’نیک شگون‘: چین میں شادیوں کے بڑھتے رجحان پر عروسی ملبوسات کے کاروبار میں اضافہ
’نیک شگون‘: چین میں شادیوں کے بڑھتے رجحان پر عروسی ملبوسات کے کاروبار میں اضافہ
منگل 20 جنوری 2026 8:35
2025 کے دوران شادی کی شرح میں آٹھ فیصد سے زیادہ اضافہ ہوا (فوٹو: روئٹرز)
چین کے شہر سوزہو میں عروسی ملبوسات کی سب سے بڑی مارکیٹ ہوچوچی برائیڈل سٹی میں کام کرنے والوں کو امید ہے کہ اس برس بھی لوگوں کی جانب سے شادی میں دلچسپی برقرار رہے گی۔
برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق چین میں 2025 کے پہلے 9 مہینوں کے دوران شادی کی تقاریب میں اضافہ دیکھا گیا جس کو چین کی منجمد آبادی کے تناظر میں نیک شگون سمجھا جا رہا ہے۔
پیر کو چینی حکومت کی جانب سے جاری کیے گئے اعداد و شمار سے یہ چلتا ہے کہ ملک میں شرح پیدائش پچھلے برس کے دوران کم ترین سطح پر گئی اور اس کی کُل آبادی میں مسلسل چوتھے برس بھی کمی آئی۔
وزارت سول افیئرز کے ڈیٹا کے مطابق پچھلے سال کے پہلے 9 ماہ کے دوران شادیوں کی شرح میں ساڑھے آٹھ فیصد اضافہ ہوا، جس کی وجہ پالیسی میں تبدیلی اور سازگار ثقافتی امور کی حوصلہ افزائی بتائی گئی تھی۔
اس پیش رفت سے ملک کے اندر اس بات کا امکان بڑھتا نظر آ رہا ہے کہ 2025 میں ہونے والی شادیاں رشتہ ازدواج میں نہ بندھنے کے رجحان میں کمی لائے گا جس کا سلسلہ ایک دہائی سے زائد عرصے سے مسلسل چلا آ رہا ہے۔
شادی کے ملبوسات فروخت کرنے والے سٹور
لوئی برائیڈل جہاں عروسی جوڑوں کی قیمت ایک ہزار سے لے کر چار ہزار یوآن تک ہے، کے شریک مالک چین جوآن کا کہنا ہے کہ 2024 کے دوران شادی کی شرح میں بہت کمی آئی تھی اور اس کو شادی کے بندھن میں بندھنے کے حوالے سے ایک نامناسب سال قرار دیا جا رہا ہے اور 2025 میں تاخیر سے نیا سفر شروع کیا۔
ہوچوچی برائیڈل سٹی میں 800 سے زیادہ دکانیں ہیں جو ریشمی، سفید اور دوسرے رنگوں کے ملبوسات سے بھری ہوئی ہیں۔
عروسی ملبوسات بنانے والے کاریگر شادی کی تقریبات پر خوش ہیں (فوٹو: روئٹرز)
چین جوآن اور دوسرے دکانداروں کا کہنا ہے کہ مئی 2025 میں پالیسی میں تبدیلی کی گئی اور شہریوں کو اپنے رہائش کے مقامات کے علاوہ کہیں بھی شادی کی اجازت دی گئی، جس سے صورت حال میں بہتری آئی۔
اس کے بعد مقامی حکومت نے جوڑوں اور شادی میں شرکت کرنے والوں کی توجہ حاصل کرنے کے کئی اقدامات کیے، جن میں قدرتی مقامات پر تقاریب کے انتظامات کے علاوہ موسیقی کا اہتمام بھی کیا گیا اور یہاں تک کہ سب وے سٹیشنز، شاپنگ مالز اور پارکوں میں رجسٹریشن کے دفاتر بنائے گئے۔
چین کو توقع ہے کہ اس سال بھی یہ سلسلہ برقرار رہے گا اور حکومت کی جانب سے مزید مراعات دیے جانے پر زور دیا۔
ان کے مطابق ’اگر حکومت کچھ مزید ترغیبی پالیسیاں متعارف کرائے تو یہ بہت اچھا قدم ہو گا کیونکہ شادی سے متعلق نوجوانوں کے رویے بدل چکے ہیں۔‘
چینی حکومت کی جانب سے شادی سے متعلق پالیسی میں نرمی کی گئی ہے (فوٹو: روئٹرز)
چینی نوجوانوں کی شادی اور خاندان میں کم ہوتی دلچسپی کی بڑی وجوہات بچوں کی دیکھ بھال اور تعلیم و تربیت کے مہنگے اخراجات کو قرار دیا جاتا ہے۔
کچھ شہروں اور علاقوں میں نوبیاہتا جوڑوں کو نقد رقوم دینے کا سلسلہ بھی متعارف کروایا ہے تاکہ شہریوں کو رشتہ ازدواج میں بندھنے کی طرف لایا جا سکے۔
اسی مارکیٹ میں گاؤنز فروخت کرنے والے 31 سالہ زو جیاؤمی کا کہنا ہے کہ لوگوں کی رضامندی سے زیادہ اہم کردار مجموعی معیشت کا ہے اور تبھی شادی کے ملبوسات پر خرچ کرتے ہیں جب وہ خرچ کر سکیں۔‘
ان کے مطابق ’سب سے اہم بات یہ ہے کہ معیشت میں بہتری آئی ہے، اب ملازمتیں مستحکم ہیں اور لوگ ازدواجی زندگی کے لیے تیار ہو رہے ہیں۔‘