Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

نیپال: سیلابی پانی سے بننے والی جھیل پھٹنے کا خدشہ، ہلاکتیں 389 ہو گئیں

نیپال میں سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے باعث ہونے والی تباہی کے بعد ایک اور خطرے نے سر اٹھا لیا ہے کیونکہ جھیل کی شکل میں جمع ہونے والے پانی کا دباؤ بڑھ رہا ہے۔
حکام نے خبردار کیا ہے کہ وہ جھیل پھٹ سکتی ہے۔
خبر رساں اداروں کے مطابق سیلاب کے باعث نیپال میں مرنے والوں کی تعداد 389 تک پہنچ گئی ہے جبکہ ایک ہزار تین سو سے زائد لاپتہ ہیں جن میں سینکڑوں غیرملکی شیاح بھی شامل ہیں۔
 
بدھ کو نیپال اور تبت میں آنے والے شدید سیلاب کے بعد دنیا کے کئی ممالک وہاں امدادی سامان بھجوانے کے لیے متحرک ہو گئے ہیں تاہم متاثرہ علاقوں میں سڑکیں بہہ جانے کی وجہ سے امدادی سامان کو پہنچانے میں مشکلات کا سامنا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ لاپتہ افراد کو تلاش کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔
رپورٹس کے مطابق جس علاقے میں سیلاب آیا وہ ایک پہاڑی علاقہ ہے جہاں قریباً 40 کلومیٹر تک کے علاقے میں سڑکیں اور پل تباہ ہو گئے ہیں۔
یہ علاقہ سیاحوں میں خاصا مقبول ہے جبکہ بڑی تعداد میں ہر سال مذہبی زائرین بھی یہاں کا رخ کرتے ہیں۔
 متاثرہ علاقوں میں متحرک ریسکیو ٹیموں کو ضلع چتوان سے سینکڑوں میل دریا کے نشیبی حصے میں لاشیں ملی ہیں جبکہ سیلاب کے بعد فوجی ہیلی کاپٹروں نے بھی امدادی سرگرمیوں میں حصہ لیا اور درجنوں زخمیوں کو کھٹمنڈو کے ہسپتالوں میں پہنچایا۔

شیئر: