فلم ’شان‘ میں شاکال کے مگرمچھ کو مارنے والے، فلم ’مسٹر نٹور لال‘ اور ’خون پسینہ‘ میں شیر کو ننگے ہاتھوں ہرانے والے امیتابھ بچن جب یکم نومبر یعنی اتوار کو معمول کے مطابق اپنے گھر ’جلسہ‘ کے سامنے ’اتوار درشن‘ پر اپنے مداحوں کے درمیان آئے تو حفاظتی انتظامات سخت تھے۔
’سرکار‘ فلم کے ’سرکار‘ بدلے بدلے نظر آ رہے تھے اگرچہ امیتابھ بچن اور ان کے مداحوں کے درمیان محبت کا رشتہ کئی دہائیوں پرانا ہے۔ ممبئی میں واقع ان کی رہائش گاہ ’جلسہ‘ کے باہر ہر اتوار کو جمع ہونے والے سینکڑوں مداح اس بات کا ثبوت ہیں کہ وقت گزرنے کے ساتھ سپر سٹار کی مقبولیت میں کوئی کمی نہیں آئی۔
لیکن گذشتہ روز یکم نومبر 2026 کو امیتابھ بچن اپنے مداحوں کے سامنے تو آئے مگر پہلی مرتبہ ان کے اور چاہنے والوں کے درمیان بلٹ پروف شیشے کی ایک حفاظتی دیوار حائل تھی۔
مزید پڑھیں
-
امیتابھ بچن کی 84 ویں سالگرہ پر خراج تحسین کے ساتھ ٹرولنگ بھی؟Node ID: 909324
یہ منظر جہاں امیتابھ کی حفاظت کے حوالے سے بڑھتی ہوئی تشویش کا عکاس تھا وہیں اس نے ایک دلچسپ سوال بھی کھڑا کیا کہ کیا اب اس سپر سٹار کو اپنے چاہنے والوں سے ملنے کے لیے بھی حفاظتی حصار کا سہارا لینا پڑے گا؟
دھمکی آمیز ای میل کے بعد حفاظتی انتظامات
اس غیرمعمولی انتظام کی وجہ چند روز قبل موصول ہونے والی ایک دھمکی آمیز ای میل تھی۔ 23 اکتوبر کو ممبئی کی میئر ریتو تاوڈے کے دفتر کو ایک ای میل موصول ہوئی تھی جس میں میئر کے دفتر کے علاوہ امیتابھ بچن کی رہائش گاہ اور گلوکار و اداکار دلجیت دوسانجھ کے کنسرٹ کو بھی نشانہ بنانے کی دھمکی دی گئی تھی۔
دی ہندوستان ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق ای میل میں جلسہ پر 31 اکتوبر سے 27 نومبر کے درمیان حملے کا اندیشہ ظاہر کیا گیا تھا۔ اس کے بعد ممبئی پولیس اور دیگر حفاظتی ادارے چوکس ہوگئے اور امیتابھ کی رہائش گاہ کے اطراف نگرانی بڑھا دی گئی۔
پولیس نے دھمکی آمیز پیغام کی صداقت جانچنے اور اسے بھیجنے والے کی شناخت کے لیے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ اس کی دوسری وجہ حال ہی میں ٹائیگر شروف پر ہونے والا حملہ بھی ہے جس کے بعد کسی بھی دھمکی کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ہے۔

اگرچہ میئر کے دفتر کی تلاشی میں کوئی مشتبہ چیز نہیں ملی لیکن احتیاطی تدابیر کے تحت حفاظتی انتظامات سخت کر دیے گئے۔ ایسے حالات میں امیتابھ بچن کے لیے مداحوں سے براہ راست ملاقات کا معمول برقرار رکھنا بھی ایک چیلنج بن گیا ہے۔
یکم نومبر کو انہوں نے اس کا ایک درمیانی راستہ نکالا۔ ان کے لیے ایک مخصوص پہیوں والے بلند پلیٹ فارم کے گرد تین اطراف سے شفاف حفاظتی شیلڈز نصب کیے گئے۔
اس حصار کے اندر کھڑے ہوکر امیتابھ نے ہاتھ ہلایا، مداحوں کی جانب دیکھا اور اپنے مخصوص انداز میں ان کی محبت کا جواب دیا۔
اس موقع پر ان کے بیٹے ابھیشیک بچن بھی ان کے بالکل پیچھے موجود تھے۔ ان کی موجودگی نے اس منظر کو مزید جذباتی بنا دیا۔ باپ کے ساتھ کھڑے بیٹے کی تصویر سوشل میڈیا پر بھی خاصی توجہ کا مرکز بنی۔
یہ محبت کی روایت سنہ 1982 سے جاری ہے
امیتابھ بچن کا یہ اتوار کا معمول محض مشہور اداکار کی ایک جھلک دیکھنے کا موقع نہیں بلکہ اس کے پس پشت جذباتی تاریخ بھی ہے۔ اس روایت کا آغاز 1982 میں فلم ’قلی‘ کی شوٹنگ کے دوران پیش آنے والے اُس خوفناک حادثے کے بعد ہوا تھا جس میں امیتابھ شدید زخمی ہوگئے تھے۔ ان کی زندگی خطرے میں پڑ گئی تھی اور ملک بھر میں ان کے چاہنے والوں نے ان کی صحتیابی کے لیے دعائیں کی تھیں۔
24 ستمبر 1982 کو جب وہ ہسپتال سے صحتیاب ہوکر گھر واپس آئے تو مداحوں کی بڑی تعداد ان کے استقبال کے لیے جمع ہوگئی۔ اس محبت سے متاثر ہوکر انہوں نے ہر اتوار اپنے چاہنے والوں سے ملاقات کا سلسلہ شروع کر دیا۔ یوں ’سنڈے درشن‘ ایک روایت بن گیا جو وقت کے ساتھ امیتابھ کی شخصیت کا اہم حصہ بن گئی۔ ٹائمز آف انڈیا کی سنہ 2023 کی ایک رپورٹ کے مطابق، امیتابھ نے خود اپنے مداحوں کے لیے لکھا تھا: ’1982 سے ہر اتوار‘

دلچسپ بات یہ ہے کہ امیتابھ اپنے مداحوں سے ملاقات کو عام رسم نہیں بلکہ ایک عقیدت مندانہ تعلق قرار دیتے رہے ہیں۔
دی انڈین ایکسپریس کی ایک رپورٹ کے مطابق وہ اکثر ننگے پاؤں باہر آتے ہیں اور اس کی وجہ بتاتے ہوئے انہوں نے اپنے بلاگ میں لکھا تھا کہ جس طرح مندر میں ننگے پاؤں جایا جاتا ہے، اسی طرح ان کے خیرخواہ بھی ان کے لیے ایک مندر کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ان کے نزدیک یہ لوگ ان کی زندگی اور کامیابی کا سرمایہ ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ کورونا وبا کے دنوں میں جب یہ سلسلہ عارضی طور پر بند ہوا تو امیتابھ نے خود اس کی کمی محسوس کرنے کا اظہار کیا تھا۔ ان کے لیے اتوار کا دن صرف چھٹی کا دن نہیں بلکہ اپنے مداحوں سے کیا ہوا ایک وعدہ ہے جس کو وہ مسلسل نبھا رہے ہیں۔
سوشل میڈیا پر دلچسپ ردعمل
یکم نومبر کو حفاظتی شیشے کے پیچھے کھڑے امیتابھ کی ویڈیوز سامنے آتے ہی سوشل میڈیا پر مختلف تبصروں کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ کسی نے اس غیرمعمولی منظر پر حیرت ظاہر کی تو کسی نے ان کی حفاظت کو اولین ترجیح قرار دیا۔
سوشل میڈیا پر سامنے آنے والے بعض تبصروں میں اس بات پر افسوس کا اظہار کیا گیا کہ جس شخص کو دیکھنے کے لیے لوگ برسوں سے ’جلسہ‘ کے باہر جمع ہوتے رہے، اب اس سے ملاقات کے درمیان شیشے کی دیوار آگئی ہے۔












