دُکی: کوئلہ کان میں دَم گھٹنے سے 3 مزدور ہلاک، ’آکسیجن جان بُوجھ کر بند کی گئی‘
جمعہ 28 اگست 2026 11:18
زین الدین احمد -اردو نیوز، کوئٹہ
بلوچستان کے ضلع دُکی میں دو کوئلہ کانوں کے ٹھیکیداروں کے درمیان تنازعے کے باعث مزدوروں نے حریف کان کی آکسیجن سپلائی بند کر دی جس کے نتیجے میں دَم گھٹنے سے دو افغان کان کنوں سمیت تین کان کن ہلاک ہو گئے۔
مائنز انسپکٹریٹ نے واقعے کو حادثہ کے بجائے مجرمانہ غفلت اور قتل قرار دیا ہے۔ پولیس نے اس کیس میں چار افراد کو گرفتار کرلیا ہے۔
کوئلہ کانوں میں حفاظتی بندوبست نہ ہونے اور گیس بھرنے سے حادثات ہوتے رہتے ہیں لیکن آپس کے جھگڑے کی وجہ سے کان کنوں کی موت کا یہ پہلا واقعہ ہے۔
پولیس کے مطابق یہ واقعہ جمعرات کو کوئٹہ سے 320 کلومیٹر دور دُکی کے علاقے معراج کول مائن ایریا میں کالا خان کول مائن کمپنی کی کوئلہ کان میں پیش آیا۔
مرنے والوں میں افغانستان کے رہائشی عیسیٰ خان بارکزئی اور شمس اللہ علیزئی جبکہ بلوچستان کے ضلع پشین کے رہائشی سراج الدین اچکزئی شامل ہیں۔ ضروری قانونی کارروائی کے بعد نعشیں ان کے آبائی علاقوں کو روانہ کر دی گئیں۔
دُکی کے مائنز انسپکٹر عبدالقادر مری نے اردو نیوز کو بتایا کہ زیرِ زمین ایک دوسرے کے قریب واقع کانوں کے درمیان آکسیجن کی ترسیل کے لیے سُرنگ بنائی جاتی ہے جسے مقامی زبان میں ’ہوائی‘ کہا جاتا ہے۔
ان کے مطابق دونوں کانوں کے ٹھیکیداروں کے درمیان تنازع چل رہا تھا جس پر ایک کان کے ٹھیکیدار نے اپنے مزدوروں کو آکسیجن کا یہ راستہ (ہوائی) بند کرنے کا کہا۔
دوسری کان میں موجود مزدور اس بات سے بے خبر تھے جس کے نتیجے میں اندر زہریلی گیس جمع ہو گئی اور آکسیجن نہ ملنے سے تینوں مزدوروں کا دَم گُھٹ گیا۔
مائنز انسپکٹر نے بتایا کہ یہ محض حادثہ نہیں بلکہ جُرم ہے اس لیے ہم نے پولیس کو ملزمان کے خلاف قتل کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کرنے کی درخواست دی ہے۔
ایس پی دُکی منصور احمد بزدار کے مطابق مائنز حکام کی درخواست پر تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 319 (قتلِ خطأ) اور 322 (قتل بالسبب) کے تحت مقدمہ درج کر کے دونوں کانوں کے ٹھیکیداروں اور دو مزدوروں کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ ابتدائی طور پر معلوم ہوا ہے کہ یہ واقعہ ٹھیکیداروں کے درمیان تنازعے کا نتیجہ ہے اور آکسیجن جان بوجھ کر بند کی گئی۔ اس معاملے کی مزید تفتیش جاری ہے۔
مائنز انسپکٹر نے یہ بھی بتایا کہ جن دو کانوں میں یہ واقعہ ہوا انہیں غیر محفوظ قرار دے کر پہلے ہی بند کیا جا چکا تھا لیکن مالکان اور ٹھیکیداروں نے چوری چُھپے دوبارہ کام شروع کر دیا تھا۔
ان کے مطابق دُکی میں اب تک 300 سے زیادہ ایسی غیر محفوظ کانیں بند کی جا چکی ہیں جہاں حادثات کا خطرہ موجود تھا اور حفاظتی انتظامات تسلی بخش نہیں تھے۔
مزدور تنظیموں کا یہ موقف رہا ہے کہ کوئلہ کانوں میں حادثات کی سب سے بڑی وجہ ٹھیکیداری نظام ہے۔ کان مالکان کان کو ٹھیکے پر دے کر حفاظتی انتظامات سمیت ہر ذمہ داری سے پیچھا چُھڑا لیتے ہیں۔
تنظیموں کا مزید کنا ہے کہ کان کو ٹھیکے پر دینے کے بعد ٹھیکیدار مزدوروں کی جان کی پروا کیے بغیر جلد سے جلد زیادہ سے زیادہ منافع کمانے کی کوشش میں لگے رہتے ہیں۔
مائنز انسپکٹریٹ کے اعداد و شمار کے مطابق 2021 سے 2025 تک صوبے میں کوئلہ کانوں کے 229 حادثات میں 383 کان کن جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔
صرف رواں سال اب تک 60 سے زیادہ کان کن حادثات میں جان کھو چکے ہیں۔ گذشتہ ماہ کوئٹہ کے قریب سورینج میں ایک ہی حادثے میں 34 کان کن ہلاک ہوئے تھے۔