ہنگامی لینڈنگ کرنے والے فلائی دبئی کے تمام 174 مسافروں کی مدد کی: سعودی وزارتِ داخلہ
سعودی وزارتِ داخلہ کے حکام نے کہا ہے کہ اسرائیل جانے والی فلائی دبئی کی اس پرواز کے تمام مسافروں اور عملے کے ارکان کو ضروری اور لاجسٹک معاونت فراہم کی گئی، جسے جمعرات کو سعودی عرب کے شہر تبوک میں ہنگامی لینڈنگ کرنا پڑی۔
واضح رہے کہ اردن کی سرحد کے قریب فلائٹ ایف زیڈ 1073 کی بلندی اچانک ہزاروں میٹر کم ہو گئی، جس کے بعد اسے تبوک کے شہزادہ سلطان بن عبدالعزیز انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ہنگامی لینڈنگ کرنا پڑی۔
اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ ’عمانی معاون پائلٹ نے جہاز کو تباہ کرنے کے منصوبے کے تحت کاک پٹ میں اپنے ساتھی پائلٹ پر حملہ کیا، طیارے میں 166 اسرائیلی مسافر بھی سوار تھے۔‘
سعودی حکام نے متحدہ عرب امارات کی سکیورٹی ٹیم کی معاونت سے معاملے کی ابتدائی تحقیقات کیں۔ سعودی وزارتِ داخلہ کے ایک عہدیدار کے مطابق ’تحقیقات سے معلوم ہوا کہ دورانِ پرواز دونوں پائلٹوں کے درمیان جھگڑا ہوا، اور اس دوران معاون پائلٹ نے کپتان پر حملہ کیا اور دونوں زخمی ہوگئے۔‘
’دونوں پائلٹوں کو طبی معائنے اور علاج کے لیے مقامی ہسپتال منتقل کیا گیا۔ طبی اجازت ملنے کے بعد دونوں پائلٹ جمعرات کو متحدہ عرب امارات کی سکیورٹی ٹیم کے ہمراہ سعودی عرب سے ابوظبی روانہ ہوگئے۔‘
سعودی عہدیدار نے بتایا کہ ’جہاز کے صبح 9 بج کر 45 منٹ پر بحفاظت ایئرپورٹ پر لینڈ کرنے کے بعد تمام 174 مسافروں اور عملے کے 8 ارکان کو سعودی حکام نے ضروری مدد فراہم کی۔‘
’شام 5 بج کر 40 منٹ پر تمام مسافروں نے فلائی دبئی کی جانب سے بھیجے گئے متبادل جہاز کے ذریعے اپنا سفر دوبارہ شروع کیا، جبکہ پرواز کا عملہ ایئرلائن کی ایک دوسری پرواز کے ذریعے واپس دبئی روانہ ہوگیا۔‘
حملہ آور کو روکنے اور مسافروں و عملے کو کاک پٹ میں داخل ہو کر طیارے کا کنٹرول دوبارہ حاصل کرنے میں مدد دینے پر پرواز کے کپتان سمت مچھر کی بہادری پر اُنہیں سراہا گیا ہے۔
ابوظبی میں انڈین سفارت خانے کے حکام کا کہنا ہے کہ ’فلائٹ ایف زیڈ 1073کے کپتان کی صحت بہتر ہے اور وہ تیزی سے صحت یاب ہو رہے ہیں۔‘
حملہ کرنے والے معاون پائلٹ کی شناخت تاحال ظاہر نہیں کی گئی۔ تبوک میں سعودی ٹیموں کی جانب سے متاثرہ اسرائیلی مسافروں کی دیکھ بھال اور مدد کرنے کی ویڈیوز بھی سوشل میڈیا پر بڑے پیمانے پر شیئر کی گئی ہیں۔
