Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

پاکستانی ٹی 20 ٹیم میں کیا نیا پن آیا ہے؟ عامر خاکوانی کا بلاگ

معاذ صداقت نے ماڈرن ٹی 20 تکنیک کے حساب سے فینز کو بہت معاذ نے متاثر کیا (فوٹو: اے ایف پی)
ابھی پاکستان سری لنکا ٹی 20 سیریز ختم ہوئی، پاکستان کا پلہ بھاری رہا۔ عرصے بعد پاکستان کا میچ دیکھتے ہوئے پینک اٹیک نہیں آئے۔
راولپنڈی میں دوسرے میچ کے دوران دلچسپ منظر دیکھنے کو ملا۔ ایک بہت اچھی پچ پر پاکستانی بلے باز رنز کا پہاڑ کھڑا کر چکے تھے۔
جب سری لنکن بیٹنگ شروع ہوئی تو ایک نسبتاً کم معروف پاکستانی میڈیم فاسٹ بولر ان کے گلے کی ہڈی بن گیا۔ چار اوور کا سپیل اور سری لنکن بلے باز گیند کو دائرے سے باہر نکالنے کو ترس گئے۔ کپتان کوشال مینڈس ایک سلو بال پر کیچ دے بیٹھے، اگلا بلے باز باہر جاتی گیند کو چھیڑ کر چلتا بنا۔
اس پاکستانی بولر نے تین میچوں کی پوری سیریز میں اپنی عمدہ ، ڈسپلنڈ بولنگ سے متاثر کیا۔ نام ہے عمران رندھاوا ہے، اور سچ پوچھیں تو سیریز کی سب سے اہم دریافت یہی ہے۔
سیریز پاکستان دو ایک سے جیت گیا۔ سوال یہ ہے کہ اس سیریز نے ہمیں دیا کیا اور کہاں ابھی کام باقی ہے؟
جیت، جو سب سے بڑی خبر ہے
سب سے اہم بات یہ ہے کہ پاکستان جیتا ہے۔ یہ ٹیم نئی تھی۔ بابر اعظم، شاہین شاہ آفریدی، حارث رؤف ، محمد رضوان اور سلمان علی آغا سب باہر۔ نیا کپتان، کئی نئے چہرے اور ایک ایسی ٹیم جسے دو ہزار 28 کے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے لیے تیار کرنے کی بات ہو رہی ہے۔ یہ پہلے ہی امتحان میں لڑکھڑا جاتی تو پورا تجربہ شروع ہونے سے پہلے دم توڑ دیتا۔
پہلے دونوں میچ پاکستان نے بڑے واضح مارجن سے جیتے۔ ایک میچ میں بڑا ہدف آرام سے حاصل کیا، دوسرے میں اتنا بڑا ٹوٹل کھڑا کیا کہ سری لنکا شروع سے آخر تک دباؤ میں رہا۔ ہماری بیٹنگ نے وہ جارحانہ اور بے خوف کرکٹ کھیلی جس کا ہم برسوں سے رونا روتے آئے ہیں۔

لیڈنگ فرام دا فرنٹ کپتان

پاکستان کے لیجنڈری کپتان عمران خان ایک بات ہمیشہ کہا کرتے تھے کہ کرکٹ میں کپتان کے لیے چھپنا ممکن نہیں، اسے لازمی طور پر فرنٹ سے لیڈ کرنا چاہیے، دوسروں کے لیے مثال بنے۔ صاحبزادہ فرحان کو کپتانی ملی تو بہت سوں نے ناک بھوں چڑھائی۔ فرحان نے جواب بلے سے دیا۔ سیریز کے تینوں میچوں میں نصف سنچریاں، اوسط بھی متاثر کن اور سٹرائیک ریٹ بھی شاندار۔
تیسرے میچ کی اننگز خاص طور پر قابل تعریف تھی۔ وکٹیں دھڑا دھڑ گر رہی تھیں مگر کپتان ڈٹا رہا اور عرفات منہاس کے ساتھ مل کر ٹیم کو ڈیسنٹ ٹوٹل تک لے گیا۔ فرحان کا یہ مسئلہ رہا ہے کہ وہ چھکے لگانے کی کوشش میں ڈآٹ بالز زیادہ کھیل جاتا ہے، اس بار بہتری آئی۔ اس نے سنگلز لیے، سٹرائیک روٹیٹ کی، لگتا ہے اس خامی پر کام کر رہا ہے۔ بطور کپتان البتہ فرحان کو فیلڈ پلیسمنٹ پر ابھی کام کرنا ہے اس کا ذکر آگے آئے گا، وقت کے ساتھ یہ بھی سیکھ جائے گا۔

29 برس کی عمر میں ٹیم میں پہنچنے والے عمران رندھاوا کی بولنگ دیکھ کر لگتا ہے کہ انہیں دو تین سال پہلے کھلایا جانا چاہیے تھا (فوٹو: پی سی بی)

معاذ صداقت، ٹیلنٹ بھی اور سبق بھی

پشاور کے اس نوجوان کھبے بلے باز نے پہلے دونوں میچوں میں جو بیٹنگ کی، وہ دیکھ کر دل خوش ہو گیا۔ ڈیبیو پر نصف سنچری اور دوسرے میچ میں ایسی دھواں دار اننگز کہ سنچری ذرا سے فاصلے پر رہ گئی۔
ماڈرن ٹی 20 تکنیک کے حساب سے بھی معاذ نے متاثر کیا۔ فاسٹ بولرز کے خلاف کریز سے نکل کر کھیلنا، سکوپ اور ریورس پیڈل جیسے جدید شاٹ، اور آف، آن دونوں سائیڈز پر رنز بنانے کی صلاحیت۔
تیسرے میچ میں اس سے غلطی ہوئی۔ ایک ہی اوور میں فخر زمان آؤٹ ہوئے، معاذ آئے اور آتے ہی بڑا شاٹ کھیلنے گئے، صفر پر واپس۔
یہاں ٹمپرامنٹ کا معاملہ ہے، جب اسی اوور میں وکٹ گر چکی ہو تو آتے ہی چھکا مارنا ضروری نہیں۔ سنگل لے کر سٹرائیک روٹیٹ کریں، پھر اپنا کھیل کھیلیں۔ اس لیے بھی کہ پاکستانی بیٹنگ کا اپنا ایک مزاج ہے، اچانک دو وکٹیں ٹاپ سے گر جائیں تو ٹیم پریشر میں آجاتی ہے۔ صداقت معاذ کو یہ بات سمجھائی جائے کہ وکٹ تھرو نہیں کرنی، تھوڑا لمبا میچ کو لے کر چلنا ہے
ٹی 20 میں بھی سنگلز، ڈبلز بنانا فائدہ مند ہے ، تب بولر دباؤ میں آتا ہے اور کوئی لوز گیند بھی پھینک دیتا ہے جس پر باؤنڈری لگائی جا سکے۔ معاذ یہ فن سیکھ لے تو یہ لڑکا لمبی ریس کا گھوڑا ہے۔
ایک اور بات، معاذ سے بولنگ بھی کرانی چاہیے۔ یہ اچھا بھلا پارٹ ٹائم سپنر ہے، اسے استعمال کریں۔ بے شک ایک آدھ اوور ہی سہی، مگر یہ آپشن موجود ہے تو استعمال کیوں نہ ہو؟

عمران رندھاوا، دیر آید، درست آید

عمران رندھاوا 29 برس کی عمر میں قومی ٹیم تک پہنچے ہیں۔ اس کی بولنگ کارکردگی، سمجھ بوجھ دیکھ کر لگتا ہے کہ دو تین سال پہلے کھلا دینا چاہیے تھا۔ اس نے برسوں ڈومیسٹک کرکٹ میں محنت کی۔

صاحبزادہ فرحان نے کپتانی ملنے پر تنقید کرنے والوں کو جواب اپنے بلے سے دیا (فوٹو: آئی سی سی)

ہمارے ہاں تاثر ہے کہ فاسٹ بولر بیس بائیس سال کا ہو تو کام کا ہے، ورنہ وقت گزر گیا۔ انگلینڈ اور آسٹریلیا وغیرہ میں تیس بتیس سال کی عمر میں ڈبییو کرا دیتے ہیں۔ جو چند سال اس کے پاس ہیںِ وہ قومی ٹیم کو دے اور اپنی پرفارمنس سے میچ جتوائے، مزید کیا چاہیے؟
رندھاوا کی اصل خوبی کنٹرول ہے۔ سپیڈ گو قدرے کم ہے مگر لائن لینتھ پر گرفت، رفتار میں تبدیلی اور سو بالز کا بروقت استعمال بڑا عمدہ ہے۔
وہ سلو آف کٹر بھی کراتا ہے اور بڑی چالاکی سے بیک آف ہینڈ سلو بال بھی۔ سب سے اہم ہتھیار کھبے بلے بازوں کے خلاف اس کا زاویہ تھا۔ وہ آف سٹمپ سے باہر کراس اینگل میں گیند کراتا جس پل کر کے آن سائیڈ پر کھیلنا مشکل ہوجاتا۔
رندھاوا کو ون ڈے سکواڈ میں بھی لے جانا چاہیے، ایسے بولر کو ایک فارمیٹ تک محدود رکھنا زیادتی ہو گی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ عمران رندھاو اچھا بھلا بلے باز بھی ہے، فرسٹ کلاس میں اس کی دو سنچریاں ہیں اور ہائیسٹ سکور ایک سو 79 ہے ، جی ڈبل سنچری کے قریب۔
ون ڈے میں ہائیسٹ 71 جبکہ ٹی 20 میں 80 ہے۔ دونوں فارمیٹس میں نصف سنچریاں ہیں۔ یعنی رندھاوا پاکستانی کوچ مائیک ہیسن کے آل راونڈرز زیادہ کھلانے والے فارمولے میں بھی فٹ ہے۔

رضااللہ اور نسیم شاہ

رضااللہ کی رفتار متاثر کن ہے، 90 میل فی گھنٹہ سے زیادہ سپیڈ کا فاسٹ بولر ہر روز نہیں ملتا، مگر ابھی وہ کچا ہے۔ لائن لینتھ میں تسلسل نہیں اور بلاوجہ شارٹ پچ گیندیں کرانے کی عادت ہے۔
ٹی 20 میں بے مقصد باؤنسر مہنگا سودا ہے۔ رضااللہ کو یارکر پر کام کرنا ہو گا۔ وقار یونس کو دنیا ان کی یارکر سے جانتی ہے اور وہ نیٹ میں گھنٹوں کی مشق سے بنی تھی۔ رضااللہ کا ایکشن وقار جیسا ہے، وہ شائد وقار یونس بننا چاہتے ہوں گے مگر اس کے لیے انہیں جان مارنا ہوگا۔ ویسے لڑکے میں ٹیلنٹ ہے، بس اسے گروم کرنا ہو گا۔
نسیم شاہ نے اچھی بولنگ کی، رفتار بھی خاصی رہی۔ البتہ پہلے میچ میں دو تین وائیڈ گیندیں ایسی کرائیں جو کیپر کے پاس سے نکل کر باؤنڈری پار کر گئیں۔ مفت کے پانچ رنز۔ نسیم کو لائن پر قابو رکھنا ہو گا۔ وہ اس اٹیک کا سینئر باؤلر ہے اور اسے مستقل کھلانا چاہیے۔

رضااللہ کا ایکشن وقار جیسا ہے، سپیڈ بھی اچھی ہے مگر انہیں مزید محنت کرنا ہو گی (فوٹو: اے پی)

سپنرز، شاداب اور عرفات منہاس

پچ سپنرز کے لیے زیادہ مددگار نہیں تھی، اس لیے ابرار احمد اور سفیان مقیم بہت کامیاب نہیں ہو سکے۔ ان پر زیادہ تنقید مناسب نہیں، ٹرننگ وکٹوں پر یہی دونوں میچ جتوائیں گے۔
شاداب خان کی کارکردگی البتہ مایوس کن رہی۔ بولنگ میں وہ کاٹ نہیں تھی جو طویل عرصہ پہلے ہوتی تھی۔ شاداب زیادہ تر گیندیں ٹو مچ شارٹ کراتا ہے یا پھر آگے ڈالنے کے چکر میں فل ٹاس۔ ظاہر ہے دونوں پر چھکے لگیں گے۔ بیٹنگ میں بھی غیر ذمہ دارانہ شاٹ کھیل کر آؤٹ ہوئے۔ اس کے مقابلے میں عرفات منہاس نے دونوں شعبوں میں بہتر کارکردگی دکھائی۔ میرے خیال میں تیسرا سپنر اور آل راؤنڈر عرفات ہی بنتا ہے۔
سلمان مرزا بھی زیادہ کامیاب نہیں رہے۔ ان کی جگہ عاکف جاوید اور علی رضا کو آزمانا چاہیے۔ یہ دونوں ایشین گیمز کا فائنل کھیلنے والے سکواڈ میں شامل تھے، مگر انہیں کھلایا ہی نہیں گیا اور پھر سری لنکا کے خلاف سکواڈ سے بھی باہر کر دیا گیا۔
یعنی آزمائے بغیر ہی ڈراپ۔ یہ کون سا انصاف ہے؟ موقع دیے بغیر رد کر دینے سے اسے یہی پیغام جاتا ہے کہ ٹیم میں جگہ کارکردگی سے نہیں، کسی اور بنیاد پر بنتی ہے۔ علی رضا خاصا تیز باولر ہے، اسے مواقع ملنے چاہئیں۔
بیٹنگ آرڈر کا معاملہ
فخر زمان بڑی اننگز تو نہیں کھیل سکے مگر جتنی دیر کریز پر رہے، تیزی سے رنز بنائے۔ اچھی بات یہ کہ خاصے عرصے بعد انہیں اصل جگہ یعنی اوپنر کے طور پر کھلایا گیا۔ فخر کو ٹیم کے ساتھ رکھیں اور اسی جگہ کھلائیں۔
فخر اوپنر کھیلے تو معاذ ون ڈاؤن پر ہی آئے گا۔ حسن نواز کو مڈل آرڈر میں کھلانا چاہیے جہاں ان کی جارحانہ بیٹنگ آخری اوورز میں زیادہ کارآمد ہے۔ عبدالصمد کو بھی مزید مواقع ملنے چاہییں۔

پاکستانی ٹیم نے مجموعی طور پر بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا (فوٹو: کرک انفو)

صائم ایوب کو البتہ محنت کرنا ہو گی۔ وہ ٹیم میں بطور بلے باز ہی کھیلیں گے، یہ ان کا مین رول ہے۔ اپنی پارٹ ٹائم بولنگ کے بل بوتے پر وہ زیادہ نہیں کھیل پائیں گے۔ صائم نے خود کو نہ سنبھالا تو کسی اور کو موقع ملے گا۔
تیسرے میچ سے ایک تکنیکی سبق یہ بھی ملا کہ سری لنکا نے منصوبہ بندی سے سلو بالز کرائیں تو ہمارا مڈل آرڈر پھنس گیا۔ شناکا جیسا درمیانی رفتار کا بولر وکٹیں لے گیا۔ ہمارے بلے بازوں کو چینج آف پیس کو ہینڈل کرنا چاہیے۔
وکٹ کیپنگ کا بحران
سیریز کی سب سے تلخ یاد وکٹ کیپنگ رہی۔ سب سے بری کارکردگی وکٹ کیپر خواجہ نافع کی رہی۔ وہ پوری سیریز میں کمزور پارٹ ٹائم وکٹ کیپر لگے، جیسے کسی بلے باز کو مجبوری میں دستانے پکڑا دیے گئے ہوں۔ وائیڈ گیندوں پر بائی کے چوکے اور سپنرز کی گیندیں بھی اچھے طریقے سے پکڑی نہ جارہی ہوں۔ خواجہ نافع کی بدترین کیپنگ نے مایوس کیا۔ ایسی کیپنگ کے ساتھ جگہ نہیں بنتی۔ سعد بیگ کو موقع دیا جا سکتا ہے یا پھر غازی غوری کو۔ جو بھی آئے، پہلے وکٹ کیپر ہو، بلے باز بعد میں۔

ٹیم جو بن سکتی ہے

پوری گفتگو کا نچوڑ یہ ہے کہ مجموعی منظر ایسا برا نہیں جتنا تیسرے میچ کے بعد کچھ لوگ دکھا رہے ہیں۔ اس ٹیم میں اگر سپیلشسٹ وکٹ کیپر آ جائے، شاداب کی جگہ عرفات منہاس کھیلے اور سلمان مرزا کی جگہ کوئی بہتر فاسٹ باؤلر جیسے نسیم شاہ ہو تو ایک اچھی لڑنے والی ٹیم بنتی ہے۔ نسیم شاہ اور عمران رندھاوا مستقل کھیلیں، ان کے ساتھ علی رضا اور رضااللہ میں سے کسی ایک کو باری باری موقع ملتا رہے۔
سب سے اہم بات تسلسل ہے۔ یہ بہت ضروری ہے۔ کپتان کو سپورٹ کریں اور نوجوان کھلاڑیوں کو بھی۔ اللہ کرے یہ نوجوان ٹیم اسی جذبے اور بے خوفی کے ساتھ کھیلتی رہے، سلیکٹرز کو صبر اور فیصلہ سازوں کو سمجھ عطا ہو۔ آمین۔
البتہ اگلی سیریز سے پہلے دعا یہ بھی ہے کہ وکٹوں کے پیچھے کوئی ایسا کیپر کھڑا ہو جسے دیکھ کر فاسٹ باولر کا دل تیز گیند کراتے ڈوبنے نہ لگے کہ بائی کا چوکا نہ لگوا دے۔

شیئر: