وزیرِ داخلہ بلوچستان میر ضیا لانگو کے قافلے پر حملہ، چھ اہلکار زخمی
جمعہ 14 اگست 2026 10:52
زین الدین احمد، اردو نیوز، کوئٹہ
ضیاء اللہ لانگو یوم آزادی کی تقریبات میں شرکت کرنے قلات گئے تھے (فوٹو: ویڈیو گریب)
پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے ضلع مستونگ میں وزیرِ داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو کے قافلے کو حملے کا نشانہ بنایا گیا جس میں وزیرِ داخلہ محفوظ رہے تاہم ان کی حفاظت پر مامور چھ اہلکار زخمی ہوگئے۔
پولیس کے مطابق جمعے کی صبح میر ضیاء اللہ لانگو اپنے آبائی ضلع قلات سے کوئٹہ کی جانب جا رہے تھے کہ راستے میں مستونگ کے علاقے کھڈ کوچہ کنڈ عمرانی میں کوئٹہ- کراچی شاہراہ پر گھات لگائے نامعلوم شدت پسندوں نے قافلے پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔
پولیس کے ایک افسر کے مطابق صوبائی وزیر داخلہ ایس پی قلات کی گاڑی میں اے ٹی ایف کی دو سکواڈ گاڑیوں کے ہمراہ جا رہے تھے۔ صوبائی وزیر داخلہ کی گاڑی کو بھی گولیاں لگیں تاہم بلٹ پروف ہونے کی وجہ سے محفوظ رہے.
فائرنگ کے تبادلے میں ان کی سکیورٹی پر مامور زخمی ہونے والوں میں اینٹی ٹیررسٹ فورس کے تین اہلکار نصر اللہ، سمیع اللہ اور زکریا جبکہ قلات پولیس کے تین اہلکار کاشف، شبیر اور رازق شامل ہیں۔ زخمیوں میں ایک کی حالت نازک بتائی جاتی ہے۔
زخمی اہلکاروں کو ابتدائی طبی امداد کے لیے نواب غوث بخش ہسپتال مستونگ منتقل کیا گیا جہاں طبی امداد کے بعد مزید علاج کی غرض سے انہیں کوئٹہ روانہ کر دیا گیا۔
اردو نیوز نے ضیاء اللہ لانگو کے ٹیلی فون پر رابطہ کیا تو ان کے سٹاف نے حملے کی تصدیق کی اور بتایا کہ صوبائی وزیر بحفاظت کوئٹہ پہنچ گئے ہیں۔
ان کے مطابق ضیاء اللہ لانگو یوم آزادی کی تقریبات میں شرکت کرنے قلات گئے تھے۔
پولیس کے مطبق واقعے کی مزید تفتیش جاری ہے اور تاحال کسی گروہ نے حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔
اس علاقے میں کالعدم بی ایل اے سرگرم ہے۔ کھڈ کوچہ میں سکیورٹی فورسز پر پہلے بھی کئی حملے ہوچکے ہیں۔ گزشتہ مہینے فورسز پر حملے کے بعد کھڈکوچہ میں کرفیو نافذ کردیا گیا تھا۔
ادھر تربت کے علاقے فدا چوک پر سکیورٹی فورسز کی گاڑی پر بم حملہ کیا گیا جس کی زد میں آ کر پانچ 5 راہ گیر زخمی ہوگئے تاہم اہلکار محفوظ رہے۔