Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

خارجہ پالیسی پر نظر ثانی کرر ہے ہیں،خواجہ آصف

 اسلام آباد...وزیرخارجہ خواجہ آصف نے کہا ہے کہ پاکستان بدلتے عالمی منظر نامے کے تناظر میں خارجہ پالیسی پر نظرثانی کررہا ہے۔ طویل عرصے سے پاکستان کی خارجہ پالیسی امر یکہ کے گرد گھومتی رہی ہے تاہم جب تک اقتصادی طور پر مضبوط نہیں ہوجاتے آزاد خارجہ پالیسی نہیں ہوسکتی۔اسلام آباد میں کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے اس تاثر کو مسترد کردیا کہ پاکستان سفارتی طورپر تنہائی یا علیحدگی کا شکار ہوگیا ۔ روس کے ساتھ ہمارے تعلقات بہتر ہوئے ہیں۔ چین کے ساتھ تعلقات کو نئی جہت ملی ہے۔وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان نے ہندکے ساتھ بھی تعلقات بہتر بنانے کی ہر ممکن کوشش کی لیکن حوصلہ افزا جواب نہیں ملا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان نے علاقائی تنازعات میں بھی غیر جانبداری برقرار رکھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سی پیک ثمرات ملنا شروع ہوگئے ۔ 65فیصد فیڈرز میں لوڈشیڈنگ ختم ہوگئی ۔ سڑک اور ریل کے بنیادی ڈھانچے میں بھی بہتری آئی ہے۔وزیرخارجہ نے کہا کہ وسط ایشیائی ریاستوں اور ان سے آگے تک رسائی افغانستان میں امن کے بغیر ممکن نہیں ہوگی۔ امریکہ کو پاکستان کے ساتھ تعلقات کو افغانستان کی عینک کے بغیر دیکھنا ہوگا۔

شیئر: