Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

حوثی ملیشیا مملکت میں حملے جاری رکھے ہوئے ہے، جواب دیں گے: ترجمان

اتحادی افواج کے سرکاری ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے کہا ہے کہ دہشت گرد حوثی ملیشیا مملکت میں قومی اثاثوں اور انفرا سٹرکچر کے خلاف اپنے گھناؤنے حملے جاری رکھے ہوئے ہے۔
ایس پی اے کے مطابق ترجمان نے کہا حوثی ملیشیا نے بدھ کو 9 ستمبر کو خمیس مشیط، ابہا، اور جازان شہر کو بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنایا ہے۔
 ترجمان نے کہا ’حوثیوں کی جانب سے حملوں کا تسلسل  اور مملکت میں شہریوں کو نشانہ بنانے کی کوشش ایک خطرناک کشیدگی ہے جو اس کی اپروچ اور انتہا پسندانہ نظریے کو ظاہر کرتا ہے۔‘
میجر جنرل ترکی المالکی نے کہا ’اتحاد کی مشترکہ کمان مملکت کی ان حملوں  کا ذمہ داری کے ساتھ جواب دے گی تاکہ خود مختاری اور قومی اثاثوں کے تحفظ کے ساتھ شہریوں اور شہری املاک کو ان گھناؤنی کارروائیوں سے بچایا جا سکے۔‘
’یہ جواب بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 کے مطابق حق دفاع کے اصول کے مطابق انسانی قانون اور اس کے روایتی اصولوں کی پاسداری کرتے ہوئے دیا جائے گا۔‘
اس سے قبل میجر جنرل المالکی نے بیان میں کہا تھا کہ حوثی ملیشیا کے حالیہ حملوں میں ابھا، خمیس مشیط، جازان اور نجران کے شہروں میں شہری اور اقتصادی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں خواتین اور بچوں سمیت 73 افراد زخمی ہوئے ہیں۔
انہوں نے حوثیوں پر الزام عائد کیا کہ وہ جان بوجھ کر سعودی عرب کے قومی بنیادی ڈھانچے اور شہری تنصیبات کو نشانہ بنا رہے ہیں۔
ترجمان نے ان حملوں کو مملکت کی خودمختاری کی خلاف ورزی اور اس کے شہریوں اور رہائشیوں کی سلامتی کے لیے براہِ راست خطرہ قرار دیا۔

 

شیئر: