اسلام آباد کے سرکاری ہسپتال میں آتشزدگی، 14 نومولود بچے ہلاک
اسلام آباد کے سرکاری ہسپتال میں آتشزدگی، 14 نومولود بچے ہلاک
بدھ 26 اگست 2026 7:05
اسلام آباد کے سرکاری ہسپتال پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) میں بچوں کے وارڈ کی نرسری میں آتشزدگی کے نتیجے میں 14 نومولود بچے ہلاک ہو گئے ہیں۔
سرکاری ٹی وی کے مطابق بدھ کی صبح تقریباً سات بجے آتشزدگی سے 14 بچے مکمل طور پر جھلس گئے ہیں۔ اس واقعے کی تحقیقات کے لیے اعلی سطح کی ایک کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جبکہ وفافی سیکریٹری صحت کو معطل کر دیا گیا ہے۔
ضلعی انتظامیہ کے مطابق آگ ہسپتال کے ایم سی ایچ وارڈ کے تیسری فلور پر لگی اور اس کے نتیجے میں 14 بچے ہلاک ہو گئے۔
وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے نجی ٹی وی چینل جیو سے بات کرتے ہوئے بتایا ہے کہ ابتدائی معلومات کے مطابق بچوں کے انتہائی نگہداشت وارڈ میں نصب ایئر کنڈینشر کے اندر دھماکے کے نتیجے میں آگ لگی۔
انھوں نے کہا کہ کیونکہ اس وارڈ میں بچوں کو آکسیجن پر رکھا جاتا ہے تووہاں موجود آکسیجن کے نظام کی وجہ سے آگ تیزی سے پھیلی۔
ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ جیسے ہی دھماکہ ہوا تو سٹاف مدد کے لیے باہر گیا لیکن آگ اتنی تیزی سے پھیلی کہ ان کی معلومات کے مطابق صرف ایک بچے کو ہی بچایا جا سکا۔
آگ ہسپتال کے ایم سی ایچ وارڈ کے تیسری فلور پر لگی اور تیزی سے پھیل گئی: فوٹو اے ایف پی
خیال رہے کہ پمز اسلام آباد کا سب سے بڑا سرکاری ہسپتال ہے جہاں دارالحکومت کے علاوہ قریبی علاقوں سے روزنہ بڑی تعداد میں مریض آتے ہیں۔
وزیرِ اعظم شہباز شریف نے پمز میں آتشزدگی کے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے کہا کہ بچوں کے ساتھ پیش آنے والا ایسا سانحہ ناقابلِ تلافی ہے۔ اس واقعے کی وجوہات کا تفصیلی جائزہ لیا جائے، ذمہ داروں کا تعین کیا جائے اور ان کے خلاف سخت ترین کارروائی عمل میں لائی جائے۔
اس واقعے کے بعد وزیراعظم کی زیر صدارت ایک اجلاس منعقد ہوا ہے جس میں سرکاری ٹی وی کے مطابق ایک اعلیٰ سطح کی تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جبکہ وفاقی سیکریٹری صحت کو عہدے سے ہٹا دیا ہے۔