Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

ایپسٹین نے مشرقِ وسطیٰ میں طاقتور تعلقات کا جال بُننے کی کوشش کی، دستاویز میں انکشاف

احمد بن سلیم کو اپنی ماضی کی بات چیت پر کچھ مالی شراکت داروں کی طرف سے دوبارہ سوالات کا سامنا کرنا پڑا۔ (فائل فوٹو: روئٹرز)
دبئی میں قائم عالمی پورٹ کمپنی ڈی پی ورلڈ کے چیف ایگزیکٹو اور چیئرمین سلطان احمد بن سلیم نے اپنے عہدوں سے استعفیٰ دے دیا ہے، جو امریکی محکمۂ انصاف کی تازہ دستاویزات کے بعد مشرقِ وسطیٰ میں سامنے آنے والا سب سے بڑا اثر تصور کیا جا رہا ہے۔ ان دستاویزات میں بدنام زمانہ فنانسر جیفری ایپسٹین کے خطے میں سیاسی اور تجارتی رہنماؤں کا ایک طاقتور نیٹ ورک قائم کرنے کی کوششوں کا انکشاف ہوا ہے۔
برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق کمپنی نے جمعے کو اعلان کیا کہ بن سلیم نے چیف ایگزیکٹو اور چیئرمین کے عہدوں سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ دو ذرائع نے بتایا کہ یہ فیصلہ اس وقت کیا گیا جب بن سلیم کا نام ایپسٹین فائلز میں سامنے آیا اور ان کے جنسی جرائم میں سزا یافتہ جیفری ایپسٹین کے ساتھ تعلقات پر سوالات میں اضافہ ہوا۔
فائلز میں شامل ای میل مراسلت کے مطابق احمد بن سلیم نے ان خواتین سے متعلق گفتگو کی جن کے ساتھ ایپسٹین نے انہیں ملایا تھا۔ نو نومبر 2007 کو بھیجی گئی ایک ای میل میں بن سلیم نے ایپسٹین کو بتایا کہ وہ نیویارک میں ایک عورت سے ملے تھے، جس کا نام انہوں نے نہیں بتایا، اور جن کے ساتھ انہوں نے جنسی تعلق نہ ہونے کا دعویٰ کیا۔
انہوں نے لکھا کہ کئی ماہ تک کی کئی کوششوں کے بعد نیویارک میں ملاقات ممکن ہوئی، لیکن ایک غلط فہمی تھی کیونکہ ’وہ بزنس چاہتی تھی جبکہ میں صرف جنسی تعلق چاہتا تھا۔‘
جمعے کو دبئی کے حکمران نے ایک شاہی فرمان بھی جاری کیا جس میں دبئی پورٹس، کسٹمز اور فری زون کارپوریشن کے لیے نیا چیئرمین مقرر کیا گیا۔
روئٹرز نے احمد بن سلیم سے متعلق ایپسٹین فائلز کے صرف کچھ حصوں کا آزادانہ جائزہ لیا، لیکن واضح طور پر یہ تعین نہیں کر سکا کہ انہیں ڈی پی ورلڈ سے کس خاص وجہ سے ہٹایا گیا، اگرچہ ذرائع نے بتایا کہ یہ فائلز ہی وجہ تھیں۔ بن سلیم نے اپنے استعفے کے حوالے سے کوئی جواب نہیں دیا اور کمپنی نے بھی جواب دینے سے انکار کیا ہے۔

اکٹھے کھانا بنانا

ایک ای میل کے تبادلے میں ایپسٹین نے بن سلیم کو مزاحیہ، قابل اعتماد اور کھانے کا شوقین قرار دیا۔ ایپسٹین نے مزید کہا کہ بن سلّم ایک مسلم ہیں، شراب نہیں پیتے اور پانچ وقت کے نمازی ہیں۔
ایک تصویر جس کی تاریخ واضح نہیں اور جو ایک ای میل میں شامل ہے اور عوامی طور پر دستیاب ہے، ایپسٹین کو بن سلیم کے ساتھ بے فکری کے ساتھ کھانا پکاتے ہوئے دکھاتی ہے۔

ایک ای میل کے تبادلے میں جیفری ایپسٹین نے احمد بن سلیم کو مزاحیہ، قابل اعتماد اور کھانے کا شوقین قرار دیا۔ (فوٹو: اے ایف پی)

احمد بن سلیم نے ایپسٹین کے اس بیان یا ان ای میلز پر عوامی طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔ فائل میں نام شامل ہونا جرم ثابت کرنے کا ثبوت نہیں ہے، لیکن جب امریکی کانگریس کے اراکین نے کہا کہ احمد بن سلیم کا نام عدالت کی دستاویزات میں آیا ہے، تو انہیں اپنی ماضی کی بات چیت پر کچھ مالی شراکت داروں کی طرف سے دوبارہ سوالات کا سامنا کرنا پڑا۔
برطانیہ کی ترقیاتی فنانس ایجنسی برٹش انٹرنیشنل انویسمنٹ اور کینیڈا کے دوسرے بڑے پینشن فنڈ نے کہا ہے کہ وہ احمد بن سلیم کے مبینہ تعلقات کی وجہ سے ڈی پی ورلڈ میں نئی سرمایہ کاری معطل کر دیں ہیں۔ ان اداروں نے کہا کہ وہ کمپنی کے ضروری اقدامات اٹھانے تک کسی نئی سرمایہ کاری پر غور نہیں کریں گے۔

تعلقات کا نیٹ ورک

امریکی محکمۂ انصاف کی جاری کردہ دستاویزات، جن میں ٹیکسٹ میسجز اور ای میلز شامل ہیں، ظاہر کرتی ہیں کہ مشرقِ وسطیٰ ایپسٹین کی کوششوں سے مستثنیٰ نہیں تھا، جس نے دنیا بھر میں سیاستدانوں، مالیاتی رہنماؤں، علمی اور کاروباری شخصیات سے تعلقات قائم کرنے کی کوشش کی۔
ایپسٹین نے سنہ 2018 سے سنہ 2021 تک سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، بحرین اور مصر کی جانب سے قطر کے محاصرے کے دوران قطری کاروباری رہنماؤں اور سیاسی شخصیات کو مشورہ دینے کی کوشش کی۔
قطر کے کاروباری رہنما اور حکمران خاندان کے رکن شیخ جابر یوسف جاسم آل ثانی کو جیفری ایپسٹین نے کہا کہ وہ ’جھگڑا اور بحث بند کرے… اور حالات کو پرسکون ہونے دے۔‘ ایپسٹین نے قطر کی قیادت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’موجودہ قطری ٹیم بہت کمزور ہے‘ اور ’وزیرِ خارجہ کے پاس تجربہ نہیں ہے اور یہ ظاہر ہوتا ہے۔‘
اس وقت قطر کے وزیرِ خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمن آل ثانی تھے، جو اب بطور وزیرِ خارجہ اور وزیرِاعظم خدمات انجام دے رہے ہیں۔ تاہم شیخ محمد نے ایپسٹین کے ان بیانات پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔

 

شیئر: