ایک حادثے نے دل کی آنکھ کھول دی اور پھر------
ام غزال(سڈنی،آسٹریلیا)
* * * * *
(دوسری قسط)
----اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے رمضان اپنی تمام رحمتوں سمیت ہم پر سایہ فگن ہوا۔ خوشی کی بات یہ تھی کہ اس سفر میں میرے شوہر میرے ساتھ رہے۔ شروع میں میری دلجوئی کیلئے میرے ساتھ شام کو اسلامک سینٹر جاتے رہے۔ میں قرآن کلاس اٹینڈ کرتی اور وہ مردوں کے حلقہ درس میں بیٹھ جاتے۔ مردوں میں ڈاکٹر ظفر اللہ درس دیتے انکا انداز اتنا سادہ ، دل میں اترنے والا اور کچھ عمل پر آمادہ کرنیوالا ہوتا کہ دیکھتے ہی دیکھتے الحمداللہ چند ہفتوں میں ہی میرے میاں میں بھی واضح تبدیلی آتی محسوس ہوئی اور پھر رمضان کے روزوں میں ہم دونوں کو عبادت کا وہ لطف آیا جو اس سے قبل شاید ہی کبھی آیا ہو۔ اور اس رمضان میں ہم نے متفقہ رائے سے حج کا ارادہ کیا اور اس دن مجھے چند سال قبل راحیلہ چچی سے اپنی گفتگو یاد آئی۔ اور بہت ندامت کے احساس کے ساتھ اپنے رب سے معافی مانگی۔
رب کا شکر ادا کیا کہ ابھی مہلت عمل میرے پاس ہے اور موت کا فرشتہ جب دستک دے تو میں اس حالت میں اپنے رب سے نہ ملوں کہ خواہ یہود ی ہو یا نصرانی۔ بس اچانک سوچا اور الحمدللہ انہی دنوں حج کی درخواستیں دی جارہی تھیں ، سو ہم نے بھی جمع کروائیں کہ اب کوئی اور سفر کرنے سے قبل حج کا سفر ہم پر فرض ہے۔ اللہ کا احسان کہ ویزا وغیرہ میں کسی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑا۔ دو آنکھوں سے بارہا پڑھی حدیث پرجب دل کی آنکھ سے غور کیا تو وہ حقیقت کا روپ دھارتی نظر آنے لگی ۔ ـ" اور اللہ کی بات سے سچی بات کس کی ہوسکتی ہے" میرے رب کا کہنا ہے ، تم میری طرف چل کر آؤ میں دوڑ کر آؤنگا۔ اب مجھے واقعی ایسا محسوس ہوتا ہے ۔ میں دو قدم چلتی ہوں، وہ دس قدم آتا ہے۔
میں نیکی کا ارادہ کرتی ہوں، وہ راہیں سجھانے لگتاہے۔ رات بہت سست روی سے گزر رہی تھی۔ میں نے ایک نظر ماہم کے بستر کی طرف ڈالی جو بہت سکون سے سور رہی تھی۔ دل میں چبھن سی ہونے لگی۔ ماہم کو پاکستان اپنی بڑی بہن زہرہ کی طرف چھوڑتے ہوئے ہمیں جدہ جانا تھا۔ ماں تھی نا! پریشانی بھی ہورہی تھی کہ ماہم میرے بغیر کیسے وقت گزارے گی۔ پھر یکدم خود کوڈانٹا۔ دل کو مضبوط کیا کہ ان شاء اللہ ہم دونوں ماں بیٹی کیلئے ہمارا رب کافی ہوجائے گا۔ وقت کا کیا ہے، گزر ہی جائیگا اور اس کے ساتھ ہی میں نے اپنے آپ کو پھر سوچوں کے حوالے کردیا۔ تیاری حج کے تمام مراحلہ الحمدللہ بخیر خوبی حل ہوگئے۔
آج سے 2 ہفتے قبل ہمارے حج گروپ نے دو روزہ کورس کا اہتمام کیا۔ جس میں ہم دونوں نے بہت ذوق شوق سے شرکت کی۔ ماہم کو کسی دوست کی طرف چھوڑ دیا تاکہ دلجمعی سے تمام کورس سے بھرپور فائدہ اٹھاسکیں۔ کورس میں مردوں اور عورتوں کیلئے علیحدہ نشستیں تھیں۔ میں بھی خاموشی سے ایک کرسی پر بیٹھ گئی ۔ لوگ ہال میں آتے اور خاموشی سے جہاں جگہ ملتی بیٹھ جاتے۔ میرے ساتھ چند نشستیں ابھی خالی تھیں۔ سامنے اسکرین پر صرف خانہ کعبہ کاکلوزاپ تھا۔ بیک گراؤنڈ میں آہستہ آہستہ تلبیہ کی آواز گونج رہی تھی۔ ہر آنے والا اس پر سرور ماحول میں اپنے آپ کو ڈوبتا محسوس کررہاتھا۔
کعبہ، میرے لئے نیا نہ تھا مگر آج سے قبل اسکی تصویر محض آنکھوں سے دیکھتی تھی۔ اب دل کی دنیا بدل رہی تھی نا! تو یہ تصویر آنکھوں کے راستے بہہ نکلی۔ دل میں اس کعبہ کو چھپا لینے کو طبیعت مچلنے لگی۔ میں مکمل طور پر اس روح پرور منظر میں کھوئی ہوئی تھی کہ میرے ساتھ والی کرسی پر کسی کے بیٹھنے کا احساس ہوا۔ دیکھا تو بہت نرم مسکراہٹ والی خاتون جو چہرے مہرے سے آسٹریلین ہی لگ رہی تھیں ،میں سمجھ گئی کہ نومسلم ہونگی۔ میںنے جوابی مسکراہٹ سے استقبال کیا۔ اور کچھ سنبھل کر بیٹھ گئی۔ کورس شروع ہوا تو سب اسٹیج کی طرف متوجہ ہوگئے۔
لنچ بریک میں میں نے اپنی نومسلم ساتھی سے سلام دعا کی۔ یہ سوچتے ہوئے کہ یہ اس حج کورس سے مسلمانوں کے بارے میں بہت اچھا تاثر لے کر جائے ورنہ آج کل تو میڈیا کی مہربانیوں سے مسلمان ایک خوفناک چیز کا تصور ہی دیتا ہے۔ اس نے میرا نام پوچھا، اپنا بتایا کہ میں عائشہ مارگریٹ ہوں۔ میں نے قبول اسلام کا پوچھا تو بہت سبھاؤ سے بولیں، الحمد للہ 8 سال قبل میں مسلمان ہوئی، مجھے واقعی بہت خوشی ہوئی۔ میں جلدی سے کہنے لگی، اچھا ہوا کہ آپ نے حج کا ارادہ کیا۔ اس سے آپ کے ایمان کو اور تقویت ملے گی۔ مسکراتے ہوئے کہنے لگیں ان شاء اللہ۔ میں بھی کچھ جذباتی ہوگئی اور کہا میں بھی پہلی مرتبہ حج کیلئے جارہی ہوں۔ اللہ تعالیٰ میرا اور آپ کا بھی حج قبول کرے۔
سسٹر عائشہ بہت جذبے سے کہنے لگیں آمین اور پوری طرح میر ی طرف متوجہ ہوئے کہنے لگیں اگر آپ کو کسی بھی قسم کے مشورہ یا مدد کی ضرورت ہو تو ضرور بتانا ۔ خصوصاً پہلی مرتبہ سفر حج کیلئے پیکنگ کرتے ہوئے یہ سمجھ نہیں آتی کیا پیک کریں او رکیا نہیں (مسکراتے ہوئے)۔ میں نے حیرت سے عائشہ مارگریٹ کے چہرے کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا آپ نے اس سے پہلے حج کیا ہوا ہے؟ جواب ملا الحمدللہ اس سے قبل3مرتبہ یہ فریضہ ادا کرچکی ہوں۔ ہر مرتبہ اور زیادہ تڑپ لے کر واپس آتی ہوں ۔
ان شاء اللہ جلد ہی پھر جاؤنگی۔ اور میرے اندر کا مسلمانیت کا بت دھڑام سے نیچے گر پڑا۔ کہ میں نے عمر کے 30 سال بطور مسلمان گزار دیئے اور کبھی تڑپ اس درجہ کی نہ اٹھی جو مجھے کشاں کشاں مکہ کی گلیوں میں لے چلے۔ ورنہ میں نے تو حج کو ادھیڑ عمری تک ٹالنے کا پورا ارادہ کیا ہوا تھا۔ وہ تو اللہ کا کرنا ایسا ہوا جو ایک تلخ حقیقت مجھے اپنے رب سے تعلق مضبوط کرنے پر مجبور کر گئی۔ اور کہاں یہ نومسلم جو8 سالوں میں3 حج کرچکی اور ہر دفعہ نئی تڑپ ساتھ لاتی ہے۔ سسٹر عائشہ کے بولنے سے میری سوچوں کا تانا بانا ٹوٹا جو چہرے پر عقیدت و جذبات کا سمندر لئے بول رہی تھی۔ مسلمان ہونے کے پہلے سال میں نے اسلام سے مزید آشنا ہونے کیلئے ایک سالہ اسلامک کورس کیا۔ باقی سب ارکان اسلام تو مسلمان ہوتے ہی آہستہ آہستہ عمل میں آتے گئے۔
چند ماہ بعد ہی رمضان بھی آیا تو روزے بھی پورے رکھے (الحمدللہ) اب مجھے یہ تڑپ تھی کہ جیسے ہی موقع ملے اسلام کا یہ رکن بھی پورا کرلوں۔ سو اسکے لئے پور ے سال میں نے بچت کی ۔ ایک سالہ اسلامک کورس میں یہ جذبہ اور بڑھتا گیا کہ کعبہ کو اپنی آنکھوں سے دیکھوں اسکا طواف کروں۔ اس سیاہ پتھر کو چوموں جسے محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے چوما ۔ مقام ابراہیم کے پاس دو نفل پڑھوں، وہیں کہیں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عہنم نے بھی اپنا ماتھا ٹیکا ہوگا۔ صفا مروہ کے درمیان سعی کرو ں اور بی بی ہاجرہ رضی اللہ عنہما کی سنت تازہ کروں ۔
ان گلیوں میں گھوموں جہاں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ابتدائی گھر تھا ۔ وہ پہاڑ دیکھوں جہاں میرے نبی صلی اللہ علیہ وسلم چڑھتے اترتے تھے۔ پھر مدینہ منورہ جاؤں، مسجد نبوی وہاں نماز پڑھوں، روضہ رسولؐ پر درو دو سلام پڑھوں۔ دن رات سوچا کرتی کہ کیسی ہونگی وہ گلیاں جہاں رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے عمر مبارک کے آخری سال گزارے جہاں احد کا عظیم پہاڑ آج بھی پوری شان سے براجمان ہے۔ سسٹر عائشہ کے پاس بولنے کو بہت کچھ تھا۔ وہ بولتی جارہی تھیں اور ا ن کی آنکھیں بہتی جارہی تھیں۔ میرے پاس بولنے کو کچھ نہ تھا۔ میں سنتی جارہی تھی اور میری آنکھیں بہتی جارہی تھیں۔ اچانک مجھے احساس ہوا کہ میرا تکیہ بھیگ چکا تھا۔ دل سے دعا نکلی اے میرے رب! اب اور انتظار کی سکت نہیں،
اب اپنی اس گناہ گار بندی کو وقوف عرفات کیلئے چُن لے۔ آمین
------------------------------------------------
ای میل ایڈریس
******
******
00923212699629