نیپال میں سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے باعث ہونے والی تباہی کے بعد ایک اور خطرے نے سر اٹھا لیا ہے کیونکہ جھیل کی شکل میں جمع ہونے والے پانی کا دباؤ بڑھ رہا ہے۔
حکام نے خبردار کیا ہے کہ وہ جھیل پھٹ سکتی ہے۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ہلاکتوں کی تعداد 469 تک پہنچ گئی ہے جبکہ 14 سو سے زائد لاپتہ ہیں جن میں سینکڑوں غیرملکی سیاح بھی شامل ہیں۔
مزید پڑھیں
-
نیپال میں سیلاب سے ہلاکتیں 270 ، غیرملکی سیاحوں سمیت 1300 لاپتہNode ID: 907878
بدھ کو نیپال اور تبت میں آنے والے شدید سیلاب کے بعد دنیا کے کئی ممالک وہاں امدادی سامان بھجوانے کے لیے متحرک ہو گئے ہیں تاہم متاثرہ علاقوں میں سڑکیں بہہ جانے کی وجہ سے امدادی سامان کو پہنچانے میں مشکلات کا سامنا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ لاپتہ افراد کو تلاش کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔
رپورٹس کے مطابق جس علاقے میں سیلاب آیا وہ ایک پہاڑی علاقہ ہے جہاں قریباً 40 کلومیٹر تک کے علاقے میں سڑکیں اور پل تباہ ہو گئے ہیں۔
یہ علاقہ سیاحوں میں خاصا مقبول ہے جبکہ بڑی تعداد میں ہر سال مذہبی زائرین بھی یہاں کا رخ کرتے ہیں۔

متاثرہ علاقوں میں متحرک ریسکیو ٹیموں کو ضلع چتوان سے سینکڑوں میل دریا کے نشیبی حصے میں لاشیں ملی ہیں جبکہ سیلاب کے بعد فوجی ہیلی کاپٹروں نے بھی امدادی سرگرمیوں میں حصہ لیا اور درجنوں زخمیوں کو کھٹمنڈو کے ہسپتالوں میں پہنچایا۔
بدھ کو آنے والا یہ سیلاب چین اور نیپال کے سرحدی علاقوں کے لیے انتہائی تباہ کن ثابت ہوا تاہم چین کے مقابلے میں نیپال میں بہت زیادہ تباہی ہوئی ہے اور پورے کے پورے گاؤں ملیامیٹ ہو گئے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق اس وقت کئی علاقے کیچڑ میں دبے ہوئے ہیں۔ امدادی ٹیموں کا کہنا ہے کہ اب تک 392 افراد کی لاشیں نکالی گئی ہیں جبکہ یہ تعداد بڑھنے کے بھی خدشات ہیں کیونکہ کیچڑ اور ملبے میں لاشیں دبی ہو سکتی ہیں۔
لاپتہ افراد کے حوالے سے معلوم ہوا ہے کہ ان میں بڑی تعداد میں غیرملکی سیاح بھی شامل ہیں جو نیپال میں ہائیکنگ اور ٹریکنگ کے لیے آتے ہیں جبکہ مذہبی مقامات یہاں موجود ہونے کی وجہ سے ہندو یاتری بھی بڑی تعداد میں آتے ہیں۔

رپورٹس کے مطابق سیلابی ریلوں سے قبل گڑگڑاہٹ کی آواز سنی گئی اور جھٹکے بھی محسوس ہوئے جن کو حکام کی جانب سے زلزلے کے باعث ہونے والی تباہی قرار دیا گیا۔
تاہم دوسری جانب امریکی جیولوجیکل سروے کا کہنا ہے کہ نیپال میں زلزلہ نہیں آیا بلکہ یہ تباہی گلیشیئر کے ٹوٹنے کی وجہ سے ہوئی جس کے نتیجے میں برف اور ملبے کا ایک بہت بڑا ریلہ نیچے کی طرف بہہ نکلا۔
اس واقعے کی وجہ موسمیاتی تبدیلی کو قرار دیا جا رہا ہے جو اس سے قبل بھی کئی ممالک میں سانحات کی وجہ بن چکی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کے باعث دنیا بھرمیں تیزی سے گلیشیئر پگھل رہے ہیں جبکہ ان کے ٹوٹنے کے خطرات بھی بڑھ گئے ہیں۔
یاد رہے نیپال اور تبت کے سرحدی علاقوں میں صورت حال بدھ کو اس وقت تباہی کی طرف جاتی دیکھی گئی تھی جب اچانک لینڈ سلائیڈنگ ہو گئی جو نہ صرف رہائشی علاقوں پر گری بلکہ بھاری پتھروں اور ملبے کے دریاؤں میں گرنے سے سیلاب بھی آ گیا۔

چین کی جانب سے بنی نگرانی کی ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ مٹی اور پانی کی ایک بہت بڑی لہر عمارت سے ٹکرائی جبکہ خوفزدہ لوگ جانیں بچانے کے لیے بھاگ رہے ہیں۔
اسی طرح نیپال والی سمت میں پانی کا ایک بہت بڑا ریلہ بھوٹے کوشی اور تریشولی دریاؤں سے اٹھتا ہوا دیکھا جو اپنے راستے میں آنے والی ہر چیز کو بہاتا چلا گیا اور اس کی لپٹ میں کئی دیہات اور قصبے بھی آئے۔
شروع میں نیپال کی جانب سے تباہی کی وجہ سیلاب کو قرار دیا گیا تھا جبکہ چینی حکام نے واقعے کی وجہ لینڈ سلائیڈنگ کو قرار دیا تھا۔
لاپتہ ہونے والے افراد میں انڈین شہریوں کے علاوہ یوکرین، ملائیشیا، برطانیہ، آسٹریلیا، جنوبی افریقہ اور دوسرے ممالک سے تعلق رکھنے والے افراد بھی شامل ہیں۔
آسٹریلیا کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ واقعے میں اس کے 34 شہری نیپال میں لاپتہ ہوئے ہیں۔












