آبنائے ہُرمز میں اماراتی ٹینکروں پر ایرانی حملہ، سعودی عرب کی مذمت
مملکت نے بار بار کیے جانے والے حملوں کو ایک ’خطرناک اضافہ‘ قرار دیا۔( فوٹو: روئٹر)
سعودی عرب نے آبنائے ہُرمز کے ذریعے گزرنے والے دو اماراتی ٹینکروں کو نشانہ بنائے جانے کی مذمت کی اور بار بار کیے جانے والے حملوں کو ایک ’خطرناک اضافہ‘ قرار دیا۔
ایس پی اے کے مطابق وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا ’یہ میری ٹائم سکیورٹی اور گلوبل انرجی سپلائی کے لیے براہ راست خطرہ اور بین الاقوامی قانون کی سنگین خلاف ورزی ہیں۔‘
مملکت نے ایران کی جارحیت کو بین الاقوامی قوانین اور اصولوں خصوصا متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 2817 کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا ،جو آبی گزر گاہوں کے ذریعے فریڈم آف نیویگیشن اور محفوظ راستے کی ضمانت دیتی ہے اور اس میں رکاوٹ ڈالنے والے کسی بھی اقدام کی مذمت کرتی ہے۔
بیان میں مملکت نے ایران کو اس کی مسلسل جارحیت کے نتائج کا ذمہ دار ٹہرایا، فوری طور پر ان حملوں کو روکنے اور بین الاقوامی قانون کی پاسداری پر زور دیا۔
بیان میں کہا گیا کہ علاقائی سکیورٹی اور میری ٹائم سیفٹی مشترکہ ذمہ داریاں ہیں۔ خبردار کیا کہ ایسی کارروائیاں جاری رکھنا ناقابل قبول ہے۔
سعودی عرب نے متحدہ عرب امارات کے ساتھ مکمل یکجہتی، امارات کی جانب سے اس کی خود مختاری اور اثاثوں کے تحفظ کے لیے اٹھائے گئے تمام اقدامات کی سپورٹ کا اعادہ کیا۔

علاوہ ازیں عرب ملکوں نے بھی امارات کے کمرشل جہازوں پر ایران کے حالیہ حملوں کی مذمت کی اور اسے میرین سیفٹی اور سکیورٹی کے لے خطرہ قرار دیا۔
یاد رہے جمعرات کو آبنائے ہرمز میں ابو ظبی نیشنل آنل کمپنی( اندوک) سے منسلک دو ٹینکروں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
ایران نے آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کر رکھی ہے اور وہ وہاں سے گزرنے والے جہازوں سے فیس وصول کرنا چاہتا ہے۔ آبنائے ہرمز کے مستقبل کے انتظامات کے حوالے سے عمان کے ساتھ بات چیت کر رہا ہے۔
