مسجد نبوی کو بجلی فراہم کرنے والے انفراسٹرکچر پر حملہ سنگین اشتعال انگیزی ہے: پاکستان
پاکستان نے سعودی عرب کے شہر مدینہ میں مسجد نبوی کو بجلی فراہم کرنے والے پاؤر سٹیشن پر ڈرون حملے کی مذمت کرتے ہوئے اسے سنگین اشتعال انگیزی قرار دیا ہے۔
جمعے کو پاکستان کے دفتر خارجہ کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ’علااقائی سلامتی کو خطرے میں ڈالنے والی کارروائیاں فوری طور پر بند ہونی چاہیے۔‘
سعودی قیادت میں قائم اتحاد کے مطابق 29 ستمبر کو ایک ڈرون نے طیبہ پاؤر سٹیشن کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں ایک ٹرانسفارمر بند ہوگیا تاہم بجلی کے وسیع تر نظام کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔
اتحاد نے کہا تھا کہ ’ڈرون کے ملبے کے معائنے سے حوثیوں کے حملے میں ملوث ہونے کی تصدیق ہوئی ہے۔‘ تاہم ایران کے حمایت یافتہ اور یمن کے بحیرۂ احمر کے ساحلی علاقے کے ایک بڑے حصے پر کنٹرول رکھنے والے حوثیوں نے حملے میں ملوث ہونے سے انکار کیا ہے۔
یہ واقعہ سعودی عرب پر دوبارہ ہونے والے حملوں اور ریاض، اسلام آباد اور انقرہ کے درمیان بڑھتے ہوئے دفاعی تعاون کے دوران پیش آیا ہے۔ اگست میں طے پانے والے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت تینوں ممالک میں سے کسی ایک پر مسلح حملے کو تینوں پر حملہ تصور کیا جائے گا۔
پاکستان کے دفتر خارجہ نے بیان میں کہا کہ ’مسجد نبوی کو بجلی فراہم کرنے والے انفراسٹرکچر کے خلاف یہ قابل مذمت حملہ سنگین اشتعال انگیزی ہے اور دنیا بھر کے کروڑوں مسلمانوں کے لیے گہری تشویش اور تکلیف کا باعث ہے۔‘
بیان میں مزید کہا گیا ’ہم ایسی غیر ذمہ دارانہ کارروائیوں کے فوری اور غیر مشروط خاتمے کا مطالبہ کرتے ہیں، جو علاقائی امن اور سلامتی کے لیے بھی سنگین خطرہ ہیں۔‘
دفتر خارجہ نے کہا کہ ’مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ میں دونوں مقدس مساجد کی حرمت اور نمازیوں و زائرین کی حفاظت ہر حال میں یقینی بنائی جانی چاہیے۔‘
پاکستان نے سعودی عرب کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور سلامتی کے لیے اپنی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ ’اسلام آباد سعودی عوام کے تحفظ، مقدس مساجد کی حفاظت اور زائرین کی سلامتی یقینی بنانے میں مملکت کے ساتھ کھڑا ہے۔‘
سعودی قیادت میں قائم اتحاد کے بیان میں مسجد نبوی کو پہنچنے والے کسی نقصان یا حملے میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں دی گئی۔
اتحاد کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے کہا کہ ’حوثیوں کو روکنے اور مقدس مقامات اور وہاں آنے والے زائرین کے تحفظ کے لیے اتحاد اقدامات جاری رکھے گا۔‘
متحدہ عرب امارات، بحرین، کویت، اردن اور ترکیہ نے بھی حملے کی مذمت کی۔ خلیج تعاون کونسل نے مسجد نبوی کو بجلی فراہم کرنے والے انفرااسٹرکچر کو نشانہ بنائے جانے کو سنگین پیش رفت قرار دیتے ہوئے سعودی عرب کے لیے اپنی حمایت کا اعادہ کیا۔
جمعرات کی رات یمن کی حکومت کے حامی فوجی حکام نے کہا تھا کہ انہوں نے صنعا، صعدہ اور تعیز میں حوثیوں کے اہداف کو نشانہ بنایا۔ تاہم ان کارروائیوں کے اہداف اور پیمانے سے متعلق دعووں کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی۔
پاکستان کے فوجی ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے جمعرات کو کہا تھا کہ ’سعودی عرب اور مقدس مساجد کی سکیورٹی کے لیے اسلام آباد کا عزم مطلق ہے۔‘ تاہم انہوں نے دفاعی اتحاد کے تحت آپریشنل انتظامات کی تفصیلات بتانے یا یہ واضح کرنے سے گریز کیا۔
