کیا چین کا ویڈیو پلیٹ فارم 'بلی بلی' یوٹیوب کو ٹکر دینے جا رہا ہے؟ یہ سوال اس وقت سوشل میڈیا پر توجہ کا مرکز بنا جب ایک غیر ملکی صارف نے ایکس پر چینی ویڈیو پلیٹ فارم بلی بلی کی عالمی توسیع کے بارے میں سوال اٹھایا۔
بلی بلی کے نئے تخلیق کار اکاؤنٹ بلی بلی کریئٹر ہب نے جواب دیا کہ پلیٹ فارم ان تمام افراد کا خیرمقدم کرے گا جو ابتدا ہی سے اس پر یقین رکھتے ہیں۔
گلوبل ٹائمز کے مطابق یہ مختصر مکالمہ اس بڑھتی ہوئی عالمی دلچسپی کی ایک جھلک ہے جو بلی بلی کی بین الاقوامی مارکیٹ میں نئی پیش قدمی کے بعد سامنے آئی ہے۔
مزید پڑھیں
-
کم پیسوں میں بنی یوٹیوبرز کی فلمیں باکس آفس پر چھا گئیںNode ID: 904918
بلی بلی نے اعلان کیا ہے کہ اس کی بین الاقوامی ایپ دوبارہ لانچ کر دی گئی ہے، جس میں غیر ملکی صارفین کے لیے رجسٹریشن کا عمل آسان بنایا گیا ہے اور شناختی دستاویز کی تصدیق کی شرط ختم کر دی گئی ہے۔ کمپنی کے مطابق نئی ایپ میں مقامی صارفین کے لیے بہتر تجربہ، مزید لوکلائزیشن اور مستقبل میں نئی سہولیات شامل کی جائیں گی۔
گلوبل ٹائمز کے مطابق ماضی میں غیر ملکی صارفین کے لیے شناختی دستاویز کی شرط ایک بڑی رکاوٹ تھی، تاہم اب بین الاقوامی ایپ پر رجسٹریشن زیادہ آسان کر دی گئی ہے۔
یہ پلیٹ فارم چین میں پہلے ہی کروڑوں ماہانہ صارفین رکھتا ہے اور اب عالمی تخلیق کاروں کو اپنی جانب متوجہ کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ بلی بلی تخلیق کاروں کو تقریباً ہر ایک ہزار ویوز پر 0.70 ڈالر تک ادا کر سکتا ہے۔ تاہم یہ رقم فی الحال بلی بلی کی جانب سے عالمی تخلیق کاروں کے لیے باضابطہ اور یقینی ادائیگی کی شرح کے طور پر سامنے نہیں آئی، اس لیے اسے ایک رپورٹ شدہ رقم ہی سمجھا جانا چاہیے۔
بلی بلی کی عالمی حکمت عملی صرف زیادہ ادائیگی کی پیشکش تک محدود نہیں۔ گلوبل ٹائمز سے بات کرتے ہوئے بین الاقوامی ابلاغ کے ماہر وو فُو گُوئی نے بتایا کہ اصل کشش نئے ناظرین تک رسائی ہو سکتی ہے۔ بلی بلی نے اینیمی، گیمنگ، اے آئی اور دیگر مخصوص دلچسپیوں پر مبنی مواد کے گرد ایک مضبوط کمیونٹی بنائی ہے، جس کی وجہ سے ان شعبوں میں کام کرنے والے غیر ملکی تخلیق کاروں کو یوٹیوب کے علاوہ ایک نئی آڈیئنس مل سکتی ہے۔
We've just launched the intl app globally (currently on Android, iOS coming soon; and more countries coming soon)
Globally distributed content, better localization & easier sign ups with no identity verification...and more localization optimization and features to come!… pic.twitter.com/5H7maZSMQh
— bilibili Creator Hub (@bilibili_create) August 19, 2026
بلی بلی کیسے کام کرتا ہے اور یوٹیوب سے کتنا مختلف ہے؟
بلی بلی اور یوٹیوب کے درمیان ایک بڑا فرق صرف ویڈیوز کا نہیں بلکہ صارفین کے آپس میں اور تخلیق کاروں کے ساتھ رابطے کا بھی ہے۔ بلی بلی کی نمایاں خصوصیات میں 'ڈان مو' یا بلٹ کمنٹس شامل ہیں، جن میں ناظرین کے تبصرے ویڈیو چلتے ہوئے اسی لمحے سکرین پر نمودار ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ رنگین تبصرے اور دلچسپیوں کے گرد بننے والی کمیونٹیز صارف کو صرف ویڈیو دیکھنے کے بجائے مواد کا حصہ بننے کا احساس دیتی ہیں۔
بلی بلی کے ایک طویل عرصے سے صارف بروس شو نے گلوبل ٹائمز کو بتایا کہ اکثر ایک ویڈیو سے شروع ہونے والی تلاش اسی موضوع کے دوسرے تخلیق کاروں، زیادہ مخصوص ویڈیوز اور پوری کمیونٹیز تک لے جاتی ہے۔ ان کے مطابق یہی چیز صارفین کو بار بار پلیٹ فارم پر واپس لاتی ہے۔
لیکن عالمی تخلیق کاروں کے لیے سب سے دلچسپ سہولت شاید ترجمہ ہے۔
سائن ڈی کے مطابق، بلی بلی کا بلی بلی سٹوڈیو تخلیق کاروں کو اپنی ویڈیوز مینیج کرنے کے ساتھ انہیں چینی زبان میں خودکار طور پر ترجمہ کرنے کی سہولت بھی دیتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ کسی غیر ملکی تخلیق کار کو چینی ناظرین تک پہنچنے کے لیے ہر ویڈیو کے سب ٹائٹلز یا ترجمے کا انتظام خود کرنے کی ضرورت کم ہو سکتی ہے۔
سائن ڈی کے مطابق یہ خصوصاً اس لیے اہم ہے کہ یوٹیوب مین لینڈ چین میں بلاک ہے، جبکہ بلی بلی پہلے ہی چین میں ایک بہت بڑی آڈیئنس رکھتا ہے۔ یوں ایک عالمی تخلیق کار اپنی موجودہ ویڈیو بلی بلی پر اپ لوڈ کرکے ایسی چینی آڈیئنس تک پہنچ سکتا ہے جو یوٹیوب کے ذریعے براہِ راست دستیاب نہیں۔

سائن ڈی نے سیمفور کی رپورٹنگ کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ بلی بلی صرف ایپ پر انحصار نہیں کر رہا۔ کمپنی ایک انگریزی زبان کی ویب سائٹ بھی تیار کر رہی ہے، جبکہ لاس اینجلس، لندن، میکسیکو سٹی، ساؤ پالو، استنبول اور ٹوکیو سمیت مختلف شہروں میں عالمی کمیونٹی سے متعلق عملے کی بھرتی کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ سنگاپور میں اے آئی پر مبنی مواد کی نگرانی کے نظام پر کام کرنے والی پوزیشن بھی سامنے آئی ہے۔
کمپنی عالمی تخلیق کاروں کے لیے ایک برینڈ مارکیٹ پلیس بھی تیار کر رہی ہے، جہاں مستقبل میں تخلیق کار سپانسرڈ مواد کے لیے برانڈز سے رابطہ کر سکیں گے۔ تاہم یہ مارکیٹ پلیس ابھی زیرِ تکمیل ہے، اس لیے فی الحال بلی بلی کو ایک یقینی آمدنی کے پلیٹ فارم کے بجائے زیادہ تر نئی آڈیئنس تک پہنچنے کا ذریعہ سمجھا جا رہا ہے۔
بلی بلی کا یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دنیا بھر میں تخلیق کار یوٹیوب پر اپنی آمدنی اور نئے مونیٹائزیشن قواعد کے حوالے سے بحث کر رہے ہیں۔ سائن ڈی کی رپورٹ کے مطابق یوٹیوب نے گزشتہ چار برسوں میں تخلیق کاروں کو 100 ارب ڈالر سے زیادہ ادا کیے ہیں، اس لیے بلی بلی کے لیے اسے حقیقی متبادل بنانا آسان نہیں ہوگا۔ لیکن ایک ایسے دوسری بڑی ویڈیو پلیٹ فارم کا عالمی سطح پر دروازے کھولنا تخلیق کاروں کو اپنی موجودگی مختلف پلیٹ فارمز پر پھیلانے کا موقع ضرور دیتا ہے۔












