Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

اسرائیل کو فوجی معاونت اور اسلحے کی فروخت: جرمنی پر غزہ میں جاری نسل کشی میں سہولت کاری کا الزام

جنوبی افریقہ نے سال 2023 میں اسرائیل پر نسل کشی کا الزام عائد کرتے ہوئے عالمی عدالت میں مقدمہ دائر کیا تھا (فوٹو: اے ایف پی)
جرمنی نے پیر کے روز اقوام متحدہ کی اعلیٰ ترین عدالت کو بتایا کہ اسرائیل کو ہتھیاروں کی فروخت سے متعلق نسل کشی کا مقدمہ نکاراگوا نے غلط طریقے سے دائر کیا ہے، چنانچہ یہ مقدمہ خارج کر دینا چاہیے۔
امریکی نیوز ایجنسی اے پی کے مطابق، وسطی امریکی ملک نکاراگوا نے جرمنی پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ اسرائیل کو اسلحہ اور دیگر فوجی معاونت فراہم کرکے غزہ میں نسل کشی کے اقدامات میں’سہولت کاری‘ کر رہا ہے، یوں وہ نسل کشی کے کنونشن اور بین الاقوامی انسانی قانون کی خلاف ورزی کا مرتکب ہو رہا ہے۔
یہ مقدمہ اگرچہ براہِ راست جرمنی کے خلاف ہے، تاہم اس میں بالواسطہ طور پر غزہ میں اسرائیل کی فوجی کارروائیوں کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے، جو حماس کے 7 اکتوبر 2023 کے مہلک حملوں کے جواب میں شروع کی گئی تھیں۔ اسرائیل جو اس مقدمے کی کارروائی کا فریق نہیں ہے، واضح الفاظ میں اس الزام کی تردید کرتا ہے کہ اس کی کارروائیاں نسل کشی قرار پا سکتی ہیں۔
جرمنی کی اعلیٰ قانونی نمائندہ جولیا مونار نے ججوں کے روبرو یہ مؤقف اختیار کیا کہ ’نکاراگوا کے طرزِ عمل سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ جرمنی کا مؤقف یا اپنے الزامات پر اُس کا جواب سننے میں دلچسپی نہیں رکھتا تھا، بلکہ صرف جرمنی کو اس عدالت کے سامنے لانا چاہتا تھا۔‘
جرمنی اسرائیل کو اسلحہ فراہم کرنے والا دوسرا بڑا ملک
جرمنی کئی دہائیوں سے اسرائیل کے قیام کا مضبوط حامی رہا ہے اور امریکہ کے بعد اسرائیل کو اسلحہ فراہم کرنے والا دوسرا سب سے بڑا ملک ہے۔
سال2024  میں عدالت نے نکاراگوا کی اس ہنگامی درخواست کو مسترد کر دیا تھا جس میں جرمنی سے غزہ میں اسرائیل کو فوجی اور دیگر امداد روکنے کا حکم دینے کی استدعا کی گئی تھی، تاہم 16 ججوں پر مشتمل بینچ نے مقدمے کو مکمل طور پر خارج کرنے سے انکار کر دیا تھا۔
عالمی عدالتِ انصاف کی کارروائی مکمل ہونے میں طویل وقت لگ سکتا ہے
یہ کارروائی فلسطینی عوام کے ساتھ تاریخی تعلقات رکھنے والے کسی ملک کی جانب سے اسرائیل کی فوجی مہم کو قانونی طور پر محدود کرنے کی تازہ ترین کوشش ہے۔ اس سے قبل جنوبی افریقہ نے سال 2023 میں اسی عدالت میں اسرائیل پر نسل کشی کا الزام عائد کرتے ہوئے مقدمہ دائر کیا تھا۔

عالمی فوجداری عدالت نے اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو اور ان کے سابق وزیر دفاع یوآو گیلنٹ کی گرفتاری کے وارنٹ بھی جاری کیے ہیں (فوٹو: مہر نیوز ایجنسی)

جنوری 2024 میں عالمی عدالتِ انصاف کے ججوں نے اسرائیل کو حکم دیا تھا کہ وہ غزہ میں ہلاکتوں، تباہی اور نسل کشی کے کسی بھی اقدام کو روکنے کے لیے ہر ممکن کوشش کرے۔ دو ماہ بعد عدالت نے اسرائیل سے کہا کہ وہ غزہ میں انسانی صورتِ حال بہتر بنانے کے لیے اقدامات کرے، جن میں خوراک، پانی، ایندھن اور دیگر ضروری سامان کی ترسیل کے لیے مزید زمینی گزرگاہیں کھولنا بھی شامل تھا۔
جنوبی افریقہ کا کہنا ہے کہ اسرائیل نے ان احکامات کو بڑی حد تک نظرانداز کیا۔
جنوبی افریقہ کا اسرائیل کے خلاف مقدمہ اور نکاراگوا کا جرمنی کے خلاف مقدمہ، دونوں 1948 کے ’نسل کشی کے جرم کی روک تھام اور سزا کے کنونشن‘ کی خلاف ورزیوں کے الزامات پر مبنی ہیں۔ یہ کنونشن ہولوکاسٹ کے بعد تیار کیا گیا تھا تاکہ ایک نئے جرم یعنی نسل کشی کو بین الاقوامی قانون میں باقاعدہ طور پر تسلیم کیا جا سکے۔
اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کی جانب سے مقرر کردہ آزاد ماہرین کی ایک ٹیم اور نسل کشی کا مطالعہ کرنے والے ماہرین کی دنیا کی سب سے بڑی پیشہ ورانہ تنظیم دونوں اس نتیجے پر پہنچ چکے ہیں کہ اسرائیل اس معاہدے کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔ تاہم کسی حتمی قانونی فیصلے کا اختیار صرف بین الاقوامی عدالت کے پاس ہے۔
عالمی فوجداری عدالت میں بھی تحقیقات جاری
دی ہیگ میں عالمی فوجداری عدالت میں جاری ایک الگ کارروائی میں ججوں نے اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو اور ان کے سابق وزیر دفاع یوآو گیلنٹ کی گرفتاری کے وارنٹ جاری کیے ہیں۔ عالمی فوجداری عدالت میں ممالک کے باہمی تنازعات کی بجائے افراد کے خلاف مقدمات چلائے جاتے ہیں۔

جرمنی کئی دہائیوں سے اسرائیل کے قیام کا مضبوط حامی رہا ہے (فوٹو: در شپیگل)

عدالت کا کہنا تھا کہ غزہ میں حماس کے خلاف اسرائیلی فوجی مہم کے دوران انسانی امداد محدود کرکے ’بھوک کو جنگ کے ایک حربے کے طور پر‘ استعمال کیا گیا اور شہریوں کو جان بوجھ کر نشانہ بنایا گیا۔ اسرائیلی حکام ان الزامات کی تردید کرتے ہیں۔
غزہ میں جاری تنازع کے نتیجے میں دسیوں ہزار فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں اور پورا علاقہ تباہی سے دوچار ہے۔ گزشتہ سال امریکہ کی ثالثی میں ہونے والی ایک نازک جنگ بندی کے باوجود تشدد جاری رہا ہے۔
غزہ کی وزارتِ صحت کے مطابق جنگ بندی کے اعلان کے بعد سے اسرائیل کی پرتشدد کارروائیوں میں غزہ میں 1,300 سے زیادہ فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں۔ اس دوران پانچ اسرائیلی فوجی بھی ہلاک ہوئے ہیں۔

شیئر: