Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

فرانس: جنگلات میں آگ لگانے کے شبے میں 500 افراد گرفتار، یورپ کے نصف درجن ممالک آتش زدگی سے نبرد آزما

جمعے کو یورپ میں 15 کروڑ افراد ایسے علاقوں میں تھے جہاں درجہ حرارت 35 ڈگری سینٹی گریڈ یا اس سے زیادہ رہا۔ (فوٹو: اے ایف پی)
فرانس میں حکام کا کہنا ہے کہ موسمِ گرما کے آغاز سے اب تک جنگلات میں آگ لگانے کے شبے میں تقریباً 500 افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔
برطانوی اخبار دی گارڈین کی رپورٹ کے مطابق  یہ کارروائیاں ایسے وقت میں ہو رہی ہیں جب یورپ کے نصف درجن ممالک میں فائر فائٹرز شدید نوعیت کی آگ پر قابو پانے کی کوشش کر رہے ہیں، جبکہ پورا براعظم ریکارڈ توڑ گرمی کی لہر کی لپیٹ میں ہے۔
جمعہ کے روز یورپ کے پانچ میں سے ہر تین افراد کو کم از کم 30 ڈگری سینٹی گریڈ درجہ حرارت کا سامنا تھا، جبکہ تقریباً 15 کروڑ افراد ایسے علاقوں میں تھے جہاں درجہ حرارت 35 ڈگری سینٹی گریڈ یا اس سے زیادہ تھا۔ فرانس کی وزارتِ داخلہ کے مطابق، یکم جولائی سے ملک میں جنگلات کی آگ کے سلسلے میں 474 افراد کو حراست میں لیا گیا، جن میں 183 نابالغ بھی شامل ہیں۔
وزارت کے مطابق گرفتار کیے گئے تقریباً 70 فیصد افراد پر جان بوجھ کر آگ لگانے کا شبہ ہے، جبکہ باقی افراد پر حادثاتی طور پر آگ لگانے کا شبہ ہے۔
فرانسیسی میڈیا کے مطابق، 15 سالہ ایک لڑکے کو بورڈو ایئرپورٹ کے قریب لگنے والی آگ کے سلسلے میں حراست میں لیا گیا تھا۔ جولائی میں اس آگ کے نتیجے میں دو فائر فائٹرز ہلاک ہوئے تھے۔
فرانسیسی حکام نے جمعہ کو جنوب مغربی علاقے لینڈز کے گاؤں لوگلون سے 525 سے زائد افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا، کیونکہ جنگل میں لگنے والی ایک نئی آگ نے 24 گھنٹوں سے بھی کم عرصے میں خشک پائن کے جنگل کے تقریباً 1,100 ہیکٹر (2,700 ایکڑ) علاقے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔
مقامی آفیشل گِل کلاوِرول نے صحافیوں کو بتایا کہ ’صورتحال سازگار نہیں ہے اور آگ بدستور بھڑک رہی ہے۔‘ انہوں نے مزید کہا کہ تقریباً 500 فائر فائٹرز آگ بجھانے میں مصروف ہیں اور مدد کے لیے پانی گرانے والے چھ طیارے بھی بھیجے گئے ہیں۔ گاؤں کی جانب جانے والی سڑکیں بند کر دی گئی ہیں۔

جرمن خبر رساں ادارے ڈی پی اے کے مطابق، آگ کے شعلوں میں گولہ بارود پھٹنے کی آوازیں سنی جا سکتی ہیں۔ (فوٹو: اے ایف پی)

سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کے باعث شدید موسمی واقعات زیادہ تواتر سے اور زیادہ شدت کے ساتھ رونما ہو رہے ہیں۔ اس کے نتیجے میں مٹی اور آبی ذخائر خشک ہو رہے ہیں، جنگلات میں آگ بھڑکنے کے امکانات بڑھ رہے ہیں اور فرانس میں گرمی سے ہونے والی اضافی اموات کی تعداد میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ یورپ کا درجہ حرارت عالمی اوسط کے مقابلے میں تقریباً دو گنا تیزی سے بڑھ رہا ہے۔

جرمنی

مغربی جرمنی میں جمعہ کی صبح سویرے 2,000 سے زائد افراد اپنے گھروں سے نکل کر قریبی پرائمری سکول میں پناہ لینے پر مجبور ہوئے، کیونکہ قریبی ہُرٹگن جنگل  میں لگنے والی آگ گائے نامی گاؤں سے چند سو میٹر کے فاصلے تک پہنچ گئی تھی۔
ریاست نارتھ رائن ویسٹ فیلیا کی نائب وزیرِاعلیٰ مونا نوئباؤر نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ ’یہ جنگل کی آگ مقامی آبادی کے لیے بڑے خطرے کا باعث ہے۔‘
دوسری جنگِ عظیم کے دوران استعمال ہونے والے پھٹے نہ جانے والے گولہ بارود نے بھی آگ بجھانے کی کوششوں میں رکاوٹ پیدا کی۔
جرمن خبر رساں ادارے ڈی پی اے کے مطابق، آگ کے شعلوں میں گولہ بارود پھٹنے کی آوازیں سنی جا سکتی ہیں، جس کے باعث حفاظتی وجوہات کی بنا پر فائر فائٹرز کو علاقے سے دور رہنا پڑا۔ یہ علاقہ بیلجیم کی سرحد سے زیادہ دور نہیں ہے۔ جرمن فوج کے ٹینک اور ہیلی کاپٹر بھی امدادی کارروائیوں میں حصہ لے رہے تھے۔

کروشیا

کروشیا میں تیز ہواؤں کے باعث بھڑکنے والی جنگل کی آگ رات بھر میں بحیرۂ ایڈریاٹک کے ساحل پر واقع سیاحتی قصبے لوکوا روگوزنیکا تک پہنچ گئی۔ آگ نے کئی گھروں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا، تقریباً 1,000 افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنا پڑا اور درجنوں افراد زخمی ہوئے۔

سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کے باعث شدید موسمی واقعات زیادہ تواتر سے اور زیادہ شدت کے ساتھ رونما ہو رہے ہیں۔(فوٹو: گیٹی امیجز)

فائر بریگیڈ اور محکمۂ صحت کے حکام کے مطابق، قریبی شہر سپلٹ میں ایمبولینس سروس کے ذریعے 36 افراد کا علاج کیا گیا۔ ان میں سے 14 کو اسپتال داخل کیا گیا، جبکہ سات کی حالت تشویش ناک اور جان لیوا تھی۔ قریبی کئی قصبوں میں ہنگامی پناہ گاہیں قائم کی گئیں۔
کروشیا کے وزیراعظم آندرے پلینکووِچ نے قریبی شہر اومیش کا دورہ کیا، جہاں متاثرین ایک سپورٹس ہال میں پناہ لیے ہوئے ہیں۔ انہوں نے اس آگ کو ’حالیہ برسوں کی بدترین آگ میں سے ایک‘ قرار دیا، تاہم کہا کہ سب سے اہم بات یہ ہے کہ اب تک کسی ہلاکت کی تصدیق نہیں ہوئی۔
ساحلی علاقے کی ایک اہم شاہراہ کا ایک حصہ بھی بند کر دیا گیا۔

سپین

شمال مشرقی سپین میں فوج کے ایک یونٹ نے 11ویں صدی کے اراگون کے تین بادشاہوں کی باقیات کو سان خوان دے لا پینیا خانقاہ سے نکال کر قریبی شہر ہوسکا کے ایک عجائب گھر منتقل کر دیا، کیونکہ جنگل میں لگنے والی آگ سے خانقاہ کو خطرہ لاحق ہو گیا تھا۔
حکام کے مطابق پیر کو شروع ہونے والی آگ جمعرات کو مزید شدت اختیار کر گئی۔ زیادہ درجہ حرارت اور تیز ہواؤں نے آگ کو مزید پھیلنے میں مدد دی، جس کے نتیجے میں 9,000 ہیکٹر سے زیادہ رقبہ جل گیا اور 16 قصبوں اور دیہات کے لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنا پڑا۔

برطانیہ میں جنگلات میں لگنے والی آگ تیزی سے ویسٹ مڈلینڈز میں پھیل گئی اور کئی مکانات مکمل طور پر جل کر تباہ ہو گئے۔ (فوٹو: اے ایف پی)

جنوبی سپین میں جنگل میں لگنے والی اس سے بھی بڑی آگ جمعرات کو مزید شدید ہو گئی۔ اب تک صوبہ ہویلوا میں تقریباً 31,000 ہیکٹر رقبہ جل چکا ہے اور تقریباً 700 افراد کو اپنے گھر چھوڑنے پڑے ہیں۔

یونان

شمالی یونان میں جمعرات کو چھوٹی کشتیوں کے ایک بیڑے نے تقریباً 500 سیاحوں کو ساحلوں سے محفوظ مقامات پر منتقل کیا، کیونکہ جنگل میں لگنے والی آگ نے شہر تھیسالونیکی کے جنوب میں واقع ہالکیڈیکی جزیرہ نما کے دو مقبول سیاحتی مقامات، سیویری اور فورکا، کو خطرے میں ڈال دیا ہے
تقریباً 3.2 کلومیٹر طویل آگ کے محاذ پر شعلے 30 میٹر (98 فٹ) تک بلند ہو رہے ہیں۔ علاقائی سول پروٹیکشن چیف کے مطابق دن کے بعد آگ پر قابو پا لیا گیا، تاہم فائر فائٹرز کو دوبارہ آگ بھڑکنے کے خدشے کے پیش نظر الرٹ رکھا گیا۔
فائر سروس کے مطابق دو زخمی فائر فائٹرز کو سپتال منتقل کیا گیا۔

برطانیہ

برطانیہ میں جنگلات میں لگنے والی آگ تیزی سے ویسٹ مڈلینڈز میں پھیل گئی اور کئی مکانات مکمل طور پر جل کر تباہ ہو گئے۔
علاقائی فائر چیف سائمن ٹوہِل نے اسے ایسے اہم ترین واقعات میں سے ایک‘ قرار دیا جس سے اس خطے کی فائر سروس کو اب تک نمٹنا پڑا ہے۔

شیئر: