Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

اسلامی ممالک کی ترقیات میں معاون، آئی ڈی بی

    اسلامی اتحاد ، سعودی پالیسی کا اہم ترین ستون ہے۔ سعودی قیادت نے اسلامی اتحاد کے مشن کو مضبوط کرنے میں نمایاں جدوجہد کی ہے۔ سعودی عرب نے اسلامی کانفرنس تنظیم کے قیام و استحکام اور اسکے ماتحت اداروں کے قیام و فروغ میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ اسلامی ترقیاتی بینک آئی ڈی بی  ان اداروں میں سے ایک ہے۔ جن کے قیام میں سعودی عرب نے اہم کردار ادا کیا۔ آج ہم آئی ڈی بی کا تعارف پیش کررہے ہیں۔
    ٭ آئی ڈی بی ایک نظر میں: اسلامی ترقیاتی بینک 1395ھ مطابق 1975ء میں قائم کیا گیا۔ قیام کے وقت اسکے ارکان کی تعداد 22تھی اب 1425ھ مطابق2004ء میں اسکے ارکان کی تعداد 545تک پہنچ گئی ہے۔
    1395ھ میں اسکے 4ادارے تھے اب 16ادارے ہیں۔ 1395ھ میں اسکے دفاتر 3تھے اب 16ہیں۔ 1395ھ میں اسکے ملازمین 78تھے اب 188ہیں۔  1396ھ میں اسکی بنیادی پونجی 2بلین اسلامی دینار تھی۔ 1424ھ میں اسکی پونجی 15بلین اسلامی دینار تک پہنچ گئی۔
    اسلامی کانفرنس تنظیم 1969ء میں قائم کی گئی۔ مسلم ممالک کے وزرائے خزانہ نے 1973ء اور 1974ء کو اجلاس منعقد کرکے آئی ڈی بی کے قیام کا فیصلہ کیا۔ یہ خواب 1975ء میں پورا ہوا۔ آئی ڈی بی اسلامی تعاون ہی کا لائحہ عمل ہے۔ آئی ڈی بی نے 1425ھ میں 3 عشرے مکمل کرلئے۔
    آئی ڈی بی نے اس دوران رکن ملکوں کو مقامی اور عالمی چیلنج سے نبر دآزما ہونے میں تعاون دیا۔ بینک نے 15شوال 1425ھ کو اپنی ترقیاتی خدمات کے سفر کی 30ویں سالگرہ منائی۔ بینک نے مسلم ملکوں کے اقتصادی مسائل حل کرنے اور اقتصادی ترقی کے فروغ میں ہر لحاظ سے اہم کردار ادا کیا۔
     آئی ڈی بی کے رکن ملکوں کا تعلق ایشیا، یورپ اور جنوبی امریکہ براعظموں سے ہے۔ تمام ارکان، ترقی پذیر ہیں۔ ان میں سے 22ممالک ایسے ہیں جو انتہائی کم شرح نمو رکھنے والے ہیں۔انہیں اقوام متحدہ کم شرح نمو والا سمجھتی ہے۔
    آئی ڈی بی کا رکن بننے کی بنیادی شرط یہ ہے کہ وہ ملک اور آئی ڈی بی کا رکن ہو اور بینک کی پونجی میں مقررہ رقم جمع کرائے او ربینک کی شرائط اور احکام پر عمل پیرا ہونے کا اعتراف کرے۔
    بینک نے اپنی ترقی کا سفر طے کرنے کیلئے گوناگوں مشکلات کا سامنا کی اور انکا مقابلہ کرکے انہیں حل کیا۔ بینک نے رکن ملکوں کی ترقیاتی ضروریات کی نشاندہی کیلئے 3 علاقائی دفاتر قائم کئے ہیں۔ یہ دفاتر قازقستان، ملائیشیا اور مراکش میں ہیں۔ بینک نے پاکستان، بنگلہ دیش، گنی، انڈونیشیا، قازقستان، لیبیا، سینیگال اور سوڈان میں نمائندہ مقرر کررہے ہیں تاکہ ان ملکوں میں زیر تکمیل منصوبوں پر رکھ رکھی جاسکے اور ان کے مسائل تیزی سے حل کئے جاسکیں۔
    بینک نے 1424ھ میں نئی  حکمت عملی منظور کی ہے اس کا مقصد رکن ملکوں کو پیش کی جانے والی خدمات کا معیار بہتر بنانا ہے۔  بینک نے 1418ھ میں وقف فنڈ قائم کیا۔ اس فنڈ سے مختلف اعانتی پروگرام نافذ کئے جاتے ہیں۔ فنڈ کا ابتدائی سرمایہ 885ملین اسلامی دینار ہے۔
    آئی ڈی بی نے 29جولائی 2003ء میں پہلی مرتبہ اسلامی بانڈز جاری کئے۔ بانڈز کی میعاد 5برس رکھی گئی۔ آئی ڈی بی رکن ملکوں کی مدد 3طرح سے کرتا ہے۔ فنی تعاون، تجارتی پروگراموں کو سرمایہ کی فراہمی اور وقف فنڈ، فنی تعاون کا  آغاز 1397ھ  مطابق 1977ء میں کیا گیا۔
    آئی ڈی بی 1997ء سے رکن  ملکوں کے قرضے ختم کرانے اور قرضوں کا بھاری بوجھ گھٹانے کی عالمی مہم میں حصہ لے رہا ہے۔ اب تک 27ملکوں کے قرضے  معاف کرچکا ہے۔ ان میں سے 14آئی ڈی بی کے رکن ہیں۔ بینک نے رکن ملکوں کے درمیان تجارت کو فروغ دینے کیلئے سرمایہ کی فراہمی کا پروگرام 1397ء مطابق 1977ء  سے شروع کیا۔
    11-9-1425ہجری زکوٰۃ الفطر  بینک ترقیاتی سامان درآمد کرنے کیلئے رکن ملکوں کو تعاون دیتا ہے۔ اسی طرح رکن ملکوں کو برآمدات کے فروغ میں بھی مدد پیش کرتا ہے۔ آئی ڈی بی نے 1979ء مطابق 1400 ھ میں (خصوصی کھاتہ) قائم کیا اسکا مقصد غیر مسلم ممالک میں جہاں مسلمان رہتے  ہوں مسلمانوں کی مدد کرنا ہے۔ انتظامی اخراجات کی ادائیگی وغیرہ اسکا  اشیاء ، قرضوں وغیرہ کی شکل میں تعاون دیتا ہے۔
    ۰ رکن ملکوں کے پناہ گزینوں کی مدد۔
    ۰ غیر رکن ملکوں کے مسلم پناہ گزینوں کی مدد۔
    ۰ پڑوسی ملکوں کے پناہ گزینوں کی مدد۔
    ۰ آسمان آفات سے دوچار رکن ملکوں کی مدد
    ۰ غیر رکن ملکوں میں تعلیمی وظائف کی تقسیم۔
    ۰ اعلیٰ ٹیکنالوجی کی تعلیم میں اسکالر شپ دینا۔
    ۰ سائنس و ٹیکنالوجی میں بھی تعلیم اور اسکالر شپ

شیئر: