جھیل سیف الملوک کو دیکھتے ہی مجھے اس کے نام کی کہانی یا د آگئی

ا س کا پانی پہاڑوں سے نہیں جھیل کی تہہ سے نکلتا ہے،شنگران اور سری پائے کی چوٹی تقریباً13 ہزارفٹ کی بلندی پر ہے، سورۃ غاشیہ یاد آگئی، راستے انتہائی پرخطر اور دشوار گزار تھے، جنگلات میں شیر بھی نظرآئے
(بیرون ملک مقیم پاکستانی وہندوستانی جب برسوں بعد اپنے وطن کی سیر کرتے ہیں تووہ شکر،محبت اور وطن پر فخر سے سرشارہوتے ہیں،اپنے ملک سے دور سعودی عرب کے شہرریاض میں کئی برس گزارنے والے خالد مسعو د نے اپنے خاندان کے ساتھ کراچی سے شمالی علاقہ جات گھومنے کا فیصلہ کیا ،وہ خاص طور پر اسی مقصدکے ساتھ پاکستان گئے ۔خالدمسعود نے پاکستان کے خوبصورت مناظر قلم بند کرلیے اور ہمیں ایک نیا سلسلہ شروع کرنے کااحسا س دلایا۔آپ بھی اگر اپنے وطن کی سیر کے بار ے میں کچھ لکھنا چاہتے ہیں ہمیں ضرور بھیجیں ۔ہم سے رابطہ کیلئے واٹس ایپ یا کال کریں00923212699629یا [email protected]
خالد مسعود  ۔  کراچی
دوسرا حصہ
ڈرائیور نے جیپ پارک کی اور ہم پیدل ہی جھیل کی طرف چل پڑے جو تھوڑی دور اترائی پر تھی۔ جھیل واقعی بہت خوبصورت اور حسین لگی۔ جھیل کے چاروں طرف پہاڑ تھے جسکے ایک طرف برفیلے پہاڑ بھی تھے۔ ان کے درمیان جھیل کے ٹھہرے ہوئے پانی میں ان پہاڑوں کا عکس صاف نظر آرہا تھا۔ تھوڑی دیر کیلئے میں دنیا و مافیہا سے بے خبر اس رومانی منظر میں کھو گیا۔ 
آج جھیل سیف الملوک میری آنکھوں کے سامنے تھا جسکی کہانیاں میں نے بچپن میں پڑھ رکھی تھیں۔ مجھے یہ کہانی یاد آئی کہ سیف الملوک مصر کا شہزادہ تھا اور ملکہ پربت جو پریوں کی شہزادی تھی اسی پربت پہاڑ پر رہا کرتی تھی۔ ایک دن خواب میں سیف الملوک نے پربت کی شہزادی کو دیکھا اور اس کے حسن کا دیوانہ ہوگیا۔ صبح ہوتے ہی شہزادے نے محل میں سارے نجومیوں کو طلب کیا اور اپنا خواب سنا کر پوچھا کہ میں اس پری کو کیسے حاصل کرسکتا ہوں اور اس تک کیسے پہنچا جاسکتا ہے۔ جوتشی نے حساب لگا کر بتایا کہ پریوں کی شہزادی پربت پہاڑ پر رہتی ہے اس تک پہنچنے کیلئے شہزادے کو سلیمانی ٹوپی دی گئی جسے پہن کو وہ شہزادی تک پہنچ گیا۔ شہزادی بھی اسے پسند کرنے لگی۔ پہاڑ کے دوسری طرف جو برف سے ڈھکا ہوا ہے اس پر جنات رہتے تھے ان کا سردار ’’دیو جن‘‘ کہلاتا تھا وہ بھی شہزادی سے بیحد محبت کرتا تھا۔ جب دیو نے شہزادی کے درمیان سیف الملوک کو دیکھا تو انکا جانی دشمن ہوگیا۔ محبت کی اس کشمکش میں شہزادی اور سیف الملوک نے جھیل میں چھلانگ لگا کر اپنی محبت کو امر کردیا۔ اس طرح اسکا نام جھیل سیف الملوک پڑ گیا۔ 
جھیل سیف الملوک کی کہانی کی کتاب یہاں فروخت ہوتی ہوئی بھی نظر آئیں۔ اس جھیل کی خاص بات یہ ہے کہ اسکا پانی پہاڑوں سے نہیں آتا بلکہ جھیل کی تہہ سے نکلتا رہتا ہے۔ جھیل کی پانی کی مقدار ہمیشہ ایک رہتی ہے۔ کہتے ہیں کہ اس جھیل کی گہرائی کا آج تک کوئی پتہ نہیں لگا سکا اور جس نے بھی پتہ لگانے کی کوشش کی وہ جھیل کی تہہ سے واپس نہیں آسکا۔ ہم جتنی دیر رہے ہمیں وقت کا احساس ہی نہیں ہوا۔ جب واجد نے ہمیں آواز دی کہ اندھیرا ہونے سے پہلے ہمیں واپس جانا ہے پھر ہم لوگ جیپ میں سوار ہوئے مغرب کے وقت تک واپس ناران پہنچے۔ رات کو ہم نے ناران ہوٹل میں قیام کیا۔ دوسری صبح ہم شنگران ، سری پائے کیلئے روانہ ہوگئے۔ ہم شنگران 12بجے پہنچے۔ شنگران اور سری پائے کی چوٹی تقریباً13 ہزار کی بلندی پر ہے جس کے لئے ہمیں جیپ پھر کرائے پر لینی پڑی۔ یہاں کے راستے بھی بہت پر خطر اور دشوار گزار تھے۔ ایک طرف گہری کھائی دوسری طرف جنگلوں میں گھرا پہاڑ راستے کے قریب شیر بھی بیٹھے نظر آئے۔ تو کہیں گہری کھائی کو دیکھتے ہوئے کلیجہ منہ کو آتا تھا اور بے اختیار سب کلمہ طیبہ کا ورد شروع کردیتے۔ جب چوٹی پر پہنچے تو کیا منظر تھا۔ سبحان اللہ وبحمدہ سبحان اللہ العظیم۔ بادل زمین پر آگئے تھے تاحد نگاہ پوری کائنات کتنی حسین نظر آرہی تھی۔ میرا رب جو وحدہ لاشریک ہے یہ اسی کا کارنامہ ہے۔ اس بلندی پر کائنات کو دیکھتے ہوئے اپنے رب پر ایمان اور یقین مزید بڑھ جاتا ہے۔ ایمان کو تازگی ملتی ہے، پھرمجھے  میرے رب کا وہ فرمان یاد آیاجو سورۃالغاشیہ،آیت18تا20میں ہے:
والی السمائِ کیف رفعت’’تم دیکھتے نہیں آسمان کو کیسے بلند کیا‘‘ ،والی الجبال کیف نصبت  ’’اور دیکھتے نہیں پہاڑ کو کیسے جمایا‘‘،والی الارض کیف سطحت ’’اور زمین کو کیسے بچھایا ۔‘‘
  پہلے شاید ان آیت کو پڑھ کر یونہی گزر جاتے تھے۔ آج جب 13ہزار فٹ کی بلندی پر کائنات کا مشاہدہ کیا تو ایسا لگا کہ میرا رب ابھی مجھ سے یہ کہہ رہا ہے ۔
میرے بچے بھی یہ کہے بغیر نہ رہ سکے کہ’’ اس خوبصورت کائنات کو دیکھ کر لوگ پھر بھی ایمان نہیں لاتے۔‘‘
سری پائے سے واپسی پر ہم شگران رکے جو اسی راستے پر تھا۔ دور تک سرسبز و شاداب ریسٹ ہائوس سری پائے سے واپسی کی ایک خوبصورت عمارت تھی تاہم نریندر مودی کے جنگی جنون کی وجہ سے ہمارے فوجیوں کی نقل و حرکت شروع ہوچکی تھی اسلئے ریسٹ ہاؤس میں ابھی فوجیوں کا قیام تھا۔ بچوں نے یہاں فوٹو گرافی کی پھر ہم واپس ہوئے۔
سہ پہرکے 3بچ چکے تھے ہم سب کو شدید بھوک لگی تھی۔ واجد نے کہا کہ اب ہم یہاں سے بالاکوٹ چلیں گے کیونکہ رات ہوجائیگی اسلئے بالا کوٹ میں ہمارا قیام ہوگا۔ راستے میں کاغان آئیگا وہاں آبشار کے ساتھ ہی ریستوران ہیں،لنچ کرینگے۔ ہم تھوڑی دیر میں کاغان پہنچ گئے۔ واجد نے گاڑی آبشار ریستوران پر روک دی۔ پہاڑوں سے پانی بہتا ہوا نیچے آرہا تھا اسی کے دامن میں بہتے ہوئے پانی پر پلنگ  رکھے ہوئے تھے جس پر بیٹھے لوگ کھانے میں مصروف تھے۔ ہم لوگ بھی 2 خالی پلنگ پر بیٹھ گئے۔ پلنگ کے نیچے پانی کو ہاتھ لگایا جو بہت یخ تھا۔ واجد نے بتایا کہ یہاں ٹرائوٹ فش ملتی ہے۔ ٹرائوٹ فش پہاڑی آبشاروں میں بہتی ہوئی آتی ہے ۔ اب تو اسکی فارمنگ بھی ہونے لگی ہے اسی لئے جگہ جگہ ٹرائوٹ فش کے اسٹال نظر آئے جو آج سے 30سال  پہلے ناپید تھے۔ واجد نے ہمیں بتایا کہ اگر آپ دیسی یعنی آبشار سے آئی ہوئی ٹرائوٹ  لینگے تو 3500روپے کلو اور اگر فارم کی لینگے تو 2500روپے کلو ملے گی۔ واجد نے ہمیں مشورہ دیا کہ فارم والی ہی لیں کیونکہ یہاں فارم کی دیسی بتاکر دیدیتے ہیں۔ آپ تمیز کس طرح کریں گے؟ ہمیں واجد کا مشورہ پسند آیا ۔ ہم نے ٹرائوٹ فش اور آلو کی بھجیا بہتے آبشار کے نیچے بیٹھ کر کھائی بہت لطف آیا۔ ہماری اگلی منزل اب بالا کوٹ تھی جہاں ہم رات کے وقت پہنچے ہم نے یہاں رات ہوٹل میں قیام کیا اگلی صبح ہمیں مری پٹیارٹہ اور نیلم پوائنٹ جانا تھا۔
٭٭٭٭٭٭٭٭

شیئر: