Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

شادی کیلئے لڑکی کا دیدار، غیر مرئی تلاشی، انکار نہ اقرار

عنبرین فیض احمد ۔ کراچی
آج کل پاکستان میں وٹے سٹے کی شادی کو بھی خواتین کے ساتھ ہونے والی معاشرتی زیادتیوں میں ہی شمار کیا جاتا ہے جس طرح ونی یا پھر عزت کے نام پر قتل ہوجاتا ہے اور کم عمری میں ہی شادی کو قائم رکھا جاتا ہے۔ وٹہ سٹہ جسے ہم بدلے کی شادی بھی کہتے ہیں، اس میں شادی زیادہ تر قریبی رشتے داروں اور ایک ہی ذات برادری میں کی جاتی ہے۔ اس طرح کی شادی میں لڑکی کے بدلے لڑکی دینی پڑتی ہے او ر عجب بات یہ ہے کہ اس زبردستی کے بندھن میں عمر ، تعلیم یا پسند ونا پسند کے معاملات کو قطعی کوئی اہمیت نہیں دی جاتی بلکہ بعض اوقات ایسی شادیوں کو کچھ خاندان کے لوگ اپنے خاندان کے لئے بہت ضروری قرار دیتے ہیں کیونکہ اس طرح ان کے خیال میں دونوں خاندانوں میں محبتیں بڑھتی ہیں اور پھر دونوں ایک دوسرے کے نزدیک آجاتے ہیں۔ یہی نہیں بلکہ دونوں طرف کی دلہنیں سسرالی زیادتوں اوربدسلوکی سے بچی رہتی ہیں۔
عام طور پر یہ دیکھنے میں یہی آتا ہے کہ زبردستی جکڑے ہوئے بندھن کے منفی اثرات مرتب ہوتے ہ یں۔ یہ رواج پاکستان کے علاوہ ہند ، چین ، مغربی افریقہ کے کئی ممالک میں عام طور پر دیکھنے میں آتا ہے لیکن ایک تحقیق کے مطابق پاکستان کے دیہی علاقوں میں ہونے والی 3شادیوں میں سے ایک وٹے سٹے کے تحت کی جاتی ہے۔ ہمارے معاشرے کی ایسی رسمیں جنہیں دیکھ کر یو ں محسوس ہوتا ہے کہ اگر انسانی دلوں کو پتھر سے تراشا جاتا تو بھی ان میںدراڑیں پڑ جاتیںجن کی وجہ سے بے انتہا لوگوں کی زندگیاں برباد ہو چکی ہیںاور ان گنت معصوم لوگوں کی جانیں بھی ضائع ہو گئی ہیں لیکن کیا کیا جائے کہ چاہنے کے باوجود ایسی دقیانوسی ، بے جوڑ اور فرسودہ رسوم ورواج سے ہم اپنی جان نہیں چھڑا سکے اور ان فرسودہ اور لا یعنی رسموں کو جڑ سے ختم نہیں کیا جاسکا۔
مزید پڑھئے:اولاد کی تربیت سے بے اعتنائی، ابتری کا سبب
وٹے سٹے کی شادی کو آسان زبان میں کہنا چاہیں تو یہ دوخاندانوں میں دو دلہنوں کے تبادلے کا نام ہے۔ ہمارے معاشرے میں وٹے سٹے کی شادی یا ونی اور دیگر معاشرتی برائیوں کی شکل میں عورت کی تضحیک کی جاتی ہے جو آج کے جدید دور میں ہمارے لئے لمحہ فکریہ ہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ وٹے سٹے کی شادی ایک کامیاب زندگی کی کنجی نہیں بلکہ ازدواجی بندھن پر لٹکتی ہوئی تلوار ہے۔گو کہ اکثر لوگ ایسی شادیوں کوخاندانی روابط میں مضبوطی کا ذریعہ تصور کرتے ہیں لیکن افسوس کہ مشاہدہ اس کے مطابق نہیں ۔ دیکھنے میں یہی آیا ہے کہ ایسی شادیوں میں جو واقعات جنم لیتے ہیں وہ اس قدر المناک ہوتے ہیں کہ کوئی بھی ذی فہم انسان ایسی شادیوں کو اپنے خاندان کی مضبوطی نہیں بلکہ خاندان کی بربادی ہی کہہ سکتا ہے ۔ اکثر یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ وٹے سٹے کی شادی سے اگر ایک جوڑا خوش ہوتا ہے تو دوسرے جوڑے میں آئے دن ناچاقی رہتی ہے اور بات جب دوسرے گھرانے تک پہنچتی ہے تو وہاں سے بھی معاملہ برابرکرنے کے لئے کہا جاتا ہے او رپھر لڑکی کے ساتھ بدسلوکی کا سلسلہ شروع کر دیا جاتا ہے۔یوں ایک ہنستے بستے گھر کا سکون غارت کردیا جاتا ہے۔
کئی بار ایسابھی دیکھا گیا ہے کہ اگر شوہر مل جل کر اور ہنسی خوشی زندگی بسر کرنا چاہتا ہے لیکن اسے اپنی بہن پر ہونے والے ظلم کی وجہ سے اپنے گھر والوں کے دباﺅپر حساب برابر کرنا پڑتا ہے اور وہ اپنی بیوی پر ایسے ہی مظالم ڈھانے پر مجبور ہوجاتا ہے جیسے اس کی بہن کے سسرال والے اس پر ظلم کرتے ہیں۔وٹے سٹے میں اس طرح کے واقعات سے ایک یا دو نہیں بلکہ 4 زندگیاں متاثر ہوتی ہیں۔ ان کی خوشیوں پر ہمیشہ خوف کے سائے منڈلاتے رہتے ہیں کہ نجانے کب ان سے ان کی خوشیاں چھین لی جائیں او رانہیں بے آسرا کردیا جائے۔ اسی طرح اگر ایک جوڑے میں کسی وجہ سے طلاق کی نوبت آجاتی ہے تو دوسرا بھی زبردستی طلاق کرا دیتا ہے ۔ زیادتی کے بدلے زیادتی کا فلسفہ عورتوں کے لئے تحفظ فراہم کرتا ہے تو اگر یہی فلسفہ کو الٹ دیا جائے تو عورتوں پر تشدد کو بڑھاوا دینے کا سبب بھی بن جاتا ہے کیونکہ دونوں طرف سے عورتیں ہی تکلیف اٹھاتی ہیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق جن معاشروں میں عورت اور مرد کے رشتے استحصال پر مبنی ہوتے ہیں وہاں وٹے سٹے کے فائدے زیادہ اور نقصان کم دکھائی دیتے ہیں۔ 
بعض اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ اگر کسی دوسرے خاندان یا گھرانے میں شادی کا سوچا جائے تو فوراً وٹے سٹے کا فیصلہ کیا جاتا ہے جس کا بنیادی مقصد یہ ہوتا ہے کہ دوسرے خاندان والے ان کی بیٹی کو کوئی دکھ یا تکلیف نہ پہنچاسکیں۔ اگر کوئی تکلیف پہنچے گی تو ان کی بیٹی کو بھی بدلے میںاتنی ہی تکلیف پہنچائی جائے گی۔ کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ اس قسم کی شادیوں کا ایک فائدہ یہ ہوتاہے کہ ان کی بیٹی کو تحفظ مل جاتا ہے او رپھر شادی چلتی رہتی ہے۔
عمومی طور پر وٹے سٹے کی شادیوں میں ذہنی ہم آہنگی کا فقدان ہوتا ہے ۔ یہ صورتحال صرف دلہن کے لئے ہی شدید ذہنی اذیت کا باعث نہیں ہوتی بلکہ دولہا کے لئے بھی اذیت ناک ہوتی ہے۔ معاشرے کی اس روش کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے جس میں لڑکی کو جائدادتصور کیاجاتا ہے کیونکہ اس کی مرضی معلوم کئے بغیر ہی والدین جیسے چاہتے ہیںز اس کا ہاتھ تھما دیتے ہیں اور اس کی زندگی کو مجبوریوں میں جکڑ دیتے ہیں ۔ویسے بھی وٹے سٹے کی شادی اس لئے کرائی جاتی ہے تا کہ ان کی بیٹی خوشحال زندگی بسر کر سکے لیکن حقیقتاً وہ خوشحال زندگی تو کیا ایک اذیت ناک زندگی بسر کرتی ہے۔ اس لئے اگر ہم اس کو اخلاقی نقطہ نظر سے دیکھیں تو ہمیں اندازہ ہو گا کہ اس طرح کی شادیوں کا کوئی اخلاقی جواز نہیں۔
 

شیئر: