Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

ایشین گیمز میں پاکستان ہارا مگر میچ جیتا جا سکتا تھا، عامر خاکوانی کا کالم

انڈیا نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا (فوٹو: اے ایف پی)
آخری گیند تھی، نوجوان حسن نواز 96 رنز پر کھڑے تھے۔ میچ تو خیر ہاتھ سے نکل چکا تھا، مگر دل کہہ رہا تھا کہ یار یہ لڑکا کم از کم اپنی سینچری تو مکمل کر لے۔ شیوم دوبے نے سلو باؤنسر پھینکی، گیند کنارہ لے کر وکٹ کیپر کے دستانوں میں چلی گئی۔ انڈیا 19 رنز سے جیت گیا اور ایشین گیمز کا گولڈ میڈل ایک بار پھر اس کے حصے میں آیا۔    
 پاکستان کو سلور میڈل ملا۔ ویسے آپ شاid حیران ہوں کہ ایشین گیمز میں پاکستانی مینز کرکٹ ٹیم کی یہ بہترین کارکردگی ہے، یعنی پچھلے ایشین گیمز میں زیادہ برے حال رہے۔
2010 میں کانسی کا تمغہ ملا تھا، 2014 میں ٹیم بھیجی ہی نہیں گئی اور 2023 میں خالی ہاتھ لوٹے۔ میرا دکھ مگر یہ نہیں کہ ہم ہار گئے۔ انڈیا سے ہارنا اب انہونی بات نہیں رہی، یہ ٹی20 میں ان کی ہمارے خلاف لگاتار ساتویں جیت ہے۔ دکھ یہ ہے کہ یہ میچ جیتا جا سکتا تھا اور ہم نے اسے اپنے ہاتھوں سے پھسلنے دیا۔
دوسرا اوور جس نے رخ تبدیل کیا
انڈیا نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا۔ سامنے دو لیفٹ ہینڈ بیٹرز تھے، ابھیشیک شرما اور ویبھو سوریا ونشی، جو آج کی ٹی20 کرکٹ کے خطرناک ترین ہٹرز میں گنے جاتے ہیں۔ ایسے میں کپتان صاحبزادہ فرحان نے دوسرا اوور نوجوان لیگ سپنر سعد مسعود کو دے دیا۔ وہ ناتجربہ کار ہیں اور نئی گیند سے بولنگ کا تجربہ بھی شاید ان کے پاس اتنا نہیں۔ اس ایک اوور میں 24 رنز پڑ گئے اورانڈین ٹیم کو میچ میں ابتدائی برتری مل گئی۔
میں سمجھتا ہوں یہ محض ایک خراب اوور نہیں بلکہ کپتان کا غلط فیصلہ تھا۔ فائنل میں دنیا کے بہترین ہٹرز کے سامنے نوجوان لیگ سپنر کو نئی گیند تھما دینا ایسا ہی ہے جیسے نئے ڈرائیور کو پہلے ہی روز رات کے وقت جی ٹی روڈ پر ٹرکوں کے پیچھے چھوڑ دیا جائے۔
اگلے اوور میں صائم ایوب نے سوریا ونشی کو 15 رنز پر آؤٹ کیا، اور احمد دانیال نے سنجو سیمسن کو دو رنز پر چلتا کیا، مگر ابھیشیک شرما نے ہر بولر کی پٹائی کی اور صرف 20 گیندوں پر نصف سینچری مکمل کر لی۔ چھ اوورز میں انڈیا 81 رنز دو وکٹ پر تھا، جو ٹی20 میں پاکستان کے خلاف اس کا سب سے بڑا پاور پلے سکور ہے۔
ایک فاسٹ بولر کے ساتھ فائنل؟
پاکستان اس فائنل میں صرف ایک فاسٹ بولر احمد دانیال کے ساتھ اترا۔ کیوں؟ شاید ہمارے ذہین کوچ نے یہ سوچا ہوگا کہ بیٹرز سپن اچھا نہیں کھیلتے۔ یہ سوچ ہی غلط تھی۔ انڈین بیٹرز بچپن سے سپن کھیل کر بڑے ہوتے ہیں اور آئی پی ایل میں دنیا کے بہترین بولرز کو کھیلتے ہیں۔

پاکستانی ٹیم میں اس وقت سب سے تجربہ کار سپنر ابرار احمد ہیں جنہیں ساتویں اوور میں لایا گیا (فوٹو: اے ایف پی)

ہمارے پاس تجربہ کار مسٹری سپنر ابرار احمد تھے، بہترین فارم میں سفیان مقیم تھے جنہوں نے سیمی فائنل میں تین وکٹیں لیں، کارآمد پارٹ ٹائمر صائم ایوب تھے۔ ان کے ہوتے ہوئے سعد مسعود یا عرفات منہاس میں سے ایک سپنر کافی تھا جبکہ اس کے ساتھ دوسرا فاسٹ بولر کھلایا جاتا جو کم از کم ڈیتھ اوورز میں بولنگ تو کرا سکتا۔
عجیب فیصلہ یہ تھا کہ سیمی فائنل کھیلنے والے محمد وسیم جونیئر کو باہر بٹھا دیا گیا۔ وسیم اچھے یارکر کرا لیتے ہیں اور ڈیتھ اوورز میں ان کی ضرورت سب سے زیادہ تھی۔ سکواڈ میں عاکف جاوید اور علی رضا بھی موجود تھے۔ یعنی تین فاسٹ بولر بنچ پر بیٹھے میچ دیکھتے رہے۔
ابرار اور سفیان کہاں تھے؟
کپتانی خاصی مایوس کن رہی، خاص کر باولرز کو درست انداز میں استعمال نہیں کیا گیا۔ پاکستانی ٹیم میں اس وقت سب سے تجربہ کار سپنر ابرار احمد ہیں جنہیں ساتویں اوور میں لایا گیا جب پہلے چھ اوورز میں انڈیا تباہی پھیلا چکا تھا، چھ اوورز میں 81 رنز بن چکے تھے جب ابرار کو بلایا گیا۔ اس کے پہلے ہی اوور میں صرف چار رنز بنے اور ابھیشیک کو آؤٹ کرنے کے دو مواقع بھی بنے، ایک ابرار سے ضائع ہوا اور دوسرا وکٹ کیپر عثمان خان سے۔ ابھیشیک تب ترپن پر تھے۔ اگلے اوور میں عرفات منہاس نے انہیں سٹمپ کروایا، مگر تب تک وہ اٹھائیس گیندوں پر اکسٹھ رنز بنا چکے تھے۔
ایک اور حیران کن فیصلہ سفیان مقیم کو دیر سے لانے کا رہا۔ اسے نو اوورز کے بعد بلایا گیا جب انڈیا سو رنز بنا چکا تھا۔ اس کی وجہ صاحبزادہ فرحان سے ضرور پوچھنی چاہیے۔ اپنے بہترین بولرز کو چھپا کر رکھنا کوئی حکمت عملی نہیں۔ بہترین بولر اسی وقت آتا ہے جب سب سے خطرناک بلے باز کریز پر ہو۔
جب ابرار اور سفیان مقیم دونوں آئے تو میچ کا رخ بدل گیا، پاکستان نے ڈیمیج کنٹرول کر لیا۔ 10 اوورز میں انڈیا 114 رنز بنا چکا تھا، مگر اگلے چھ اوورز میں صرف 28 رنز بنے۔ ابرار نے کپتان شریاس آئیر کو آؤٹ بھی کیا۔ ایک لمحے کو لگا کہ انڈیا کو 175 پر روکا جا سکتا ہے۔

پانچویں اوور میں صائم ایوب نے ابھیشیک کا موقع ضائع کیا جب وہ 39 پر تھے (فوٹو: اے ایف پی)

آخری چار اوور، 69 رنز
پھر وہی ہوا جس کا ڈر تھا۔ آخری چار اوورز میں انڈیا نے 69 رنز بنا ڈالے۔ تلک ورما اور شیوم دوبے نے 31 گیندوں پر 62 رنز سکور کیے۔  18ویں اوور میں سفیان مقیم کو تلک نے ایک چوکا اور لگاتار دو چھکے مارے۔ 19ویں اوور پارٹ ٹائم سپنر صائم ایوب نے کیا اور اس میں 23 رنز پڑ گئے۔ آخری تین میں سے دو اوور سپنرز سے کرانا زیادتی ہے، مگر کپتان کرتا بھی کیا، اس کے پاس ڈیتھ اوورز کا کوئی ڈھنگ کا فاسٹ بولر تھا ہی نہیں۔
ویسے عرفات منہاس نے تین اوورز میں صرف 25 رنز دے کر دو وکٹیں لیں اور وہ سب سے کامیاب بولر تھے، مگر ان کا چوتھا اوور کرایا ہی نہیں گیا۔ صائم ایوب کا سکینڈ لاسٹ اوور عرفات سے کرایا جا سکتا تھا۔
احمد دانیال نے سنجو سیمسن اور شیوم دوبے کی وکٹیں لیں۔ لڑکے میں دم ہے مگر تجربے کی کمی ہے، کسی کو اسے سمجھانا چاہیے کہ چھوٹی باؤنڈریز والے گراؤنڈ میں انڈین ہٹرزکو شارٹ پچ گیند کرانا خود کشی ہے۔ اس نے ابتدائی اوورز میں بھی یہی غلطی کی اور 20ویں اوور میں بھی، جب تلک ورما نے لگاتار دو چھکے مار کر انڈیا کو دو سو کے پار پہنچا دیا۔
میرا اندازہ ہے کہ ڈیتھ اوورز میں صرف ایک اچھا یارکر بولر ہوتا تو انڈیا کے 25 20 رنز کم بنتے۔ اب ذرا یاد کریں، میچ کتنے رنز سے ہارے؟ 19 سے۔                
کیچ چھوڑو، میچ ہارو
بولنگ خراب تھی تو فیلڈنگ بدترین رہی۔ پانچویں اوور میں صائم ایوب نے ابھیشیک کا موقع ضائع کیا جب وہ 39 پر تھے، اور اس کے بعد انہوں نے مزید 22 رنز بنائے۔ ساتویں اوور میں ابرار اور عثمان خان سے لگاتار دو گیندوں پر مواقع ضائع ہوئے۔ اننگز کی آخری گیند پر سفیان مقیم نے تلک ورما کا آسان کیچ چھوڑ دیا۔ مس فیلڈنگ الگ رہی، عثمان خان کی وکٹ کیپنگ نہایت بری تھی، اس سے گیند ہی نہیں پکڑی جا رہی تھی۔ اوپر سے 11 وائیڈز بھی کرائی گئیں۔

پاکستان کی جانب سے  فائنل میں سب سے اچھی کارکردگی حسن نواز نے دکھائی (فوٹو: اے ایف پی)

مجھے پچھلے سال کا ایشیا کپ فائنل یاد آتا ہے۔ تب بھی تلک ورما ناٹ آؤٹ رہ کر انڈیا کو جتوا گئے تھے، تب بھی پاکستان نے دو کیچ چھوڑے تھے اور وکٹ کیپر محمد حارث نے انہیں رن آؤٹ کرنے کا موقع ضائع کیا تھا۔ ایک سال گزر گیا، کھلاڑی اور کپتان بدل گئے، مگر کہانی وہی رہی۔
پاور پلے کا بوجھ
212 کا ہدف بڑا تھا مگر ٹی20 میں ناممکن نہیں، بشرطیکہ آغاز اچھا ہو۔ پہلے اوور میں بمرا نے دو نو بالز کیں، یعنی دباؤ ان پر بھی تھا۔ مسلسل آؤٹ آف فارم صاحبزادہ فرحان 11 گیندوں پر 10 رنز بنا کر سلاگ سویپ کھیلتے ہوئے آؤٹ ہو گئے۔ عثمان خان سے ہٹ ہی نہیں لگ رہی تھی اور وہ تین رنز پر چلتے بنے۔ معاذ صداقت برا لڑکا نہیں، اس نے 23 رنز بنائے، مگر بڑے ہدف کی وجہ سے اسے شروع سے بڑے شاٹس کھیلنے پڑے۔ بمراہ اور اکشر پٹیل نے پاور پلے میں کمال کی بولنگ کی، اس کا اعتراف کرنا چاہیے۔
پاکستان نے پاور پلے میں صرف 39 رنز بنائے ۔ پانچویں چھٹے اوور میں مجموعی طور پر محض پانچ رنز۔ ٹارگٹ اتنا بڑا ہو اور پھر بھی یہ قیمتی اوور یوں ضائع ہوں تو سارا بوجھ درمیانی بیٹنگ پر آ گرتا ہے۔ 10 اوورز کے بعد پاکستان 76 رنز تین وکٹ پر تھا اور آخری 10 اوورز میں 136 رنز درکار تھے۔ میچ تقریباً یک طرفہ ہو چکا تھا۔
حسن نواز کی غیرمعمولی اننگ
پاکستان کی جانب سے  فائنل میں سب سے اچھی کارکردگی حسن نواز نے دکھائی۔ اسی نوجوان نے میچ فائٹنگ بنایا اور آخری اوور تک لے کر گیا، ورنہ پاکستانی ٹیم شاید جلد ڈھیر ہوجاتی۔ حسن نواز نے 51 گیندوں پر 96 رنز بنائے، پانچ چوکے اور سات چھکے۔ روی بشنوئی جیسے بولر کے ایک اوور میں 20 رنز بنا ڈالے۔ 
حسن کی بیٹنگ میں صرف طاقت نہیں تھی، تکنیکی مہارت بھی نظر آئی۔ بشنوئی کی فل گیند کو لانگ آف کے اوپر چھکا لگانا اور پھر شارٹ گیند پر تیزی سے پیچھے جاکر پل کھیلنا۔ اکشر پٹیل کی گیند پر فرنٹ لیگ ہٹا کر لانگ آن کے اوپر شاٹ لگانا، یہ مختلف صلاحیتیں ہیں۔ ان کے کئی شاٹس عالمی معیار کے تھے۔ وہ ہر گیند پر ایک ہی شاٹ لگانے کی کوشش نہیں کر رہے تھے، گیند کی لینتھ کے مطابق اپنا جواب بدل رہے تھے۔ سب سے اچھی بات ان کی سٹرائیک روٹیشن تھی۔ تیز سنگلز، ڈبل لیے۔ حسن کو ون ڈے ٹیم میں بھی مواقع ملنے چاہییں۔ وہ پہلے کھیل چکا، پھرناکام ہوا مگر اب کی بار حسن نواز کی بیٹنگ میں بہت فرق اور مثبت تبدیلی نظر آئی۔

آخری چار اوورز میں کم ازکم 22 20 رنز زیادہ دیے گئے۔ یعنی پاکستان کو اندیا نے کم، اپنی غلطیوں نے زیادہ ہرایا (فوٹو: اے ایف پی)

صائم ایوب نے بولنگ میں مار کھائی، مگر بیٹنگ میں حسن نواز کے ساتھ ستاسی رنز کی شراکت بنا کر ٹیم کو میچ میں واپس لے آئے۔                   
میچ جیتا جا سکتا تھا
کیا یہ میچ واقعی جیتا جا سکتا تھا؟ میرا جواب ہاں میں ہے۔ ابھیشیک کا چھوٹا کیچ 22 رنز کا پڑا، 11 وائیڈز الگ، اور آخری چار اوورز میں کم ازکم 22 20 رنز زیادہ دیے گئے۔ یعنی پاکستان کو اندیا نے کم، اپنی غلطیوں نے زیادہ ہرایا۔
یہ بھی ماننا پڑے گا کہ مقابلہ برابر کا نہیں تھا۔ انڈیا تقریباً مکمل ٹیم کے ساتھ اترا تھا، ان کے ٹی20 کرکٹ کے سپر سٹارز کھیل رہے تھے۔ بمرا، دوبے، اکثر، شریاس آئیر، تلک ورما، سنجو شرما، ابھیشک، سوریا ونشی، ابھیشک شرما، واشنگٹن سندر، بشنوئی وغیرہ۔ صرف ہاردک پانڈیا نہیں تھا، جبکہ پاکستان کے پاس شاہین شاہ آفریدی، نسیم شاہ، حارث رؤف یا بابر اعظم اور فخر زماں جیسا کوئی بڑا نام نہیں تھا۔
یہ بھی ہوا کہ چاروں کوارٹر فائنل بارش کی نذر ہوئے اور سیمی فائنل صرف 13 اوورز کا ہوا۔ اس کے باوجود ایک نوجوان ٹیم انڈیا کی مکمل ٹیم کو اوور تک لے گئی۔ حسن نواز، صائم ایوب، عرفات منہاس اور ابرار احمد نے دکھایا کہ صلاحیت کی کمی نہیں۔ خامی ہماری منصوبہ بندی، ٹیم سلیکشن ڈیتھ اوورز اور فیلڈنگ کی ہے۔
سلور میڈل اور چند سوال

صاحبزادہ فرحان ٹی20 کی کپتانی جاری رکھنا چاہتے ہیں وہ ان کا حق ہے، مگر پہلے انہیں اپنی بیٹنگ فارم واپس لانی ہوگی (فوٹو: اے ایف پی)

سلور میڈل برا نہیں، مگر گولڈ میڈل پاکستان جیت سکتا تھا۔ چند سوال پوچھنا بھی ضروری ہیں۔ فائنل میں وسیم جونیئر کو کیوں ڈراپ کیا گیا؟ دوسرا اوور ناتجربہ کار سعد مسعود کو کس سوچ کے تحت دیا گیا؟ ابرار اور سفیان کو اتنی دیر سے کیوں بلایا گیا؟ عرفات منہاس کا چوتھا اوور کہاں گیا؟ اور ہماری فیلڈنگ کب سدھرے گی؟
صاحبزادہ فرحان ٹی20 کی کپتانی جاری رکھنا چاہتے ہیں۔ ان کا حق ہے، مگر پہلے انہیں اپنی بیٹنگ فارم واپس لانی ہوگی اور یہ ثابت کرنا ہوگا کہ وہ بولرز کو درست ترتیب سے استعمال کرنا سیکھ چکے ہیں۔
اللہ کرے کہ اگلی بار جب پاکستان اور انڈیا آمنے سامنے ہوں تو ہمارے پاس ڈیتھ اوورز میں کوئی ڈھنگ کا یارکر کرانے والا بولر ضرور ہو اور ہمارے فیلڈرز کے ہاتھوں میں گوند لگی ہو، تیل نہیں۔ آمین۔

 

شیئر: