حکومت اور اپوزیشن کے مذاکرات، ’معاملات بہتری کی طرف جائیں گے‘
حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات کا تیسرا دور مکمل ہوگیا ہے اور فریقین نے مذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق کرتے ہوئے اگلا اجلاس سنیچر کو دوپہر دو بجے طلب کیا ہے۔
ذرائع کے مطابق مذاکرات کے بعد حکومتی رہنماؤں وزیر داخلہ محسن نقوی اور وزیراعظم کے مشیر رانا ثنا اللہ نے وزیراعظم شہباز شریف سے رابطہ کیا اور انہیں مذاکرات میں ہونے والی پیش رفت سے آگاہ کیا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومتی رہنماؤں نے وزیراعظم کو اپوزیشن کے مطالبات اور مذاکرات میں ہونے والی پیش رفت سے بھی آگاہ کیا۔
ذرائع کے مطابق حکومت اور اپوزیشن کے مذاکراتی وفود اپنے اپنے مطالبات اور بات چیت میں ہونے والی پیش رفت سے قیادت کو آگاہ کریں گے۔ دونوں جانب کے وفود آئندہ اجلاس میں مطالبات پر پیش رفت سے ایک دوسرے کو بھی آگاہ کریں گے۔
مذاکرات کے بعد پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کے ساتھ اچھے ماحول میں مذاکرات ہوئے۔
بیرسٹر گوہر نے کہا کہ مذاکرات کا اگلا دور کل دوپہر دو بجے ہوگا، امید ہے کہ بات چیت کے ذریعے معاملات بہتری کی طرف جائیں گے۔
خیال رہے کہ پارلیمنٹ ہاؤس میں حکومت اور اپوزیشن کا یہ مشترکہ اجلاس سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کے چیمبر میں ہو رہے ہیں۔
اس سے قبل اپوزیشن وفد کے سپیکر چیمبر پہنچنے پر سردار ایاز صادق نے استقبال کیا۔ اپوزیشن کی جانب سے قائد حزب اختلاف سینٹ علامہ راجا ناصر عباس، چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹرگوہر، اسد قیصر، عامر ڈوگر اور سیکریٹری جنرل پی ٹی آئی سلمان اکرم راجا موجود تھے۔
حکومتی وفد میں وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی، شیری رحمان، ڈاکٹر طارق فضل چوہدری اور طلال چوہدری شامل ہیں۔ اعجاز جاکھرانی، نوید قمر، رانا ثناء اللہ اور امیر مقام بھی حکومتی وفد کا حصہ ہیں۔
اس سے قبل یہ خبر سامنے آئی تھی کہ وفاقی حکومت اور پاکستان پیپلز پارٹی نے سیاسی کشیدگی کو کم کرنے کے لیے پی ٹی آئی کی قیادت سے باضابطہ مذاکرات کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب جمعرات کو صدرِ آصف علی زرداری سے وزیراعظم شہباز شریف نے ایوانِ صدر میں ایک اعلیٰ سطح کے اجلاس میں ملاقات کی جس میں ملک کی مجموعی سیاسی اور بالخصوص خیبر پختونخوا کی سکیورٹی صورت حال پر تشویش کا اظہار کیا۔
اسلام آباد میں سکیورٹی ہائی الرٹ
پاکستان تحریک انصاف نے ابتدا میں 27 ستمبر کو اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کا اعلان کیا تھا، تاہم بعد میں اسے مؤخر کرتے ہوئے 4 اکتوبر کو احتجاج کی نئی تاریخ مقرر کی گئی۔
اس احتجاج سے نمٹنے کے لیے اسلام آباد انتظامیہ کی جانب سے غیر معمولی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
ریڈ زون کے تمام داخلی راستوں سمیت شہر کے متعدد اہم مقامات پر کنٹینرز لگا کر راستے بند کر دیے گئے ہیں جبکہ امن و امان برقرار رکھنے کے لیے پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی اضافی نفری بھی تعینات کر دی گئی ہے۔
ایوانِ صدر میں اعلیٰ سطح کا اجلاس
جمعرات کو ایوانِ صدر میں ہونے والی اس اہم ملاقات میں ملک کی امن و امان کی صورت حال کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
بیان کے مطابق اجلاس میں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار، وزیر داخلہ محسن نقوی، وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ، رانا ثناء اللہ، اور اٹارنی جنرل سمیت پیپلز پارٹی کی قیادت شیری رحمان، سلیم مانڈوی والا، شرجیل میمن اور ناصر حسین شاہ نے شرکت کی۔
’اجلاس کے دوران خاص طور پر خیبر پختونخوا میں سکیورٹی کی بدلتی ہوئی صورت حال پر تشویش ظاہر کی گئی اور اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ دہشت گردی کے خاتمے اور ملکی امن و استحکام کے لیے تمام ریاستی اداروں کے درمیان مؤثر تعاون اور قومی عزم کو مزید مضبوط بنایا جائے گا۔‘
حکومت اور پیپلز پارٹی کا پی ٹی آئی سے مذاکرات کا فیصلہ
ملک میں بڑھتی ہوئی سیاسی کشیدگی کو ختم کرنے کے لیے اجلاس میں طے پایا کہ وفاقی حکومت اور پیپلز پارٹی کا ایک مشترکہ وفد جمعے کو پی ٹی آئی کی قیادت سے ملاقات کرے گا۔
اس مشترکہ وفد میں حکومت کی جانب سے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی، وزیراعظم کے مشیر رانا ثناء اللہ اور وفاقی وزیر امیر مقام شامل ہوں گے، جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی کی نمائندگی سینیٹر شیری رحمان، نوید قمر اور اعجاز جاکھرانی کریں گے۔
