مظاہرالعلوم سہارنپور کے شیخ الحدیث کا انتقال، لاکھوں محبین کا خراج عقیدت
جمعرات 13 جولائی 2017 3:00
جدہ (نیوزڈیسک ) برصغیر کی معروف علمی ، دینی اور تربیتی درسگاہ جامع مظاہر العلوم سہارنپور کے شیخ الحدیث مولانا محمد یونس جونپوری کے انتقال کی خبر نے خصوصاً پاکستان ، ہندوستان و بنگلہ دیش کے ہزاروں دینی مدارس و درسگاہوں اور عموماً دنیا بھر میں پھیلے ہوئے حدیث کے طلبہ و علماء کے حلقوں میں رنج و غم کی لہر دوڑ ادی ۔ مولانا 25رجب 1355ھ مطابق 2اکتوبر 1937ء کو جونپور یوپی میں پیدا ہوئے تھے ۔ وہ شوال 1388ھ میں مظاہر العلوم سہارنپور کے شیخ الحدیث بنائے گئے۔نماز جنازہ مولانا طلحہ نے پڑھائی ، تدفین حاجی شاہ کمال قبرستان میں عمل میں آئی ۔ محبین کا کہنا ہے کہ ان کی نماز جنازہ میں شریک افراد 8کلو میٹر کے رقبے میں پھیلے ہوئے تھے ۔ باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ ان کے جنازہ میں جتنے افراد شریک ہوئے اس کی تعداد عصر حاضر کے کسی عالم کے جنازہ میں نہیں ملتی ۔ آج جمعہ کو پاکستان ، ہندوستان اور بنگلہ دیش کے مختلف علاقوں میں تعزیتی جلسے ہوں گے ۔وہ 40برس سے صحیح بخاری پڑھا رہے تھے ۔ بخاری شریف کی ان کی شرح دینی درسگاہوں کے حلقوں میں اعتبار اور احترام کی نظر سے دیکھی جاتی ہے ۔ انہیں مظاہر العلوم سہارنپور کے مختلف الرای تمام حلقے احترام کی نظر سے دیکھتے تھے ۔ مظاہر العلوم سہارنپور ، دارالعلوم دیوبند ،شاہی مراد آباد ، دارالعلوم کراچی سمیت برصغیر کی تمام اہم دینی و علمی و فکری تنظیموں کے سربراہوں نے شیخ الحدیث کی وفات پر خراج عقیدت پیش کیا اور ان کی وفات کو ناقابل تلافی نقصان قرار دیا۔مولانا محمد یونس حدیث اور علوم حدیث کے یکتائے روزگار ماہر مانے جاتے تھے ۔ سعودی عرب سمیت خلیج کے تمام ممالک میں ان کے شاگرد اور شاگردوں کے شاگرد مختلف شہروں ،قصبوں اور بستیوں میں دین کی خدمت کر رہے ہیں ۔ ان سب نے شیخ الحدیث کی وفات کو غیر معمولی خسارہ سے تعبیر کرتے ہوئے ان سے اظہار عقیدت کیا ۔