Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

سعودی عرب: ایک ہفتے میں اقامہ اور لیبر قوانین کی 13 ہزار 889 خلاف ورزیاں

 9 ہزار 992 غیر قانونی تارکین کو ان کے ملک واپس بھیجا گیا ہے ( فوٹو: ایس پی اے)
سعودی حکام نے ایک ہفتے کے دوران اقامہ، لیبر اور بارڈر سکیورٹی کی مزید 13 ہزار 889 خلاف ورزیاں ریکارڈ کی ہیں جبکہ 9 ہزار 992 غیر قانونی تارکین کو ان کے ملک واپس بھیجا گیا۔
ایس پی اے کے مطابق ’یکم سے 7 اکتوبر 2026 کے درمیان وزارت داخلہ نے مجموعی طور پر 6 ہزار 785 اقامہ قانون، 3 ہزار 394 بارڈر سکیورٹی اور 3 ہزار 394 لیبر قوانین کی خلاف ورزیاں ریکارڈ کیں۔‘
’غیر قانونی طور پر مملکت میں داخل ہونے کی کوشش پر ایک ہزار 382 افراد کو حراست میں لیا گیا، ان میں 66 فیصد ایتھوپین، 33 فیصد یمنی اور ایک فیصد دیگر ملکوں سے تعلق رکھتے ہیں۔
علاوہ ازیں مزید 34 ایسے افراد کو بھی پکڑا گیا ہے، جو سرحد پار کر کے مملکت سے ہمسایہ ملکوں میں داخل ہونے کی کوشش کر رہے تھے۔
 سفر، رہائش، روزگار اور پناہ دینے کی کوششوں میں ملوث 21 افراد کو بھی حراست میں لیا گیا ہے۔
واضح رہے سعودی عرب میں غیرقانونی تارکین وطن کو سفری، رہائشی یا ملازمت کی سہولت فراہم کرنا قانوناً جرم ہے اور اس کے لیے مختلف سخت سزائیں مقرر ہیں۔

سعودی وزارت داخلہ کا کہنا ہے’ جو بھی شخص غیر قانونی تارکین کو سعودی عرب میں داخل ہونے کی سہولت فراہم کرے گا، اسے 15 برس قید اور 10 لاکھ  ریال تک جرمانے کے ساتھ گاڑی اور جائداد کی ضبطی کی سزا کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔‘
مکہ اور ریاض میں ٹول فری نمبر 911 جبکہ مملکت کے دیگر علاقوں میں 999 یا 996 پر مشتبہ خلاف ورزیوں کی اطلاع دی جا سکتی ہے۔

 

شیئر: