’پسماندہ طبقات پر جنسی تشدد اور ماورائے عدالت قتل‘، اقوام متحدہ کی انڈیا کو تنبیہ
’پسماندہ طبقات پر جنسی تشدد اور ماورائے عدالت قتل‘، اقوام متحدہ کی انڈیا کو تنبیہ
بدھ 26 اگست 2026 7:52
کمیٹی نے انڈیا پر زور دیا کہ وہ ان تمام الزامات کی تحقیقات کرے اور ذمہ داروں کو انصاف کے کٹہرے میں لائے (فوٹو: اے ایف پی)
اقوام متحدہ کی کمیٹی برائے نسلی امتیاز کے خاتمے (سی ای آر ڈی) نے کہا ہے کہ انڈیا کو قبائلی عوام اور پسماندہ طبقات کو ماورائے عدالت قتل، تشدد اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے ہونے والے تشدد سے بہتر طور پر تحفظ فراہم کرنا چاہیے۔
فرانسیسی نیوز ایجنسی اے ایف پی کے مطابق کمیٹی نے یہ بھی کہا کہ دنیا کے سب سے زیادہ آبادی والے ملک کو بنگالی بولنے والے مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز جرائم کو فوری طور پر حل کرنے کی ضرورت ہے۔
کمیٹی نے اپنے نتائج میں کہا کہ ’کمیٹی کو ان رپورٹس پر شدید تشویش ہے کہ قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں نے نسلی اور مذہبی گروہوں، مقامی اور قبائلی عوام، بشمول شیڈولڈ ٹرائبز، شیڈولڈ کاسٹس، خصوصاً دلت، اور غیر شہریوں کے خلاف بڑے پیمانے پر خلاف ورزیاں کی ہیں۔‘
ان خلاف ورزیوں میں نسلی بنیادوں پر تشدد، طاقت کا حد سے زیادہ استعمال، ماورائے عدالت قتل، بلا وجہ اور طویل حراست، تشدد، بدسلوکی اور جنسی تشدد شامل ہیں۔
کمیٹی نے انڈیا پر زور دیا کہ وہ ان تمام الزامات کی تحقیقات کرے اور ذمہ داروں کو انصاف کے کٹہرے میں لائے۔
اگرچہ سی ای آر ڈی کی آراء اور سفارشات قانونی طور پر پابند نہیں ہوتیں، لیکن ان کی اخلاقی اور عالمی ساکھ کے لحاظ سے اہمیت ہوتی ہے۔
انڈیا میں ذات پات اب بھی سماجی حیثیت کا ایک طاقتور عنصر ہے، جو وسائل، تعلیم اور مواقع تک رسائی کو متاثر کرتا ہے۔ یہ ہزاروں سال پرانی سماجی درجہ بندی ہندوؤں کو ان کے کام اور سماجی مقام کے لحاظ سے تقسیم کرتی ہے۔
کمیٹی کی رکن سٹاماتیا سٹاورناکی نے کہا کہ ’دلتوں کے لیے یہ ضروری ہے کہ ایسے اشارے موجود ہوں جو یہ دکھائیں کہ علیحدگی کو مؤثر اور حقیقی طور پر کم کیا گیا ہے۔‘
سی ای آر ڈی 18 آزاد ماہرین پر مشتمل ہے جو 182 رکن ممالک کی جانب سے نسلی امتیاز کے خاتمے کے کنونشن پر عملدرآمد کی نگرانی کرتا ہے۔ یہ کنونشن 1969 میں نافذ ہوا تھا، جس کے تحت ممالک کو نسلی امتیاز ختم کرنا، علیحدگی کے طریقوں کو ختم کرنا اور قانون کے سامنے مساوات کی ضمانت دینا لازمی ہے۔
کمیٹی نے انڈیا پر زور دیا کہ وہ ’فوری طور پر امتیاز، نفرت انگیز تقریر اور نفرت انگیز جرائم‘ کو حل کرے (فوٹو: اے ایف پی)
روہنگیا اور پناہ گزین
انڈیا رواں ماہ کے اوائل میں پہلی بار 2007 کے بعد سی ای آر ڈی کے سامنے پیش ہوا جس کی قیادت سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے کی۔
کمیٹی نے روہنگیا، بنگالی بولنے والے مسلمانوں، مہاجرین اور پناہ گزینوں کو نشانہ بنانے والی قانون نافذ کرنے والی کارروائیوں میں اضافے کو اجاگر کیا۔
اس نے کہا کہ پولیس کی تلاشی اور شناختی چیکنگ، جس میں نسلی پروفائلنگ شامل ہے، کے نتیجے میں بلا وجہ گرفتاری اور حراست، تشدد اور بدسلوکی کی اطلاعات ملی ہیں۔
کمیٹی نے ان افراد کی جبری ملک بدری اور واپسی پر بھی تشویش ظاہر کی جنہیں بین الاقوامی تحفظ کی ضرورت ہے۔
اس نے انڈیا پر زور دیا کہ وہ ’فوری طور پر امتیاز، نفرت انگیز تقریر اور نفرت انگیز جرائم‘ کو حل کرے، ان گروہوں کے حقوق کا تحفظ کرے اور اجتماعی ملک بدری سے باز رہے۔
سٹاورناکی نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ جواب دہی کی کمی اہم ہے، کیونکہ اگر قانون موجود ہو لیکن اس پر عمل نہ ہو تو ’نفرت انگیز جرائم کا مؤثر طور پر مقابلہ نہیں کیا جا سکتا۔‘
مکالمے کے دوران انڈیا نے اصرار کیا کہ وہ انسانی حقوق کے محافظوں کا احترام کرتا ہے (فوٹو: اے پی)
انڈیا کے لیے ایک اور بڑا خلا یہ ہے کہ ’نجی شعبے میں نسلی امتیاز کو قانون کے تحت واضح طور پر ممنوع قرار نہیں دیا گیا ہے۔‘
مکالمے کے دوران انڈیا نے اصرار کیا کہ وہ انسانی حقوق کے محافظوں کا احترام کرتا ہے، لیکن سٹاورناکی نے کہا کہ ’عملی طور پر انسانی حقوق کے محافظوں کو درپیش خطرات، نفرت انگیز جرائم، نفرت انگیز تقریر اور منفی ماحول کو مکمل طور پر روکا یا حل نہیں کیا گیا۔‘
جائزے کے بعد انڈین مشن نے ایک بیان میں کہا کہ اس کے وفد نے ’ہمارے کثیرالثقافتی نظام، تنوع، پیمانے اور پیچیدگی، آئینی اور قانونی ڈھانچے اور حفاظتی اقدامات کو اجاگر کیا، کیونکہ ہم تمام انڈینز کے لیے مساوات، وقار اور مواقع کو یقینی بنانے کے سفر کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔‘