کینیڈا کے ساتھ جاری کشیدگی شدید: صدر ٹرمپ کا ’لیک اونٹاریو‘کا نام تبدیل کرکے ’لیک امریکہ‘ رکھنے کا اعلان
جمعرات 27 اگست 2026 21:50
جھیل اونٹاریو شمالی امریکہ کی پانچ عظیم جھیلوں میں سے ایک ہے اور اس کا ایک حصہ کینیڈا کے صوبے اونٹاریو جبکہ دوسرا حصہ امریکی ریاست نیویارک سے متصل ہے۔ (فوٹو: اے پی)
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کو جھیل اونٹاریو کا نام تبدیل کرکے ’لیک امریکہ‘ رکھنے کا حکم دے دیا، جس سے کینیڈا کے ساتھ جاری کشیدگی میں مزید اضافہ ہوگیا ہے۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق صدر ٹرمپ نے کہا کہ نام کی تبدیلی فوری طور پر نافذ العمل ہوگی۔ انہوں نے گزشتہ سال عہدہ سنبھالنے کے بعد خلیج میکسیکو کا نام تبدیل کرکے ’خلیج امریکہ‘ رکھنے کا بھی حکم دیا تھا۔
صدر ٹرمپ نے اوول آفس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم جھیل اونٹاریو کا نام فوری طور پر تبدیل کرکے لیک امریکہ رکھنے جا رہے ہیں۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ جھیل کا نام تبدیل کرکے ’جھیل امریکہ‘ رکھنے کا خیال دراصل کافی عرصے سے ان کے ذہن میں تھا۔
امریکہ اور کینیڈا کے درمیان تجارتی مذاکرات گزشتہ ہفتے اس وقت ناکام ہوگئے تھے جب دونوں ممالک نے تین روز تک جاری رہنے والے مذاکرات میں تعطل کا ذمہ دار ایک دوسرے کو قرار دیا۔
جھیل اونٹاریو شمالی امریکہ کی پانچ عظیم جھیلوں میں سے ایک ہے اور اس کا ایک حصہ کینیڈا کے صوبے اونٹاریو جبکہ دوسرا حصہ امریکی ریاست نیویارک سے متصل ہے۔
کینیڈین وزیراعظم مارک کارنی کے دفتر نے فوری طور پر اس معاملے پر تبصرے کے لیے درخواست کا جواب نہیں دیا۔
جنوری 2025 میں ٹرمپ کی جانب سے خلیج میکسیکو کا نام تبدیل کرنے کے حکم کے بعد امریکی محکمہ داخلہ کے تحت ’یو ایس بورڈ آن جیوگرافک نیمز‘ نے تقریباً دو ہفتوں میں وفاقی حکومت کے سرکاری جغرافیائی ناموں کے نظام میں تبدیلی کردی تھی۔
مئی میں ہونے والے روئٹرز/اِپسوس سروے کے مطابق 72 فیصد امریکیوں کی کینیڈا کے بارے میں مثبت رائے تھی۔ سروے میں شامل دیگر ممالک، جن میں جرمنی اور میکسیکو بھی شامل تھے، کے مقابلے میں یہ سب سے زیادہ شرح تھی اور صدر ٹرمپ کی اپنی منظوری کی شرح سے تقریباً دوگنی تھی۔
1909 کے ایک معاہدے کے تحت جھیل اونٹاریو کی سطحی حدود کا تقریباً 52 فیصد حصہ کینیڈا میں جبکہ باقی حصہ امریکی ریاست نیویارک میں واقع ہے۔
