”شیر کا جھوٹا گیدڑ کھاتے ہیں“

 ہمارے اندرتمام تر گیدڑانہ خصوصیات بدرجہ اتم موجود ہیں
شہزاد اعظم۔جدہ
ہمارے بڑے واقعی بے انتہاءفہیم، ذہین و فطین تھے ۔ وہ جو کچھ کہتے تھے، اس کا کوئی نہ کوئی مطلب ہوتا تھا، اول فول بکنا اُن کی عادت قطعاً نہیں تھی۔ ان کی کہی ہوئی بات پتھر پر لکیر ہوا کرتی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے فرمائے ہوئے بعض جملے تو محاوروں اور ضرب الامثال کی شکل اختیار کر کے اردو ادب کی کتب میں محفوظ ہو چکے ہیں۔ زبانِ بزرگان سے ادا شدہ جملوں کی سچائی، گہرائی اور گیرائی بلا شبہ مسلّمہ ہے۔ہم اپنے ارد گردان” فرمودات“کی عملی شکل آئے روز دیکھتے رہتے ہیں۔یہاں بزرگوں کے چند ایک فرمودات پیش کئے جا رہے ہیں، اُمید ہے کہ آپ ہماری بات سے اختلاف کرنے کے قابل نہیں ہو سکیں گے۔
ہمارے ایک بزرگ نے فرمایا تھا کہ ”کوئلوں کی دلالی میں منہ کالا۔“ واقعی صاحب! ہم نے اس کا عملی ثبوت اپنی حقیقی آنکھوں سے ملاحظہ کیا۔ ہوا یوں کہ ہمارا ایک دوست ہے جس کا نام ”اچھن“ہے ۔وہ کافی عرصے سے بیروزگار تھا۔ ہمارے ایک دوست نے اسے مشورہ دیا کہ وہ ”دلال“ یعنی کمیشن ایجنٹ کے طور پرکوئلے کی فروخت کا سلسلہ شروع کر دے۔ مرتا کیا نہ کرتا، ہمارے دوست نے کوئلے کی دلالی شروع کر دی۔ وہ صبح کو گھر سے نکلتا اور رات کے وقت واپس لوٹتا تھا۔ ہم چونکہ ایک ہی محلے میں رہتے تھے اس لئے صبح کو ہم کلو کو جاتے اور رات کو اسے واپس آتے دیکھتے تھے۔ وہ جب ناشتہ واشتہ کر کے گھر سے نکلتا تو صاف ستھرا ہوتا تھا مگر جب رات کوکوئلے کے کام سے واپس لوٹتا تو اس کا منہ کالا ہوتا تھا۔ اس کا لے منہ پر اس کی آنکھوں کی سفیدی بالکل ہی الگ سے چمکتی دکھائی دیتی تھی۔ اس کالک کے باعث ہی اس کا نام ”کلّو“ پڑ گیا تھا۔ ہماری نظر جب بھی کلو کے سیاہ تھوبڑے پر پڑتی تو ہمیں اپنے بزرگ کا فرمانا یاد آتا کہ ”میاں! کوئلوں کی دلالی میں تو منہ کالا ہوتا ہی ہے۔“
ہمارے ایک اور ”وڈیرے“ نے فرمایا تھا کہ ”شیر کا جھوٹا گیدڑ کھاتے ہیں“۔ یہ ایسی بات تھی جو ہمیںپختہ عمر کو پہنچنے کے باوجود سمجھ میں نہیں آ سکی تھی بالآخر ہم نے اپنی نانی اماں سے اس فرمان کے معانی دریافت کئے ۔ انہوں نے ہمیں سمجھایا کہ تم اپنے بڑے بھیا کے سامنے بھیگی بلی بنے رہتے ہو ناں؟ ہم نے کہا جی ہاں! بنے رہتے ہیں کیونکہ اگر ہم اپنی من مانی کرنے کی کوشش کریں تووہ ہمارے ہوش ٹھکانے لگا دیتے ہیں۔ اس لئے اُن کی موجودگی میں تو ہماری بولتی بند رہتی ہے۔ نانی اماں نے کہا کہ وہ بازار سے وضع وضع کی چیزیں خرید کر لاتے ہیں اور خود ہی کھا لیتے ہیں۔ تم ان کا منہ تکتے رہتے ہواور جب ان کا دل بھر جاتا ہے تو وہ بچی ہوئی چیز آپ کو دے دیتے ہیں اور آپ خوش ہو کر کھا لیتے ہیں۔ اسی لئے آپ کے بڑے بھیا جب بھی گھر سے باہر نکلتے ہیں تو آپ اُن کے لوٹنے کا انتظار کرتے ہیں کیونکہ آپ کا خیال ہوتا ہے کہ بھیا کوئی نہ کوئی چیز لے کر آئیں گے ۔ جب وہ گھر آتے ہیں تو آپ سب سے پہلے ان کے ہاتھ دیکھتے ہیں کہ آیا انہوں نے ہاتھوں میںکچھ تھام رکھا ہے یا نہیں، اور ا گر ان کے ہاتھ میں کوئی لفافہ وغیرہ ہو تو آپ کا دل چاہتا ہے کہ کاش تھوڑا سا کھانے کے بعد ہی ان کا دل بھر جائے اور وہ سارے کا سارا لفافہ آپ کے حوالے کر دیں۔ بتائیے کیا یہ باتیں غلط ہیں؟ ہم نے کہا کہ نہیں نانی اماں! آپ نے جو کچھ کہا وہ صد فیصد درست ہے۔ نانی اماں کہنے لگیں بس اسی لئے آپ کے ”وڈیرے“ فرما گئے تھے کہ ”شیر کا جھوٹا گیدڑ کھاتے ہیں“۔ نانی اماں نے بات یہیں ختم نہیں کی بلکہ انہوں نے مزید ”حقائق “ بھی بیان کئے۔ انہوں نے کہا کہ تیسری دنیا کے ممالک میں حکمران اپنے آپ کو عوام سے کہیںزیادہ طاقتور سمجھتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ وہ آنے بہانے قومی خزانے سے رقوم ہتھیاتے ہیںاور اپنا اُلو سیدھا کرتے ہیں۔ عوام اُن کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔ ان کی اصلاح نہیں کر سکتے، انہیں اس غیر ا خلاقی اور حرام کام سے روکنے کی سکت نہیں رکھتے چنانچہ ہوتا یوں ہے کہ ان حکمرانوں کے آگے پیچھے پھرنے والے ، ان کی للوتپوکرتے ہیں اور اس لوٹ مار میں سے کچھ حصہ بٹونے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔ اس مثال میں بھی حکمرانوں کوطاقتور اور صاحبِ اختیارہونے کے ناتے شیر اور للوتپو کرنے والوں کو گیدڑ کے قائم مقام قرار دے کر اس جملے کا عملی اطلاق دیکھا جا سکتا ہے کہ ”شیر کا جھوٹا گیدڑ کھاتے ہیں“۔
تیسری دنیا کے حکمرانوں کے سامنے عوام کی حالت واقعی کسی گیدڑ سے بہتر یا برتر نہیں ہوتی۔ ہم بھی تیسری دنیا کے باسی ہیں اور عوام میں شامل ہیں چنانچہ ہمارے اندر بھی تمام تر گیدڑانہ خصوصیات بدرجہ اتم موجود ہیں۔ ہمارے ہاں شہر میں، گاﺅں میں، دیہہ میں قصبے میں جہاں کوئی صاحبِ اختیار رہائش پذیر ہوتا ہے وہ اپنے ”محل“ کی جانب جانے والے راستے پختہ کرواتا ہے،سڑکیں بنواتا ہے، کھمبے لگواتا ہے اور ان پر بلب نصب کرواتا ہے تاکہ رات کو اس کے دولت کدے کے تمام راستے چمچماتے دکھائی دیں۔یوںان راستوں میں آنے والے عوام کے جھونپڑوں کی قسمت جاگ جاتی ہے اور وہ عام شہری یا عام دیہاتی ہونے کے باوجود ”اشرافیہ“ کی طرح اندھیروں سے محفوظ ہو جاتے ہیں۔ایسے لوگ اس فرمان میں کہ”شیر کا جھوٹا گیدڑ کھاتے ہیں“ ، گیدڑ کے قائم مقام ہوتے ہیں۔ان کے مقابلے میں باقی عوام لوڈ شیڈنگ کے نام پراپنی قسمت کے اندھیرے دور کرنے والی ”اُمید کی کرن“ تلاش کرنے کے لئے کوشاں رہتے ہیں۔
ہمارے شہر میں بھی ایک بااثر صاحبِ اختیار کا ”محل“ واقع ہے۔ انہوں نے اپنے اس محل کو جانے والے راستوں کو بے انتہاءخوبصورت بنایا۔ کئی کلومیٹر طویل سڑک کی مثالی استر کاری کروائی اور اس کے ایک جانب پارک بنوایا۔ اس پارک کے ساتھ فٹ پاتھ تعمیر کروایا ۔ پارک کے جنگلے اور فٹ پاتھ کے درمیانی حصے کو سرسبز وشاداب بنوایا، وہاں گھاس اور آرائشی پودے لگوائے۔ اس پورے راستے کو قمقموں سے سجایا تاکہ پتہ چل سکے کہ یہ چکا چوندکسی جھونپڑ پٹی کی نہیں بلکہ ایک ”عظیم“ ہستی کے محل کی راہ دکھاتی ہے۔آپ سوچتے ہوں گے کہ یہاں ”شیر کا جھوٹا گیدڑ کھاتے ہیں“ کا فرمان کس طرح منطبق ہوگا؟ اس کا جواب یوں ہے کہ عوام بے چارے جب شدید گرمی کے دوران ہونے والی لوڈ شیڈنگ سے تنگ آجاتے ہیں، ننھے بچے گرمی اور پسینے سے بلبلا اٹھتے ہیں،منہ پھاڑ پھاڑ کر چیخنے، چلانے اور رونے پیٹنے لگتے ہیں، تواکثر باپ اپنی سائیکل یا موٹر سائیکل پر بچوں اور ان کی اماں کے ساتھ سوار ہو کر اس پارک کے باہر سرسبز و شاداب پٹی پر چلے جاتے ہیں ، بچے وہاں کھیلنا شروع کر دیتے ہیں۔ ان کی امائیں ان پر نظر رکھتی ہیں جبکہ اکثر ”ابّے“ وہاں پسر جاتے ہیں اور اینڈنا شروع کر دیتے ہیں۔اس طرح بااختیار ہستی کے محل کو جانے والے راستے کی روشنیوں سے مستفید ہونے والے بے اختیار عوام ”گیدڑ“ کے زمرے میں آتے ہیں۔
ہم نے اپنی سکڑ نانی کو کہتے سنا تھا کہ ”12برس کے بعد تو کُوڑی پر بھی عروج آجاتا ہے۔“آج سکڑ نانی کے انتقال کو 40برس سے زیادہ کا عرصہ گزر گیا اس کے باوجود ہمیں یہ بات سمجھ میں نہیں آ سکی تھی کہ آخر یہ کچرا کنڈی، 12برس اور عروج وغیرہ کیا معنی رکھتے ہیں۔ ہم نے کافی عرصے اس حوالے سے تحقیق کرنے کی کوشش کی مگر کوئی خاص نتیجہ برآمد کرنے میں ناکام ہی رہے۔ وقت کا پہیا گردش کرتا رہا اور 4دہائیاں گزر گئیں۔ 
ہم گزشتہ کئی برس سے کراچی کے معروف علاقے ”پاپوش“ میں مقیم ہیں۔اس علاقے میں بہت وسیع و عریض شہر خموشاں یعنی قبرستان موجود ہے۔ اس کی ایک دیوار کے ساتھ قریباً71گز طویل کچرے کا ڈھیر بھی پایاجاتا ہے۔ اس سے بدبو کے غیر مرئی مرغولے اٹھ کر پورے علاقے کو متعفن کر رہے ہیں۔ یہ اس ”کُوڑی“ پر کبھی کوئی عاقبت نااندیش آگ لگا جاتا ہے تو محسوس ہوتا ہے کہ بدبو کے غیر مرئی مرغولوں کومرئی شکل دے دی گئی ہے ۔ہماری اطلاعات کے مطابق کتنے ہی حساس طبع لوگ اس کچرے کے ناقابل برداشت تعفن سے متاثر ہو کر پہلے بیمارہوئے اور پھر اسپتال بھی پہنچ گئے۔
گزشتہ ماہ مئی کی 27تاریخ کو ہم کراچی میں موجود تھے۔ ہمیں ایک انتہائی ضروری کام سے فقیر کالونی جانا تھا۔ ہم اپنے گھر سے نکلے ، موٹر سائیکل پر سوار ہوئے اور اس کچرے کے ڈھیر کے پاس پہنچے تو حیرت و استعجاب کے باعث ہم موٹر سائیکل چلانا ہی بھول گئے، وہ چند جھٹکوں کے بعد بند ہوگئی۔ ہمارے تحیر کا سبب اس ”کُوڑی“ کی حالت میں آنے والا تغیر تھا۔ ہم نے فوری حساب لگایا تو معلوم ہوا کہ یہ کچرے کا یہ ڈھیر 27مئی2003ءکو لگایا گیا تھا اور آج اس کی 12ویں برسی تھی۔ اس حقیقت کا ادراک ہوتے ہی ہماری تو سٹی ہی گم ہو کر رہ گئی کیونکہ ہماری سکڑ نانی کا فرمان صد فیصد درست ثابت ہو رہا تھا کہ ”12برس کے بعد تو کُوڑی پر بھی عروج آجاتا ہے۔“ہم نے اپنی حقیقی آنکھوں سے دیکھا کہ کچرے کی صفائی کے لئے مشین لائی گئی جس نے 50گز تک بکھرا ہوا کچرا سمیٹا اور چلتی بنی تاہم 21گز طویل اور ایک گز دبیز کچرے کی تہ آج بھی اس مقام پر موجود ہے ۔ اس کی دو اہم وجوہ ہیں۔ ایک تو یہ کہ سنا ہے یہ اس کچرا کنڈی کا وہ حصہ ہے جو شروع سے موجود نہیں تھا بلکہ بعد میں ”آباد“ ہوا تھا اس لئے اس کے 12سال مکمل ہونے پر اسے بھی صاف کر دیاجائے گا۔ دوسری اہم اور سمجھ میں آنے والی وجہ یہ ہے کہ ہم ترقی پذیر ملک ہیں، ترقی یافتہ نہیں۔ اگر کچرا بالکل ہی صاف کر دیا گیا تو ایسا لگے گا جیسے ہم ترقی یافتہ ہیں اور یہ صریحاً جھوٹ ہوگا اس لئے اپنی حقیقت کو یاد رکھنے کے لئے اس ”کُڑی“ کا باقی رہنا ناگزیر ہے۔
آج ہم بزرگوں کی اتنی ہی کہاوتوں یا فرمودات پر اکتفا کرتے ہیں، آئندہ مزید فرمودات پر بحث کریں گے، اس وقت تک کے لئے اجازت۔
 

شیئر: