Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

پانچ برس بعد جُڑواں بچوں کی خوشی پمز کی آتشزدگی نے لمحوں میں چھین لی

بہادر خان اپنے دونوں جڑواں بچوں کی پیدائش پر بے حد خوشی تھی اور ایک طویل انتظار کے بعد ان کے گھر میں بچوں کی رونقیں ان کے لیے کسی بڑی نعمت سے کم نہ تھیں۔
وہ بدھ کو پمز کے چلڈرن ہسپتال کے باہر موجود ایک بڑے درخت کے نیچے آرام کر رہے تھے کہ اچانک اندر سے شور اور دھواں اٹھتا دکھائی دیا۔
شور اور چیخ پکار سن کر وہ فوری طور پر اندر بھاگے، لیکن اندر داخل ہوتے ہی ہر طرف دھواں ہی دھواں تھا اور انہیں سمجھ نہیں آرہا تھا کہ نرسری اور بچوں کا وارڈ کہاں ہے۔
کچھ دیر بعد جب وہ کسی طرح نرسری پہنچے تو ان کے دونوں بچے اس شدید دھوئیں سے متاثر ہو چکے تھے، جس پر وہ فوراً انہیں اٹھا کر ایمرجنسی کی طرف بھاگے۔
لیکن ان کی گذشتہ تین دنوں کی خوشی اس وقت اچانک ماتم میں بدل گئی جب انہیں بتایا گیا کہ ان کے دونوں بچے دم گھٹنے کی وجہ سے ہلاک ہو چکے ہیں۔
یہ المناک واقعہ خیبر پختونخوا کے ضلع باجوڑ سے تعلق رکھنے والے بہادر خان کے ساتھ پیش آیا، جن کی اہلیہ ایک ہفتہ قبل ہی اسلام آباد کے پمز ہسپتال میں داخل ہوئی تھیں اور جہاں پانچ سال کے طویل انتظار کے بعد ان کے ہاں جڑواں بچوں کی پیدائش ہوئی تھی۔
بہادر خان بھی ان بدقسمت والدین میں شامل ہیں جن کے ننھے بچے پیدائش کے چند روز بعد ہی ابدی نیند سو گئے۔

ہلاک ہونے والے بچوں کے والدین نے امدادی کارروائیوں میں تاخیر کے الزامات عائد کیے ہیں (فوٹو: اے ایف پی)

اردو نیوز سے پشتو میں بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’انہیں اپنے گھر میں جڑواں بچوں کی آمد پر بے انتہا خوشی تھی، مگر ہسپتال انتظامیہ کی غفلت نے ان کی اس خوشی کو لمحوں میں ماتم میں بدل دیا۔‘
اسلام آباد کے سب سے بڑے سرکاری ہسپتال، پمز کے چلڈرن ہسپتال میں لگنے والی آگ کے نتیجے میں 14 نومولود بچوں کی موت واقع ہوئی ہے، جبکہ 7 بچوں سمیت 19 افراد کو وہاں سے محفوظ نکال لیا گیا ہے۔
 

شیئر: