Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

’غربت اور معاشی مجبوری‘، انڈیا کے شہر کانپور میں ایکسپائرڈ چاکلیٹ کی لُوٹ مار

چاکلیٹ کی خبر ملتے ہی اس کے گرد ایک ہجوم جمع ہوگیا (فوٹو: سکرین گریب)
انڈیا کے معروف صنعتی شہر کانپور میں ایک منفرد واقعہ پیش آيا جب لوگ سڑک کے کنارے سے چاکلیٹ اور ٹافیوں کے پیکٹ لے کر بھاگتے نظر آئے، گویا یہ کوئی مال غنیمت ہو۔
یہ کسی دکان کی تشہیر یا مفت تقسیم کا منظر نہیں تھا بلکہ یہ وہ چاکلیٹ تھیں جنہیں مبینہ طور پر ایکسپائر ہونے کے بعد کچرے میں پھینک دیا گیا تھا۔
یہ واقعہ کانپور میں پَنکی نامی صنعتی علاقے کے قریب پیش آيا۔ چاکلیٹ کی خبر ملتے ہی اس کے گرد ایک ہجوم جمع ہوگیا اور دیکھنے والوں کو اپنی آنکھوں پر یقین کرنا مشکل ہوگیا۔ ہر عمر کے لوگ تھیلوں اور بوریوں میں چاکلیٹ کے ڈبے بھر کر لے جاتے ہوئے نظر آئے، جبکہ بعض تو موٹر سائیکلوں پر بھی چاکلیٹ اور ٹافیاں لاد کر لے جاتے دکھائی دیے۔
دی ٹائمز آف انڈیا کی رپورٹ کے مطابق اس پورے منظر کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تو صحت عامہ اور ایکسپائرڈ مصنوعات کو ٹھکانے لگانے پر بحث شروع ہو گئی۔
جب سوشل میڈیا کے ذریعے اس کی اطلاع حکام کو ہوئی تو انہوں نے اس کا نوٹس لیتے ہوئے لوگوں سے ان چاکلیٹ کو نہ کھانے کی اپیل کی، لیکن تا دم تحریر یہ بات واضح نہ ہو سکی کہ کس کمپنی نے ان چاکلیٹ کو ٹھکانے لگانے کے لیے اسے ایسی جگہ چھوڑا تھا۔
مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ فوڈ کارپوریشن آف انڈیا کو جو نمونہ جانچ کے لیے بھیجا گیا ہے اس پر ’گجرات‘ اور ’این‘ لکھا ہوا تھا۔
شعبہ فوڈ کے ایک اعلی افسر سنجے کمار سنگھ نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اس واقعے کے ان کے علم میں آتے ہی انہوں نے افسران کو اس جگہ بھیجا جو یہ جاننے کی کوشش کر رہے ہیں کہ کس گودام سے یہ مال پھینکا گيا۔
سنجے کمار نے کہا کہ ’میں کمپنیوں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ اس طرح سے خراب اشیا کو کوڑے پر ڈمپ نہ کریں اور عوام جو ان چاکلیٹ اور کانفیکشنریز کو لے گئے ہیں ان سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ ان کا استعمال نہ کریں۔‘
مقامی لوگوں کا کہنا تھا کہ ان میں سے بعض مصنوعات کی میعاد 2024 میں ہی ختم ہوچکی تھی۔ یہاں بات صرف ’چاکلیٹ لوٹنے‘  تک محدود نہیں رہی بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ آخر میعاد گزر جانے والی غذائی اشیا کو اس طرح کھلے عام پھینکنے کی نوبت ہی کیوں آئی؟
اگر کوئی خراب یا ناقابلِ استعمال خوراک عوام کی پہنچ سے دور اور مناسب طریقے سے تلف کردی جاتی تو شاید یہ منظر وجود میں نہ آتا۔ دوسری طرف یہ سوال بھی اپنی جگہ موجود ہے کہ لوگوں نے آخر ان اشیا کو اٹھانے میں اتنی عجلت کیوں دکھائی؟

سوشل میڈیا پر اس ویڈیو کو دیکھ کر کئی لوگوں نے اسے محض ’حماقت‘ قرار دیا، لیکن کچھ صارفین نے اس کے پیچھے غربت اور معاشی مجبوری کو بھی دیکھنے کی کوشش کی۔
ریڈٹ پر ایک صارف نے سوال اٹھایا کہ کیا یہ صرف لاعلمی ہے، یا محدود وسائل کے درمیان مفت ملنے والی چیز کو حاصل کرنے کی انسانی خواہش بھی اس رویے کے پیچھے ہے؟
ایک اور صارف نے لکھا کہ لوگوں کو صرف شرمندہ کرنے کے بجائے اس بات پر بھی غور کرنا چاہیے کہ آخر معاشرے کا ایک طبقہ کچرے میں پڑی خوراک اٹھانے پر کیوں مجبور نظر آتا ہے۔
روبی ارون نامی ایک صارف نے ایکس پر لکھا کہ ’ہمارے ملک میں لوگ زہر کھانے کے لیے بھی بھگدڑ مچا دیں گے اگر وہ مفت میں مل رہی ہو۔‘
ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں طنزیہ انداز میں کہا گیا کہ لوگ ’مفت‘ کو ہمیشہ قابلِ قبول سمجھ لیتے ہیں، چاہے وہ چیز کچرے میں ہی کیوں نہ پڑی ہو۔

مریم نامی ایک صارف نے لکھا کہ ’ہمارے ملک میں اس قدر افلاس ہے کہ لوگ ایکسپائرڈ چیزوں کو بھی نہیں چھوڑتے۔‘
کچھ صارفین نے تو معاملے کو صحت کے لیے ممکنہ خطرے سے جوڑتے ہوئے سخت الفاظ استعمال کیے۔
ایک صارف نے لکھا کہ یہ چیزیں اپنے گھروں تک لے جانا گویا ’زہر گھر لے جانے کے مترادف ہے۔‘ ایک نے لکھا کہ لوگ ’اسے خراب کے بجائے مال غنیمت سمجھ رہے تھے۔‘
دلچسپ بات یہ ہے کہ بعض صارفین نے اس واقعے میں ایک اور پہلو تلاش کیا۔ ایک تبصرے میں کہا گیا کہ شاید لوگ ان چاکلیٹوں کو گھر لے جاکر کسی دوسری چیز، مثلاً کیک یا ملک شیک میں استعمال کریں گے۔
ماہرینِ صحت کی عمومی ہدایت یہی ہے کہ میعاد ختم ہونے والی خوراک کے استعمال سے گریز کیا جائے، خصوصاً ایسی اشیا کے معاملے میں جنہیں نامناسب حالات میں رکھا گیا ہو۔ چاکلیٹ کی میعاد گزرنے کے بعد اس کا ذائقہ، ساخت اور معیار متاثر ہوسکتا ہے، جبکہ نامعلوم درجہ حرارت یا نمی میں پڑی مصنوعات میں آلودگی کا خطرہ بھی بڑھ سکتا ہے۔
کانپور کا یہ منظر اس لیے بھی پریشان کن ہے کہ اس میں دو الگ مسائل ایک ہی تصویر میں نظر آتے ہیں۔ ایک طرف خوراک کے ضیاع اور اسے مناسب طریقے سے تلف نہ کرنے کا مسئلہ ہے، دوسری طرف غربت، صارفین میں آگاہی اور ’مفت ملنے والی چیز‘ کے نفسیاتی اثرات کا بھی سوال ہے۔

شیئر: