’غیرملکی طلبہ کی انٹرن شپس محدود کی جائیں‘، ٹرمپ انتظامیہ کا یونیورسٹیوں کو خط
’غیرملکی طلبہ کی انٹرن شپس محدود کی جائیں‘، ٹرمپ انتظامیہ کا یونیورسٹیوں کو خط
جمعہ 28 اگست 2026 9:14
24 اگست کو حکومت کی جانب سے مختلف تعلیمی اداروں کو مراسلے بھجوائے گئے (فوٹو: اے ایف پی)
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے یونیورسٹیوں کو ہدایت نامہ جاری کیا ہے جس میں غیرملکی طلبہ کے لیے کچھ مخصوص انٹرن شپس کو محدود کرنے کا کہا گیا ہے۔
برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق وفاقی حکومت نے خبردار کیا ہے کہ جو کالج اور یونیورسٹیاں نئے ضوابط پر عمل نہیں کریں گی وہ غیر ملکی طلبہ کو داخلہ دینے کی اجازت سے محروم ہو سکتے ہیں۔
24 اگست کو وفاقی حکومت کی جانب سے جاری کیے گئے مراسلے میں کہا گیا ہے کہ امریکی امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ کے تحت کام کرنے والے سٹوڈنٹ اینڈ ایکسچینج وزیٹر پروگرام سے وابستہ طلبہ کی تعداد میں اضافہ دیکھا گیا ہے جو کہ بظاہر ضوابط کی خلاف ورزی ہے۔
مراسلے کے مطابق یہ اجازت صرف اسی صورت میں دی جا سکتی ہے جب انٹرن شپ یا ٹریننگ طلبہ کے باقاعدہ تعلیمی نصاب کا لازمی حصہ ہو۔
مراسلے میں خبردار کیا گیا ہے کہ ہدایات پر عمل نہ کرنے والے اداروں سے غیر ملکی طلبہ کو داخلہ دینے کی منظوری کا اختیار واپس لیا جا سکتا ہے۔
صدر ٹرمپ کی جانب سے طویل عرصے سے غیرملکی طلبہ کے خلاف اقدامات کا سلسلہ جاری ہے (فوٹو: اے ایف پی)
حکومت کے اس مراسلے کے بعد بعض یونیورسٹیوں نے غیر ملکی طلبہ کی جانب سے بعض ورک پرمٹس کے لیے دی جانے والی درخواستیں عارضی طور پر روک دی ہیں۔
ان اداروں میں یونیورسٹی آف کیلیفورنیا، لاس اینجلس اور یونیورسٹی آف برکلے شامل ہیں۔
یونیورسٹی آف کیلیفورنیا کے ترجمان کا کہنا ہے کہ کریکولر پریکٹیکل ٹریننگ کا سلسلہ عارضی طور پر روک دیا گیا ہے اور ادارہ وفاق کی جانب سے آنے والی ہدایات کا جائزہ لے رہا ہے جس کے بعد اگلے فیصلے کیے جائیں گے۔
اسی طرح برکلے یونیورسٹی کا کہنا ہے کہ وفاقی مراسلے کا انداز پہلے کے مقابلے میں سخت ہے اس سے قبل بھی اگست کے مہینے کے وسط میں ایک ہدایت نامہ جاری کیا تھا۔
برکلے یونیورسٹی کے انٹرنیشنل آفس کی جانب سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ قانونی ماہرین سے مشاورت کی جائے گی تاکہ نئے تقاضوں کے مطابق نئے طریقہ کار بنائے جا سکیں۔
مراسلے کے بعد بعض یونیورسٹیوں نے غیرملکی طلبہ کی انٹرن شپس بند کر دی ہیں (فوٹو: اے ایف پی)
دوسری جانب ڈیپارٹمنٹ آف ہوم لینڈ سکیورٹی کے ذیلی ادارے آئس کا کہنا ہے کہ ’ضوابط میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی، تاہم تعلیمی اداروں اور آجروں کو خبردار رہنا چاہیے کہ صدر ٹرمپ کے دور میں کوئی بدانتظامی برداشت نہیں کی جائے گی۔‘
صدر ٹرمپ کی جانب سے غیرملکی طلبہ کے خلاف اقدامات کا سلسلہ کافی عرصے سے جاری ہے اور اس ضمن میں وہ یونیورسٹیز کے فنڈز روکنے کی دھمکیاں بھی دے چکے ہیں، دوسری جانب انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں ایسے اقدامات پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔