کیا مردہ دماغ دوبارہ زندہ ہو سکتا ہے؟

تحقیق میں یہ دکھایا گیا ہے کہ مردہ سؤروں کے دماغی خلیے ان کے مرنے کے گھنٹوں بعد بھی بحال کیے جا سکتے ہیں۔
سائنسدان مردہ سؤروں کے دماغ میں خلیوں کو بحال کر کے ایک ایسی تحقیق سامنے لائے ہیں جس سے مستقبل میں ممکنہ طور پر دل اور فالج کے مریضوں کی مدد ہو سکے گی اور صدمے کی وجوہات جاننے میں بھی آسانی ہو گی۔ 
انسانوں اور کچھ ممالیہ جانوروں میں خون کا بہاؤ منقطع ہو جانے کے بعد دماغ کے اہم خلیے کام کرنا بندھ کرنے لگتے ہیں اورعام طور پر یہ مانا جاتا ہے کہ یہ عمل پلٹا نہیں جا سکتا۔
تحقیق کے مصنف اور ییل یونیورسٹی کے محقق نیناد سستان کا کہنا تھاکہ ْ اس تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ دماغی خلیے اتنی جلدی کام کرنا نہیں چھوڑتے جتنا اس سے پہلے سمجھا جاتا تھا۔ ٗ
محققین کی ٹیم کا کہنا تھا کہ تجربے میں استعمال کیے گئے دماغوں میں حرکت تو نظر آئی ہے ، لیکن ہوش کی حالت سے متعلق کوئی نشانی نہیں پائی گئی ہے۔
سستان کا کہنا تھاکہ ْ یہ صرف دماغ کے زندہ ہونے کی کلینیکل نشانی ہے ۔ یہ ایک زندہ دماغ نہیں، یہ بس خلیوں کی حرکت پر چلتا ہوا ایک دماغ ہے۔‘
تحقیق میں یہ دکھایا گیا ہے کہ مردہ سؤروں کے دماغی خلیے ان کے مرنے کے گھنٹوں بعد بھی بحال کیے جا سکتے ہیں۔
امریکہ کے مالی تعاون سے کی جانے والی اس تحقیق میں سائنسدانوں نے ان 32 سؤروں کادماغ استعمال کیا جنہیں کھانے کے لیے ذبح کیا گیا تھا۔ ان سؤروں کو ذبح کیے چار گھنٹے ہوئے تھے۔ 
اس کے بعد ایک تکنیک کے ذریعے ان دماغوں کو چھ گھنٹوں کے لیے دوبارہ آبیدہ کیا گیا۔اس تکنیک کے ذریعے خون جیسے مادے کو دماغ تک پہنچایا جاتا ہے۔ 
تحقیق کے دوران کچھ مردہ سؤروں کے دماغ میں یہ مادہ بھیجا گیا ، جبکہ باقی دماغوں تک ایک دوسرا مادہ ڈالا گیا۔ 
اس تجربے سے سائنسدانوں کے سامنے حیران کن نتائج آئے۔وہ دماغ جن میں خون جیسا مادہ ڈالا گیا، ان میں خلیوں نے دوبارہ حرکت شروع کر دی اوران دماغوں میں خون کی نالیوں کی ساخت بھی بحال ہونے لگی۔ سائنسدانوں نے دیکھا کہ نالیوں کے خلیوں میں بھی حرکت لوٹنے لگی۔دوسری جانب، وہ دماغ جن میں مختلف مادہ ڈالا گیا تھا، انہوں نے ْ دہی جیسی شکل ‘ اختیا ر کر لی۔
تحقیق پر تبصرہ کرنے والے ماہرین کا کہنا تھا کہ یہ عمل اس تحقیق کی اخلاقی حیثیت پر سوال اٹھا سکتا ہے کیونکہ اس میں استعمال کیے ہوئے جانور زندہ تونہیں تھے مگر مکمل طور پر مردہ بھی نہیں تھے۔ 

شیئر: