Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

پائپ لائن پر حملہ، خلیجی اور اسلامی تنظیموں کا سعودی عرب کے ساتھ اظہارِ یکجہتی

اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) نے سعودی پائپ لائنوں پر حملوں کی شدید مذمت کی ہے (فوٹو: ای پی اے)
خلیجی اور مسلم ممالک کی تنظیموں نے سنیچر کو سعودی عرب کی مشرقی سے مغربی سمت جانے والی تیل پائپ لائن پر ڈرون حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے مملکت کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا۔ تنظیموں نے خبردار کیا کہ یہ حملے خطرناک اشتعال انگیزی ہیں جو علاقائی سلامتی اور اہم بنیادی ڈھانچے کے لیے سنگین خطرہ بن سکتے ہیں۔
خلیج تعاون کونسل (جی سی سی)، مسلم ورلڈ لیگ (ایم ڈبلیو ایل)، اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی)، قطر اور بحرین نے سنیچر کی صبح جاری کیے گئے اپنے بیانات میں حملے کی مذمت کی۔
یہ بیانات ایک ایسے وقت پر سامنے آئے جب عراقی حدود سے آنے والے متعدد ڈرونز نے ریاض اور مدینہ کے علاقوں میں واقع تیل پائپ لائن کو نشانہ بنایا، جن میں متعدد افراد زخمی ہوئے اور مالی نقصان بھی ہوا۔
کھلی خلاف ورزی
قطر اور بحرین نے حملے کی ’شدید الفاظ‘ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ شہری اور اقتصادی تنصیبات کو نشانہ بنانا ’بین الاقوامی قانون کی کھلی خلاف ورزی‘ اور خطرناک اشتعال انگیزی ہے، جو علاقائی سلامتی اور استحکام کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔

سعودی وزارتِ توانائی کے مطابق، جمعے کے روز متعدد حملوں کے بعد احتیاطی تدبیر کے طور پر تیل پائپ لائن کو عارضی طور پر بند کر دیا گیا (فائل فوٹو: گیٹی)

مسلم ورلڈ لیگ نے بھی ان حملوں کی شدید مذمت کی۔ مسلم ورلڈ لیگ کے سیکریٹریٹ کی جانب سے جاری بیان میں لیگ کے سیکریٹری جنرل شیخ محمد بن عبدالکریم العیسیٰ نے ڈرون حملوں کو ’بدترین مجرمانہ حملے‘ قرار دیا جو تمام مذہبی اصولوں، بین الاقوامی ضابطوں اور انسانی اصولوں کی خلاف ورزی ہیں۔
اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) نے بھی حملے کی شدید مذمت کی ہے۔ سعودی سرکاری خبر رساں ادارے الاخباریہ نے ایکس پر ایک پوسٹ میں تنظیم کا یہ بیان جاری کیا۔
عارضی بندش
سعودی وزارتِ توانائی نے بتایا کہ جمعے کے روز متعدد حملوں کے بعد احتیاطی تدبیر کے طور پر جمعرات کی صبح تیل پائپ لائن کو عارضی طور پر بند کر دیا گیا تھا۔ ان حملوں میں کئی افراد زخمی ہوئے جنہیں فوری طبی امداد فراہم کی گئی، جبکہ پائپ لائن کو محفوظ بنانے اور اس کی صورتِ حال کا جائزہ لینے کے لیے ہنگامی اور خصوصی تکنیکی ٹیمیں بھی تعینات کی گئیں۔
سعودی وزارتِ خارجہ نے کہا کہ ڈرونز عراق سے داغے گئے تھے اور بغداد کی جانب سے حملہ آوروں کے خلاف کارروائی کی درخواست کے بعد ریاض نے اس مرحلے پر فی الوقت جوابی کارروائی نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ درخواست عراقی وزیراعظم علی الزیدی نے کی تھی۔
عراق نے سعودی عرب کی سلامتی اور استحکام کو خطرے میں ڈالنے والے حملوں کی مذمت کرتے ہوئے ذمہ دار ملیشیا اور اس کی حمایت کرنے والے عناصر کے خلاف فوری تحقیقات کا حکم دیا۔ عراق نے کہا کہ اس کی سرزمین اور فضائی حدود کو کسی بھی ملک کے خلاف حملوں کے لیے لانچنگ پیڈ کے طور پر استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
یہ پائپ لائن تقریباً 1200 کلومیٹر طویل ہے جو سعودی عرب کے مشرقی علاقوں میں واقع آئل فیلڈز سے خام تیل بحیرۂ احمر کی بندرگاہ ینبع تک پہنچاتی ہے۔ اس طرح یہ آبنائے ہرمز کو بائی پاس کرتے ہوئے تیل کی ترسیل کا ایک متبادل راستہ فراہم کرتی ہے۔
پائپ لائن پر حملہ یمن میں ایران کے حمایت یافتہ حوثی جنگجوؤں کی جانب سے سعودی عرب کے شہری اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر کیے جانے والے متعدد حملوں کے بعد ہوا۔ پائپ لائن پر تازہ ترین حملے نے سعودی عرب کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے کی سلامتی کے حوالے سے خدشات مزید بڑھا دیے ہیں، اور خطے میں جاری کشیدگی خلیجی ممالک سے تیل کی برآمد کے متعدد راستوں کو خطرات سے دوچار کر رہی ہے۔

شیئر: