Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

صدر ٹرمپ نے ایران کے خلاف نئے حملوں کا ابھی فیصلہ نہیں کیا: امریکی وزیر خارجہ

روبیو کا کہنا تھا اگر ہم چاہیں تو اپنے فوجی اہداف حاصل کر سکتے ہیں۔( فوٹو: اے ایف پی)
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے سنیچر کو کہا ہے کہ امن مذاکرات کے تعطل کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر نئے حملوں سے متعلق ابھی کوئی فیصلہ نہیں کیا ہے۔
عرب نیوز کے مطابق اٹلانٹا، جارجیا میں پریس کانفرنس کے دوران جہاں وہ جی 20 ممالک کے وزرائے خارجہ کے دو روزہ اجلاس کی میزبانی کر رہے تھے کہا کہ ’اگر ہم چاہیں تو اپنے فوجی اہداف حاصل کر سکتے ہیں۔‘
تاہم روبیو نے کہا کہ ’صدر ٹرمپ نے ’مزید فوجی کارروائی کے بارے میں کوئی فیصلہ نہیں کیا‘۔
یہ بات ایسے وقت سامنے آئی ہے جب ایسی اطلاعات گردش کر رہی ہیں کہ امریکی صدر منگل کو ہونے والے مڈٹرم انتخابات کے بعد ایران پر حملہ کر سکتے ہیں۔
مارکو روبیو کا کہنا تھا ’آج میرے پاس اس حوالے سے آپ کے لیے کوئی اعلان نہیں ہے اور نہ ہی ہم اس معاملے کو ہلکے میں لیتے ہیں۔‘
امریکی وزیر خارجہ  نے تہران کی جانب سے تجارتی جہازوں نشانہ بنائے جانے کی سخت تنقید کی لیکن ساتھ ہی ٹرمپ کی جانب سے ایران کے ساتھ جنگ کے خاتمے کے لیے سفارتی حل کو ترجیح دینے کا اظہار کیا۔
انہوں نے مذاکرات کے لیے کسی ٹائم لائن کا وعدہ نہیں کیا۔
امریکی وزیر خارجہ نے کہا کہ ’میں ان مذاکرات میں ہونے والی پیش رفت یا اس کے لیے کسی ٹائم فریم کے بارے میں کوئی تبصرہ نہیں کروں گا۔ سوائے اس کے کہ میں آپ کو یہ بتا دوں اگر کوئی سفارتی حل موجود ہے تو ہم اس کے لیے تیار ہوں گے۔‘
سینعر کو ایران کے سپریم لیڈر مجتبی خامنہ ای نے مسلح افواج کو حکم دیا کہ وہ دشمن کے کسی بھی خطرے کا فوری اور ’بغیر کسی جغرافیائی حد‘ کے جواب دیں۔
مجتبی خامنہ ای نے یہ بھی کہا کہ ایران اپنے دشمنوں کی جانب سے کسی بھی نئی فوجی یا دہشت گردانہ کارروائیوں کے خاتمے کا وقت اور شرائط کا تعین خود کرے گا۔
ایران کے سرپیم لیڈر کا یہ انتباہ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے مزید فوجی کارروائی کی دھمکیوں کے تناظر میں سامنے آیا ہے۔
یاد رہے صدر ٹرمپ نے امریکی وسط مدتی انتخابات کے بعد نئی فوجی کارروائی کے امکان سے خبردار کیا تھا۔
جمعرات کو یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کاجا کالاس نے اے ایف پی کو بتایا تھا کہ ہم سفارتی حل پر زور دے رہے ہیں اور حقیقت یہ ہے کہ کشیدگی میں اصافہ کسی کے مفاد میں نہیں ہے۔

 

شیئر: