Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

ٹرمپ انتظامیہ غیرملکی طلبہ کی انٹرن شپس روکنے کے لیے کوشاں، یونیورسٹیز کو میمو ارسال

24 اگست کو حکومت کی جانب سے مختلف تعلیمی اداروں کو مراسلے بھجوائے گئے (فوٹو: اے ایف پی)
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے یونیورسٹیوں کو ایک مراسلہ جاری کیا ہے جس میں غیرملکی طلبہ کے لیے مخصوص کچھ انٹرن شپس کے تحت ورک پرمٹس کے اجرا کو محدود کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔
برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق وفاقی حکومت نے خبردار کیا ہے کہ کالج اور یونیورسٹیاں نئے ضوابط پر عمل نہیں کریں گی وہ غیر ملکی طلبہ کو داخلہ دینے کی اجازت سے محروم ہو سکتی ہیں۔
24 اگست کو وفاقی حکومت کی جانب سے جاری کیے گئے مراسلے میں کہا گیا ہے کہ امریکی امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ کے تحت کام کرنے والے سٹوڈنٹ اینڈ ایکسچینج وزیٹر پروگرام سے وابستہ طلبہ کی تعداد میں اضافہ دیکھا گیا ہے جو کہ بظاہر ضوابط کی خلاف ورزی ہے۔
مراسلے کے مطابق یہ اجازت صرف اسی صورت میں دی جا سکتی ہے جب انٹرن شپ یا ٹریننگ طلبہ کے باقاعدہ تعلیمی نصاب کا لازمی حصہ ہو۔
مراسلے میں خبردار کیا گیا ہے کہ ہدایات پر عمل نہ کرنے والے اداروں سے غیر ملکی طلبہ کو داخلہ دینے کی منظوری کا اختیار واپس لیا جا سکتا ہے۔

صدر ٹرمپ کی جانب سے طویل عرصے سے غیرملکی طلبہ کے خلاف اقدامات کا سلسلہ جاری ہے (فوٹو: اے ایف پی)

حکومت کے اس مراسلے کے بعد بعض یونیورسٹیوں نے غیر ملکی طلبہ کی جانب سے بعض ورک پرمٹس کے لیے دی جانے والی درخواستیں عارضی طور پر روک دی ہیں۔
ان اداروں میں یونیورسٹی آف کیلیفورنیا، لاس اینجلس اور یونیورسٹی آف برکلے شامل ہیں۔
یونیورسٹی آف کیلیفورنیا کے ترجمان کا کہنا ہے کہ کریکولر پریکٹیکل ٹریننگ کا سلسلہ عارضی طور پر روک دیا گیا ہے اور ادارہ وفاق کی جانب سے آنے والی ہدایات کا جائزہ لے رہا ہے جس کے بعد اگلے فیصلے کیے جائیں گے۔
اسی طرح برکلے یونیورسٹی کا کہنا ہے کہ وفاقی مراسلے کا انداز پہلے کے مقابلے میں سخت ہے اس سے قبل بھی اگست کے مہینے کے وسط میں ایک ہدایت نامہ جاری کیا تھا۔
برکلے یونیورسٹی کے انٹرنیشنل آفس کی جانب سے یہ بھی کہاگ یا ہے کہ وہ قانونی ماہرین سے مشاورت کی جائے گی تاکہ نئے تقاضوں کے مطابق نئے طریقہ کار بنائے جا سکیں۔

مراسلے کے بعد بعض یونیورسٹیوں نے غیرملکی طلبہ کی انٹرن شپس بند کر دی ہیں (فوٹو: اے ایف پی)

دوسری جانب ڈیپارٹمنٹ آف ہوم لینڈ سکیورٹی کے ذیلی ادارے آئس کا کہنا ہے کہ ’ضوابط میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی، تاہم سکولوں اور آجروں کو خبردار رہنا چاہیے کہ صدر ٹرمپ کے دور میں کوئی بدانتظامی برداشت نہیں کی جائے گی۔‘
صدر ٹرمپ کی جانب سے یونیورسٹیوں کے خلاف مختلف معاملات پر تحقیقات اور فنڈز روکنے کی دھمکیوں کا سلسلہ کافی عرصے سے چل رہا ہے۔
ان میں غزہ پر اسرائیل کے حملوں کے دوران فلسطین کے حق میں مظاہرے، ماحولیاتی تبدیلی سے متعلق منصوبے اور ٹرانس جینڈر پالیسیوں جیسے معاملات شامل ہیں۔
دوسری جانب انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں ایسے اقدامات پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

 

شیئر: