Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

برطانوی صارفین کو ڈیپ فیک فراڈ سے اربوں کا نقصان، ’صعنت کے طور پر متحرک ہے‘

رپورٹ کے مطابق جعل ساز عام دستیاب اے آئی ٹولز استعمال کر کے زیادہ مؤثر طریقے سے فراڈ کر رہے ہیں۔ (فائل فوٹو: روئٹرز)
مصنوعی ذہانت کے ماہرین کی جانب سے شائع کی گئی ایک نئی تجزیاتی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ڈیپ فیک فراڈ اب ایک ’صنعت‘ کی شکل اختیار کر چکا ہے۔
برطانوی اخبار دی گارڈین کے مطابق اے آئی انسیڈینٹ ڈیٹابیس کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مخصوص اور حتیٰ کہ ذاتی نوعیت کے سکیمز تیار کرنے والے ٹولز، جیسے سویڈن کے صحافیوں یا قبرص کے صدر کی ڈیپ فیک ویڈیوز، اب خاص چیز نہیں رہے بلکہ سستے اور بڑے پیمانے پر آسانی سے استعمال کے قابل ہو چکے ہیں۔
رپورٹ میں ’منافع کے لیے جعل سازی‘ کی ایک درجن سے زائد حالیہ مثالیں درج کی گئی ہیں۔ ان میں مغربی آسٹریلیا کے پریمیئر رابرٹ کک کی ایک ڈیپ فیک ویڈیو شامل ہے، جس میں وہ ایک سرمایہ کاری سکیم کی تشہیر کرتے دکھائی دیتے ہیں، اسی طرح جعلی ڈاکٹروں کی ویڈیوز بھی شامل ہیں جو جلد کی کریموں کی تشہیر کر رہی ہیں۔
تجزیاتی رپورٹ کے مطابق یہ تمام مثالیں ایک وسیع رجحان کا حصہ ہیں، جس میں جعل ساز عام دستیاب اے آئی ٹولز استعمال کر کے زیادہ مؤثر طریقے سے فراڈ کر رہے ہیں۔ گذشتہ برس سنگاپور میں ایک کثیرالقومی کمپنی کے مالی افسر نے تقریباً پانچ لاکھ ڈالر ایسے جعل سازوں کو ادا کر دیے، جن کے بارے میں وہ سمجھتا تھا کہ وہ کمپنی کی قیادت کے ساتھ ویڈیو کال پر بات کر رہا ہے۔ برطانیہ میں صارفین کو نومبر 2025 تک اندازاً 9.4 ارب پاؤنڈ کا نقصان فراڈ کے باعث ہوا۔
ایم آئی ٹی کے محقق سائمن مائیلس، جو اے آئی انسیڈینٹ ڈیٹابیس سے منسلک ایک منصوبے پر کام کر رہے ہیں، کا کہنا ہے کہ ’صلاحیتیں اچانک اس سطح تک پہنچ گئی ہیں کہ جعلی مواد تقریباً کوئی بھی تیار کر سکتا ہے۔‘
ان کے مطابق گذشتہ 12 مہینوں میں سے 11 مہینوں کے دوران ڈیٹا بیس میں رپورٹ ہونے والے واقعات میں سب سے بڑا حصہ ’فراڈ، سکیمز اور ہدفی ہیرا پھیری‘ کا رہا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’یہ اس حد تک قابلِ رسائی ہو چکا ہے کہ عملی طور پر اس میں داخلے کی کوئی رکاوٹ باقی نہیں رہی۔‘

 

شیئر: