ایران کا آبنائے ہرمز کے قریب نیا ’ممنوعہ زون‘ قائم کرنے کا اعلان
ایران کا آبنائے ہرمز کے قریب نیا ’ممنوعہ زون‘ قائم کرنے کا اعلان
پیر 7 ستمبر 2026 6:26
امریکہ کی جانب سے سنیچر کو بتایا گیا تھا کہ حملوں کے جواب میں ایرانی ٹینکرز کو نشانہ بنا گیا (فوٹو: عرب نیوز)
ایران کی سپریم سکیورٹی کونسل کے نئے سربراہ محسن رضائی نے کہا ہے کہ تہران آبنائے ہرمز کے باہر ایک ’ممنوعہ زون‘ بنانے کا ارادہ رکھتا ہے، جس کا ہدف وہ بحری جہاز ہوں گے جن کے بارے میں شک ہو کہ وہ آبی گزرگاہ سے گزرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
امریکی خبر رساں ادارے اے پی میں ان کی ایران کے سرکاری میڈیا سے گفتگو کا حوالہ دیا گیا ہے، تاہم اس مںصوبے کے بارے میں زیادہ تفصیلات نہیں بتائیں۔
محسن رضائی کا یہ بیان اس واقعے کے ایک روز بعد سامنے آیا ہے جب امریکی جہازوں پر بیلسٹک میزائل داغے جانے کے جواب میں اس کی فوج نے ایران کے تین تیل بردار جہازوں کو نشانہ بنایا۔
ماہرین کی جانب سے ایران کے میزائل حملوں کو کشیدگی میں خطرناک اضافے سے تعبیر کیا گیا ہے کیونکہ اس سے قبل سے قبل ایران کے حملے تجارتی جہازوں تک محدود تھے۔
محسن رضائی کا یہ بھی کہنا تھا کہ نئے زون کا اعلان آنے دنوں یا ہفتوں میں کیا جائے گا جس کی حدود امریکی ناکہ بندی میں آنے والے مقام سے لے کر آبنائے تک پھیلے گی اور دوسری جانب خلیج عرب تک جائے گی۔
’جو بھی جہاز آبنائے ہرمز سے گزرنے کے ارادےسے اس علاقے میں داخل ہو گا اس کی شناخت ہوجائے گی اور اسے پابندیوں کی فہرست میں شامل کر لیا جائے گی۔‘
محسن رضائی کا یہ بھی کہنا تھا کہ نئے زون کا اعلان آنے دنوں یا ہفتوں میں کیا جائے گا (فوٹو: اے پی)
یہ امر واضح نہیں ہے کہ ایران کئی ہفتوں سے جاری امریکی ناکہ بندی کی حدود کو کہاں تک سمجھتا ہے۔ یہ ناکہ بندی ایرانی بندرگاہوں کو نشانہ بنانے اور تہران کو سمندر کے راستے تیل برآمد کرنے سے روکنے کے لیے کی گئی ہے۔
امریکی فوج کاکہنا ہے کہ 20 سے زائد جنگی جہاز اس ناکہ میں 20 سے زائد جنگی جہاز حصہ لے رہے ہیں اور اتوار کے روز ان کی مدد سے 92 بحری جہازوں کا رخ موڑا گیا جبکہ تین کو ناکارہ بنایا گیا۔
اسی طرح امریکی کی جانب سے ایران پر معاشی دباؤ بڑھانے کے لیے نئی پابندیوں کے علاوہ دیگر اقدامات بھی کیے ہیں کیونکہ مذاکرات کا سلسلہ ناکام ہو چکا ہے اور وقفے وقفے سے جاری لڑائی کے خاتمے کے کوئی آثار دکھائی بھی نہیں دے رہے۔
دوسری جانب ایران بھی آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں پر حملے جاری رکھے ہوئے ہے۔
28 فروری سے شروع ہونے والی لڑائی کا سلسلہ ابھی تک وقفے وقفے سے جاری ہے (فوٹو: روئٹرز)
28 فروری کو امریکہ و اسرائیل کے ایران پر حملوں سے شروع ہونے والی جنگ کے دوران آبنائے ہرمز ایران کے لیے ایسے مقام کے طور پر ابھری ہے جس کے ذریعے وہ دباؤ ڈالنے کا سلسلہ برقرار رکھے ہوئے ہے۔
اتوار کو ایران کی جانب سے یہ دعویٰ بھی کیا گیا کہ اس نے ایک ایسے بغیر پائلٹ والے امریکی بحری جہاز کو نشانہ بنایا جو آبنائے ہرمز میں داخل ہونے کی کوشش کر رہا تھا۔
تاہم امریکی فوج نے اس دعوے کو ’مکمل جھوٹ‘ قرار دیتے ہوئے مسترد کیا۔
ایک ہفتے بعد لڑائی دوبارہ شروع
ایک ماہ تک صورت حال نسبتاً پرسکون رہنے کے بعد دونوں ممالک نے پچھلے ہفتے ایک دوسرے پر حملے شروع کیے جن کا سلسلہ ابھی تک جاری ہے۔