سعودی عرب کے ساتھ کامل یکجہتی کا اظہار، حوثی حملوں کی شدید مذمت: کور کمانڈرز کانفرنس
سعودی عرب کے ساتھ کامل یکجہتی کا اظہار، حوثی حملوں کی شدید مذمت: کور کمانڈرز کانفرنس
جمعہ 2 اکتوبر 2026 15:25
پاکستان کی فوج نے پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے مابین طے پانے والے ’مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے‘ کا بھرپور خیرمقدم کرتے ہوئے اسے دیرینہ سٹریٹجک تعلقات اور مشترکہ دفاعی تعاون کے فروغ میں انتہائی اہم پیش رفت قرار دیا ہے۔
فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے بیان کے مطابق جمعے کو پاکستان کے چیف آف آرمی سٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی زیر صدارت جی ایچ کیو میں 277 ویں کور کمانڈرز کانفرنس منعقد ہوئی۔
بیان کے مطابق اجلاس کے دوران شرکاء نے سعودی عرب پر ہونے والے حوثی حملوں کی شدید الفاظ میں مذمت کی اور برہمی کا اظہار کیا۔
’فورم نے سعودی عرب کے ساتھ کامل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے حرمین شریفین کے تحفظ اور تقدس کے لیے پاکستان کے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کیا۔‘
آئی ایس پی آر کے مطابق ’اجلاس کے آغاز میں مسلح افواج، قانون نافذ کرنے والے اداروں کے شہداء اور مادرِ وطن کے دفاع میں جانیں قربان کرنے والے شہریوں کے لیے فاتحہ خوانی کی گئی اور ان کی بے مثال قربانیوں کو زبردست خراجِ عقیدت پیش کیا گیا۔‘
افغانستان سے دہشت گردی کے خلاف کارروائیاں پاکستان کا دفاعی حق
شرکاء نے واضح کیا کہ ’افغانستان سے ہونے والی دہشت گردی کے خلاف ٹارگٹڈ کارروائیاں پاکستان کا مسلّمہ دفاعی حق ہیں۔‘
کانفرنس میں کہا گیا کہ ’انڈیا کے آلہ کار کے طور پر دہشت گردی کے جو سنگین نتائج برآمد ہو رہے ہیں، ان کی تمام تر ذمہ داری صرف اور صرف طالبان کی مخبوط الحواس قیادت پر عائد ہوتی ہے۔‘
انسدادِ دہشت گردی کے لیے بہترین گورننس ناگزیر
فورم نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے انٹیلی جنس کی بنیاد پر جاری کامیاب انسدادِ دہشت گردی کی کارروائیوں کو سراہا۔ تاہم اس بات پر زور دیا گیا کہ دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے صرف زمینی کارروائیاں کافی نہیں بلکہ ان کے ساتھ بہترین انتظامی اور گورننس کے اقدامات ناگزیر ہیں۔
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے ہدایات دیں کہ انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کو مزید مضبوط بنایا جائے (فوٹو: آئی ایس پی آر)
کانفرنس کا کہنا تھا کہ گورننس کو بنیادی سطح پر عوام کے قریب تر لایا جائے۔ عوام کے ساتھ دہشت گردی کی وجوہات اور ان کے حل پر موثر رابطہ کاری اور بیانیے پر کام کیا جائے۔ مخصوص عناصر کی سرپرستی میں چلنے والے ’کرائم ٹیرر گٹھ جوڑ‘ کو توڑا جائے۔ پولیس کی عملی استعدادِ کار میں نمایاں اضافہ کیا جائے۔
نو مئی جیسے حالات کا جواب فیصلہ طاقت سے دیا جائے گا
کور کمانڈرز کانفرنس نے پاکستان کے داخلی استحکام کو ملک کے لیے انتہائی اہم قرار دیا۔ ’اجلاس میں عزم ظاہر کیا گیا کہ کسی بھی جواز کے تحت، پرتشدد انتشار یا 9 مئی جیسے حالات پیدا کرنے کی کسی بھی کوشش سے بلاامتیاز، بغیر کسی جھجک کے اور قانون کے مطابق فیصلہ کن طاقت کے ساتھ نمٹا جائے گا۔‘
شرکاء کانفرنس نے مسئلہ کشمیر کو اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق حل کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے ہدایات دیں کہ انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کو مزید مضبوط بنایا جائے اور فارمیشنز جدید ٹیکنالوجی کے حصول، بہترین ٹریننگ اور تمام جنگی جہتوں کے انضمام کے ذریعے اپنی دفاعی صلاحیتوں میں مسلسل اضافہ کرتی رہیں۔
انہوں نے اس عزم کا دہرایا کہ ’قوم کی غیر متزلزل حمایت کے ساتھ مسلح افواج پاکستان کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے ہر دم اور مکمل طور پر تیار ہیں۔‘