Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

’خوارج‘ کو پناہ دینے کی پالیسی خود افغان طالبان حکومت کے گلے پڑ رہی ہے: کور کمانڈرز کانفرنس

پاکستان کی عسکری قیادت نے پڑوسی ملک افغانستان کی موجودہ صورتحال اور وہاں موجود پناہ گاہوں پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’افغان طالبان کی جانب سے شدت پسندوں کو محفوظ ٹھکانے فراہم کرنے کی پالیسی اب خود ان کے لیے نقصان دہ ثابت ہو رہی ہے اور دنیا کے سامنے پوری طرح بے نقاب ہو چکی ہے۔‘
پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے منگل کو جاری کردہ بیان میں بتایا گیا کہ راولپنڈی میں جنرل ہیڈ کوارٹرز (جی ایچ کیو) میں چیف آف آرمی سٹاف اور چیف آف ڈیفنس فورسز، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی صدارت میں 275 ویں کور کمانڈرز کانفرنس منعقد ہوئی جس میں ملکی اور غیر ملکی سکیورٹی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
 بیان کے مطابق ’فورم اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ ملک سے دہشت گردوں کے نیٹ ورکس اور ان کے ہمدردوں کے ڈھانچے کو مکمل طور پر تباہ کرنے کے لیے آپریشنز کا موجودہ سلسلہ اسی رفتار سے جاری رکھا جائے گا۔‘
کور کمانڈرز کانفرنس میں جاری انسدادِ دہشت گردی کے آپریشن ’غضب للحق‘ کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا گیا کہ اس آپریشن کے ذریعے دہشت گردوں اور ان کے مددگاروں کو مسلسل کمزور کیا جا رہا ہے۔
’فورم نے افغان طالبان کی پالیسیوں کو غیر منطقی اور گمراہ کن قرار دیتے ہوئے کہا کہ افغان عوام کے مفادات کو پسِ پشت ڈال کر ’خوارج‘ اور دیگر دہشت گرد تنظیموں کو محفوظ پناہ گاہیں فراہم کرنے کی پالیسی خود طالبان حکومت کے گلے پڑ رہی ہے۔‘
عسکری قیادت نے افغان طالبان کی جانب سے پاکستان پر افغانستان کے اندر عام شہریوں کو نشانہ بنانے کے الزامات کو مسترد کر دیا۔
’فورم کا کہنا تھا کہ یہ الزامات طالبان حکومت کی ایک منظم اور جھوٹی مہم کا حصہ ہیں جس کا مقصد اپنی داخلی ناکامیوں سے توجہ ہٹانا اور مظلومیت کا کارڈ کھیلنا ہے۔‘
کانفرنس میں واضح کیا گیا کہ ’پاکستان کی دفاعی کارروائیاں انتہائی درست، ہدف کے مطابق اور صرف دہشت گردوں کی پناہ گاہوں اور دراندازی کرنے والوں کے خلاف ہیں۔‘

کور کمانڈرز کانفرنس میں ’معرکۂ حق‘ کی پہلی سالگرہ پر قوم اور مسلح افواج کو مبارکباد پیش کی گئی (فوٹو: آئی ایس پی آر)

خطے کی مجموعی سکیورٹی کا جائزہ لیتے ہوئے عسکری قیادت نے کہا کہ ’ابھرتی ہوئی جیو پولیٹیکل تبدیلیاں علاقائی استحکام پر گہرے اثرات مرتب کر رہی ہیں۔ فورم نے کشیدگی سے بچنے اور تحمل مزاجی کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان خطے میں استحکام کے لیے اپنا ذمہ دارانہ کردار ادا کرتا رہے گا۔‘
کور کمانڈرز کانفرنس میں ’معرکۂ حق‘ کی پہلی سالگرہ پر قوم اور مسلح افواج کو مبارکباد پیش کی گئی اور اسے قومی اتحاد اور خودمختاری کے تحفظ کا ایک تاریخی دن قرار دیا گیا۔
عسکری قیادت کا کہنا تھا کہ ’یہ دن انڈیا کی متکبرانہ سیاسی سوچ کے لیے ایک واضح پیغام ہے کہ پاکستانی قوم متحد ہے اور ہر چیلنج کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہے۔‘
بیان کے مطابق عوام، حکومت اور مسلح افواج تمام اندرونی و بیرونی خطرات کے خلاف ’بنیان مرصوص‘ (سیسہ پلائی ہوئی دیوار) کی طرح کھڑے ہیں۔
’فورم نے انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں جاری مظالم، ماورائے عدالت قتل اور وہاں کی آبادیاتی تناسب کو تبدیل کرنے کی کوششوں کی شدید مذمت کی اور کشمیری عوام کی سفارتی, سیاسی اور اخلاقی حمایت جاری رکھنے کے عزم کو دہرایا۔‘
اجلاس کے اختتام پر فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے پاک فوج کی آپریشنل تیاریوں اور پیشہ ورانہ معیار پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کمانڈرز کو ہدایت کی کہ وہ بدلتے ہوئے خطرات کے پیشِ نظر ہر وقت مستعد اور الرٹ رہیں۔

 

شیئر: