ایرانی سپریم لیڈر کا کسی بھی نئے خطرے کا فوری جواب دینے کا حکم
ہفتہ 31 اکتوبر 2026 18:54
یہ انتباہ امریکہ اور اسرائیل کی دھمکیوں کے تناظر میں سامنے آیا ہے۔( فوٹو: اے پی)
ایران کے سپریم لیڈر مجتبی خامنہ ای نے مسلح افواج کو حکم دیا ہے کہ وہ دشمن کے کسی بھی خطرے کا فوری اور ’بغیر کسی جغرافیائی حد‘ کے جواب دیں۔
عرب نیوز کے مطبق یہ بات سنیچر کو ان کے آفیشل ٹیلی گرام اکاؤنٹ پر جاری ایک بیان میں کہی گئی ہے۔
مجتبی خامنہ ای نے یہ بھی کہا کہ ایران اپنے دشمنوں کی جانب سے کسی بھی نئی فوجی یا دہشت گردانہ کارروائیوں کے خاتمے کا وقت اور شرائط کا تعین خود کرے گا۔
انہوں نے امریکہ اور اسرائیل کے فزیکل اور نان فزیکل اثاثوں کی فہرست بھی اپ ڈیٹ کرنے کا حکم دیا تاکہ انہیں ایرانی افواج کی پہنچ میں لایا جا سکے۔
ایرانی فوج نے سنیچر کو خبردار کیا تھا کہ امریکہ کی جانب سے کوئی بھی نیا حملہ جنگ کے دائرہ کار کو مزید وسیع کرے گا۔ یہ انتباہ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے مزید فوجی کارروائی کی دھمکیوں کے تناظر میں سامنے آیا ہے۔
ایران کی جانب سے یہ انتباہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب لڑائی کے دوبارہ آغاز کو روکنے کے لیے سفارتی کوششیں جاری ہیں۔ قطر کے ثالث تہران میں موجود ہیں اور اطلاعات کے مطابق امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے ایران کے سکیورٹی چیف محسن رضائی کو ایک خط بھیجا ہے۔
ایرانی فوج کے ترجمان محمد اکرمینیا نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا اگر امریکی صدر نے صہیونیوں کے دباؤ میں آکر یا انہیں خوش کرنے کی کوشش میں ایک مرتبہ پھر مہم جوئی کا آغاز کیا تو جنگ کی آگ بلاشبہ ایک بہت وسیع جغرافیائی علاقے کو اپنی لپیٹ میں لے گی۔
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بھی سنیچر کو خبردار کیا تھا کہ ایران کی طاقتور مسلح افواج ان لوگوں کے خلاف سخت کارروائی کریں گی جو ہمارے عوام کو نقصان پہنچانے کی جرآت کریں گے۔
ایران اور قطر کے درمیان جاری مذاکرات کے بارے میں باخبر ایک عہدیدار نے روئٹرز کو بتایا کہ ایرانی مذاکرات کار سنیچر کو دوحہ پہنچے ہیں تاکہ قطری ثالثوں کے ساتھ بات چیت کرسکیں۔ اس سے قبل جمعے کو تہران میں بارہ گھنٹے سے زائد دیر تک مذاکرات ہوئے تھے جس کا مقصد ایران میں جاری جنگ کو ختم کرنے کی کوششوں کو آگے بڑھانا تھا۔
عہدیدار نے بتایا ان مذاکرات کے دوران قطری ٹیم مسلسل امریکی مذاکرات کاروں کے ذریعے رابطے میں رہی۔
قطر اور پاکستان متحارب فریقین کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کر رہے ہیں تاہم ان مذاکرات کے نتیجے میں اب تک کوئی پائیدار معاہدہ طے نہیں پا سکا ہے۔
وال سٹریٹ جنرل نے بدھ کو رپورٹ کیا تھا کہ امریکی نائب صدر نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ہدایت پر ایران کے سکیورٹی چیف کو خط بھیجا جس کا مقصد مذاکرات کی بحالی اور امریکہ کی جانب سے مزید حملوں کو روکنا تھا۔
ایران نے خط موصول ہونے کی تصدیق کی لیکن ابھی تک کسی رد عمل کا اعلان نہیں کیا ہے۔
اس سے قبل بتایا گیا تھا کہ ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ کے خاتمے کے معاہدے کے لیے قطر کے ثالثوں نے ایک نیا مسودہ پیش کیا ہے، جس پر تہران غور کر رہا ہے۔
برطانوی خبر رساں ادارے نے اس حوالے سے ہونے والی بات چیت سے وافقیت رکھنے والے ایک عہدیدار کاحوالہ دیتے ہوئے بتایا ہے کہ تہران کی جانب سے رواں ہفتے کے اختتام تک جواب دیے جانے کی توقع ہے۔
رپورٹ کے مطابق عہدیدار کا مزید کہنا تھا کہ تجویز اتوار کو ایران کو پیش کی گئی تھی۔
