پی ٹی آئی کے مجوزہ لانگ مارچ پر حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات جاری
(فوٹو: پارلیمنٹ ہاؤس)
پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد کی طرف پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے متوقع لانگ مارچ کے متعلق حکومت اور اپوزیشن کے وفد کی ملاقات پارلیمنٹ ہاؤس میں جاری ہے۔
جمعے کو پارلیمنٹ ہاؤس میں اس مذاکراتی اجلاس کی صدرات سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کر رہے ہیں۔
اپوزیشن وفد کے سپیکر چیمبر پہنچنے پر سردار ایاز صادق نے استقبال کیا۔ اپوزیشن کی جانب سے قائد حزب اختلاف سینٹ علامہ راجہ ناصر عباس، چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹرگوہر، اسد قیصر،عامر ڈوگر اور سیکٹری جنرل سلمان اکرم راجہ موجود ہیں جبکہ حکومتی وفد میں وزیر داخلہ محسن نقوی، شیری رحمان، ڈاکٹر طارق فضل چوہدری اور طلال چوہدری شامل ہیں۔ اس کے علاوہ اعجاز جاکھرانی، نوید قمر، رانا ثناء اللہ اور امیر مقام بھی حکومتی وفد کا حصہ ہیں۔
اس سے قبل یہ خبر سامنے آئی تھی کہ وفاقی حکومت اور پاکستان پیپلز پارٹی نے سیاسی تلاطم کو کم کرنے کے لیے پی ٹی آئی کی قیادت سے باضابطہ مذاکرات کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب صدرِ مملکت آصف علی زرداری سے وزیراعظم شہباز شریف نے ایوانِ صدر میں ایک اعلیٰ سطح کے اجلاس میں ملاقات کی جس میں ملک کی مجموعی سیاسی اور بالخصوص خیبر پختونخوا کی سکیورٹی صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔
اسلام آباد میں سکیورٹی ہائی الرٹ
پاکستان تحریک انصاف نے ابتدا میں 27 ستمبر کو اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کا اعلان کیا تھا، تاہم بعد میں اسے مؤخر کرتے ہوئے 4 اکتوبر کو احتجاج کی نئی تاریخ مقرر کی گئی۔
اس احتجاج سے نمٹنے کے لیے اسلام آباد انتظامیہ کی جانب سے غیر معمولی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
ریڈ زون کے تمام داخلی راستوں سمیت شہر کے متعدد اہم مقامات پر کنٹینرز لگا کر راستے بند کر دیے گئے ہیں جبکہ لاء اینڈ آرڈر برقرار رکھنے کے لیے پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی اضافی نفری بھی تعینات کر دی گئی ہے۔
ایوانِ صدر میں اعلیٰ سطح کا اجلاس
جمعرات کو ایوانِ صدر میں ہونے والی اس اہم ملاقات میں ملک کی امن و امان کی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
بیان کے مطابق اجلاس میں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار، وزیر داخلہ محسن نقوی، وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ، رانا ثناء اللہ، اور اٹارنی جنرل سمیت پیپلز پارٹی کی قیادت شیری رحمان، سلیم مانڈوی والا، شرجیل میمن اور ناصر حسین شاہ نے شرکت کی۔
’اجلاس کے دوران خاص طور پر خیبر پختونخوا میں سکیورٹی کی بدلتی ہوئی صورتحال پر تشویش ظاہر کی گئی اور اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ دہشت گردی کے خاتمے اور ملکی امن و استحکام کے لیے تمام ریاستی اداروں کے درمیان مؤثر تعاون اور قومی عزم کو مزید مضبوط بنایا جائے گا۔‘
حکومت اور پیپلز پارٹی کا پی ٹی آئی سے مذاکرات کا فیصلہ
ملک میں بڑھتی ہوئی سیاسی کشیدگی کو ختم کرنے کے لیے اجلاس میں طے پایا کہ وفاقی حکومت اور پیپلز پارٹی کا ایک مشترکہ وفد پی ٹی آئی کی قیادت سے ملاقات کرے گا۔
اس مشترکہ وفد میں حکومت کی جانب سے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی، وزیراعظم کے مشیر رانا ثناء اللہ اور وفاقی وزیر امیر مقام شامل ہوں گے، جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی کی نمائندگی سینیٹر شیری رحمان، نوید قمر اور اعجاز جکھرانی کریں گے۔
