Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

یمن میں حوثیوں کےتازہ حملوں سے وسیع جنگ کا خطرہ ہے:اقوام متحدہ

 گرونڈبرگ نے کہا کہ تمام فریقوں کو بین الاقوامی انسانی حقوق کے قانون کے تحت اپنی ذمہ داریاں پوری کرنی چاہییں۔ (فوٹو: روئٹرز)
یمن کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی ہانس گرونڈبرگ نے کہا ہے کہ ایران کی حمایت یافتہ حوثی تحریک کی جانب سے یمن کے مختلف محاذوں پر تازہ حملوں کے نتیجے میں جھڑپوں میں شدت آ گئی ہے، جس سے تنازع مزید پھیلنے کا خطرہ پیدا ہوگیا ہے۔
عرب نیوز کے مطابق ہانس گرونڈبرگ نے پیر کو صورتحال کو ’انتہائی تشویشناک‘ قرار دیا۔
 ہانس گرونڈبرگ نے مزید کہا کہ شہریوں کے مرنے اور زخمی ہونے، خاندانوں کے بے گھر ہونے اور شہری تنصیبات کو نقصان پہنچنے کی اطلاعات ’انتہائی پریشان کن‘ ہیں۔
 انہوں نے خبردار کیا کہ بڑے پیمانے پر اور مسلسل لڑائی کی واپسی شہریوں کے لیے سنگین نتائج کا باعث بنے گی اور سیاسی تصفیے کی جانب پیش رفت مزید پیچیدہ ہوجائے گی۔
 انہوں نے کہا کہ ’یمن پہلے ہی ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے تنازع کا شکار ہے۔‘ ان کا کہنا تھا کہ بڑے پیمانے پر دوبارہ لڑائی شروع ہونے سے پہلے ہی مشکل سیاسی عمل کو آگے بڑھانا مزید دشوار ہوجائے گا۔
 اقوام متحدہ کے ایلچی نے کہا کہ یمنی عوام کی سلامتی، فعال ریاستی اداروں اور جنگ سے بالاتر مستقبل کی خواہشات کو پورا کرنے کے لیے ایک قابلِ اعتماد سیاسی عمل ضروری ہے، جو تنازع کی سیاسی، سکیورٹی اور معاشی وجوہات کا حل تلاش کرے۔
 انہوں نے تمام فریقوں سے مطالبہ کیا کہ فوری طور پر دشمنی ختم کریں، زیادہ سے زیادہ تحمل کا مظاہرہ کریں اور مزید کشیدگی روکنے کے لیے اقوام متحدہ کی ملٹری کوآرڈی نیشن کمیٹی سمیت موجودہ طریقۂ کار سے بھرپور فائدہ اٹھائیں۔
 گرونڈبرگ نے کہا کہ تمام فریقوں کو بین الاقوامی انسانی حقوق کے قانون کے تحت اپنی ذمہ داریاں پوری کرنی چاہییں اور شہریوں اور شہری تنصیبات کا تحفظ یقینی بنانا چاہیے۔
 انہوں نے مزید کہا کہ وہ کشیدگی پر قابو پانے اور مذاکرات کے لیے گنجائش برقرار رکھنے کی غرض سے تمام فریقوں سے براہِ راست رابطہ جاری رکھیں گے۔ انہوں نے علاقائی اور بین الاقوامی فریقوں پر بھی زور دیا کہ وہ اپنا اثر و رسوخ استعمال کرتے ہوئے مذاکرات کی بحالی میں مدد کریں۔

 

شیئر: