پمز میں آتشزدگی:’اپنے بچے کے کپڑے تک نہیں دیکھنے دیے، صرف یہ بتایا کہ ہلاک ہو گیا‘
پمز میں آتشزدگی:’اپنے بچے کے کپڑے تک نہیں دیکھنے دیے، صرف یہ بتایا کہ ہلاک ہو گیا‘
بدھ 26 اگست 2026 11:57
صالح سفیر عباسی -اردو نیوز، اسلام آباد
’حادثے کے وقت وہاں نہ کوئی ڈاکٹر یا نرس موجود تھی اور نہ ہی کسی کو ہنگامی راستے کا پتہ تھا۔ میرا اپنا آپریشن ہوا تھا، لیکن اس کے باوجود مجھے اپنے بچے کو لے کر وہاں سے بھاگنا پڑا۔‘
اسلام آباد کے سب سے بڑے سرکاری ہسپتال (پمز) کے چلڈرن وارڈ کی نرسری میں آتشزدگی کے باعث ہلاک ہونے والے 14 بچوں کے لواحقین نے الزام عائد کیا ہے کہ آگ لگنے کے وقت نرسری کے قریب نہ تو عملہ موجود تھا اور نہ ہی آگ بجھانے کے آلات میسر تھے۔
اُن کا یہ بھی کہنا ہے کہ جب آگ لگی تو نرسنگ سٹاف غائب تھا جبکہ ہنگامی اخراج کے راستے (ایمرجنسی ایگزٹ) بھی بند پڑے تھے۔
اب تک سامنے آنے والی معلومات کے مطابق ہسپتال کے ’فائر ہوز‘ کے ساتھ کپلنگ موجود نہیں تھے، جس کی وجہ سے اسے آگ بجھانے کے لیے استعمال ہی نہیں کیا جا سکا۔
اردو نیوز کو دستیاب معلومات کے مطابق ہسپتال کے اندرونی نظام کے ذریعے آگ بجھانے کی کارروائی شروع ہی نہ ہو سکی، جس کے بعد سی ڈی اے (کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی) کے فائر ٹینڈرز نے موقع پر پہنچ کر باہر سے ہی امدادی کارروائیوں کا آغاز کیا۔
پمز کی ترجمان ڈاکٹر انیزہ جلیل کے مطابق آگ کے نتیجے میں ہلاک ہونے والے تمام بچوں کی میتیں لواحقین کے حوالے کر دی گئی ہیں، جبکہ نرسری میں موجود صرف ایک بچے کو بچایا جا سکا ہے۔
سی ڈی اے کے مطابق انہیں صبح 6 بج کر 54 منٹ پر آگ لگنے کی اطلاع موصول ہوئی: فوٹو اے ایف پی
ہسپتال کے باہر موجود ایک متاثرہ والد نے اردو نیوز کو بتایا ہے کہ فائر بریگیڈ اور ایمبولینس پہنچنے میں تاخیر کی وجہ سے والدین نے اپنی مدد آپ کے تحت بچوں کو بچانے کی کوشش کی۔
ایک متاثرہ خاتون نے اپنے غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’ایک گھنٹے تک کوئی بھی ڈاکٹر یا عملہ نہیں آیا۔ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ اتنی شدید آگ لگی ہو اور کسی اور وارڈ میں کسی ایک شخص کو بھی خراش تک نہ آئی ہو؟‘
اُنہوں نے الزام عائد کیا کہ ’ہم میں سے کسی کو اپنے بچے کے کپڑے تک دیکھنے نہیں دیے گئے، صرف یہ بتا دیا گیا کہ بچے ہلاک ہو گئے ہیں۔‘
آگ کتنے بجے لگی؟
وزیراعظم نے واقعے کی تحقیقات کے لیے ایک انکوائری کمیٹی بھی تشکیل دے دی ہے: فوٹو اے ایف پی
جبکہ دوسری طرف سی ڈی اے کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ انہیں صبح 6 بج کر 54 منٹ پر آگ لگنے کی اطلاع (کال) موصول ہوئی، جس کے فوراً بعد 6 بج کر 55 منٹ پر فائر فائٹنگ کا عملہ روانہ کر دیا گیا تھا۔
وزیر اعظم نے سیکریٹری صحت کو عہدے سے ہٹا دیا
وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال کا کہنا ہے کہ پمز میں آگ بجھانے کے آلات موجود تھے: فوٹو اے ایف پی
وزیراعظم شہباز شریف نے پمز میں آگ لگنے کے واقعے پر وفاقی سیکریٹری صحت اسلم گوری کو فوری طور پر عہدے سے معطل کر دیا ہے۔
وزیراعظم نے واقعے کی تحقیقات کے لیے ایک انکوائری کمیٹی بھی تشکیل دے دی ہے۔
وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال کا کہنا ہے کہ پمز میں آگ بجھانے کے آلات موجود تھے جنہوں نے بروقت رسپانس بھی کیا۔ تاہم ان کا مزید کہنا تھا کہ پمز ہسپتال اپنی موجودہ صلاحیت سے کہیں زیادہ بڑھ کر کام کر رہا ہے۔