگی
سرکاری ملازمتوں کے لیے ہونے والے حالیہ امتحان میں کامیاب امیدواروں میں خواتین کا تناسب 35 فیصد سے کم ہو کر 19 فیصد رہ گیا: فوٹو اے ایف پی
اس رجحان کے اثرات پولیس میں بھی نظر آ رہے ہیں۔ پولیس کے مطابق اس سال کانسٹیبل کے لیے کامیاب 2651 امیدواروں میں صرف 267 خواتین تھیں۔
سب انسپکٹر کے 184 کامیاب امیدواروں میں خواتین کی تعداد صرف چھ تھی، جبکہ سارجنٹ کے لیے کامیاب 96 امیدواروں میں ایک بھی خاتون شامل نہیں تھی۔
ایک پولیس افسر نے بتایا کہ ’ہم خواتین کے بغیر کام جاری نہیں رکھ سکتے۔ ہر پولیس سٹیشن میں خواتین اور بچوں کے لیے مخصوص ڈیسک موجود ہیں۔‘
پرائمری سکولوں میں تدریسی ملازمتوں کے لیے خواتین کا 60 فیصد کوٹہ بھی ختم کر دیا گیا ہے۔
ڈھاکہ یونیورسٹی کے شعبہ ترقیاتی مطالعات کے پروفیسر عاصف شہان کے مطابق سرکاری اداروں میں خواتین کی تعداد کم ہونے سے پالیسی سازی بھی متاثر ہوسکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’ان کے مسائل پالیسیوں میں منعکس ہوتے ہیں۔‘
کوٹے پر طلبہ میں اختلاف
کوٹہ ختم کرنے کے معاملے پر طلبہ میں بھی اختلاف پایا جاتا ہے۔ ڈھاکہ یونیورسٹی سٹوڈنٹس یونین کے کیریئر ایڈوائزر اور جماعت اسلامی کے حامی محمد مظہرالاسلام میرٹ کے نظام کی حمایت کرتے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ ماضی کے مقابلے میں اب لڑکیوں کے لیے اعلیٰ تعلیم کے مواقع بہتر ہیں۔
تاہم فلسفے کی طالبہ عادت الاسلام کا کہنا ہے کہ خواتین کا کوٹہ ختم کرنا درست فیصلہ نہیں تھا۔ان کے مطابق ’ہم نے ملک بھر کی خواتین کو ڈھاکہ یونیورسٹی کی طالبات کے معیار پر پرکھا‘
عادت الاسلام کا کہنا ہے کہ خواتین کا کوٹہ ختم کرنے سے حکومتی نظام متاثر ہو سکتا ہے اور کئی علاقوں میں سرکاری ملازمت کی خواہش رکھنے والی خواتین بھی امید کھو سکتی ہیں۔