Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

کشمیر سے تعلق رکھنے والے ایوارڈ یافتہ فلم میکر عرفات شیخ امریکہ میں گرفتار

عرفات شیخ کے رشتہ دار اور دوست ان کی رہائی کے لیے مہم چلا رہے ہیں (فوٹو: انڈیا ابروڈ)
انڈیا کے زیرانتظام کشمیر سے تعلق رکھنے والے ایوارڈ یافتہ فلم میکر عرفات شیخ کو امریکہ میں حراست میں لے لیا گیا ہے۔
برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق ان کے اہل خانہ کا کہنا ہے کہ وہ قانونی طور پر تعلیم حاصل کرنے امریکہ گئے تھے اور بعد میں سیاسی پناہ کے لیے درخواست دی تھی۔
رپورٹ کے مطابق عرفات شیخ آبائی علاقے کشمیر کے تنازع اور کشیدگی کو اپنی فلموں کا موضوع بناتے رہے ہیں۔
امریکی محکمہ ہوم لینڈ سکیورٹی کی جانب سے بھی ان کو حراست میں لیے جانے کی تصدیق کی گئی ہے۔
اس کی جانب سے جاری بیان کے مطابق عرفات شیخ قانونی طور پر امریکہ میں داخل ہوئے تھے تاہم مقررہ مدت ختم ہونے کے بعد وہ غیر قانونی طور پر رہ رہے تھے۔
ان کے رشتہ داروں اور دوستوں جو ان کی رہائی کے لیے مہم چلا رہے ہیں، کا کہنا ہے کہ عرفات شیخ کو کیلیفورنیا سے آنے والی پرواز سے اترنے کے بعد امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ کے اہلکاروں نے ڈیلس ایئرپورٹ پر حراست میں لیا۔
رپورٹ کے مطابق ورجینیا کے شہر الیگزینڈریا میں رہنے والے عرفات شیخ 2019 میں طالب علم ویزے پر امریکا آئے تھے اور جارجیا سٹیٹ یونیورسٹی سے فلم کے شعبے میں اعلیٰ تعلیم حاصل کر رہے تھے اور بعدازاں سیاسی پناہ کے لیے درخواست دی تھی۔
رپورٹ میں سیاسی پناہ کے لیے دی گئی درخواست کی وجوہات نہیں بتائیں گئیں اور فقط اتنا بتایا گیا ہے کہ ان کی امیگریشن کی درخواست زیر التوا ہے اور انہیں امریکہ میں رہنے اور کام کرنے کی اجازت ہے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اگست میں کہا تھا کہ حکومت ایسے غیر ملکیوں کے ویزے منسوخ کرنے کی کوشش کر رہی ہے جو مختصر مدت کے لیے امریکا آنے کا دعویٰ کرتے ہیں لیکن بعد میں مستقل قیام کے لیے سیاسی پناہ کی درخواست دیتے ہیں۔
انہوں نے امیگریشن کے خلاف سخت اقدامات کیے اور ان کی ملک بدری کی مہم شروع کر رکھی ہے اور اس اقدام کی وجہ ملکی سلامتی کو قرار دیتے ہیں۔

صدر ٹرمپ نے امیگریشن کے خلاف سخت اقدامات کیے اور ان کی ملک بدری کی مہم شروع کر رکھی ہے (فائل فوٹو: اے ایف پی)

دوسری جانب حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں کا کہنا ہے کہ ایسے اقدامات سے قانونی عمل اور آزادی اظہار کے حقوق متاثر ہوئے ہیں اور خاص طور پر اقلیتوں کے لیے غیر محفوظ ماحول پیدا ہوا ہے۔ ان تنظیموں نے نسلی بنیاد پر امتیازی کارروائیوں پر بھی تشویش ظاہر کی ہے۔
عرفات شیخ کی پہلی فیچر ’سیفرن کنگڈم‘ نے 2024 میں شکاگو فلم میکرز ایوارڈ جیتا تھا جبکہ اسے ایل اے فلم اینڈ ڈاکومنٹری ایوارڈ، میلبورن فلم فیسٹیول اور ویک فاریسٹ فلم فیسٹیول میں بھی بہترین فلم کا ایوارڈ ملا۔
اسی طرح عرفاتشیخ نے ٹینک انٹرنیشنل فلم فیسٹیول میں ایمرجنگ فلم میکر ایکٹیویسٹ ایوارڈ بھی حاصل کر رکھا ہے۔

شیئر: